سانحہ APS کے بعد طالبان سے مذاکرات کی چول کیوں ماری گئی؟

16 دسمبر 2014 کے المناک سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد پارلیمنٹ نے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا اس کا بنیادی مقصد تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا، لیکن افسوس کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے نتیجے میں طالبان کی کمر توڑنے کے بعد عمران خان کے دور حکومت میں ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی زیر نگرانی دہشتگردوں کو ختم کرنے کی پالیسی کو ریورس کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی چول مار دی گئی۔ اس یوٹرن نے تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو نئی زندگی عطا کی جسکا خمیازہ آج سکیورٹی فورسز سب سے زیادہ خود بھگت رہی ہیں۔

16 دسمبر 2014 کے اے پی ایس سانحے کے بعد جنوری 2015 میں تشکیل پانے والے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کی اپنی رپورٹ کے مطابق پہلے چار سال میں 20 نکات میں سے چھ پر بالکل عمل درآمد نہیں ہوا۔ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنا کر 135 سے زائد افراد خصوصا ًبچوں کی جانیں لیں تو سیاسی طور پر تقسیم تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے تحت ہنگامی بنیادوں پر 20 نکات پر مشتمل ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا جسے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر تسلیم کیا اور اس پر عمل درآمد کا آغاز ہوا۔ اس کے نتیجے میں جہاں ملک میں دہشت گردی کی لہر پر قابو پایا گیا وہیں بعض شعبہ جات میں اصلاحات بھی عمل میں لائی گئیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی سربراہی قومی سطح پر وزیراعظم جبکہ صوبائی سطح پر وزرائے اعلیٰ کرتے تھے۔

لیکن پھر عمران خان کے دور حکومت میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان کو ریورس کر دیا گیا۔ لیکن نتیجہ وہی نکلا جو ماضی میں بھی نکلا کرتا تھا یعنی مذاکرات کی آڑ میں طالبان نے خود کو منظم کیا اور دہشت گرد حملوں میں تیزی لے آئے۔ بعد ازاں ٹی ٹی پی نے فوج کے ساتھ کیا گیا فائر بندی کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے ملک بھر میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ ایسے میں  سوال یہ ہے کہ اب نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے اور اس پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جا رہا؟

اس حوالے سے سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے جن 20 نکات پر قومی سطح پر اتفاق رائے ہوااب وہ نیشنل ایکشن پلان اپنا وجود کھو چکا ہے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ 2020-21 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 14 نکات تک محدود کر دیا تھا۔‘ ان کے مطابق 2015 میں بننے والا نیشنل ایکشن پلان اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تھا جبکہ 2021 میں کی گئی نظرثانی کی وجہ سے توجہ بیرونی خطرات کی طرف چلی گئی۔ اس وجہ سے سارا فوکس ہی تبدیل ہو گیا لیکن اگر اس پر بھی عمل درآمد ہو جاتا تو دہشت گردی کی موجودہ لہر کو روکا جا سکتا تھا۔ عامر رانا نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی سے نمٹنے کے ذمہ دار نیکٹا کو مضبوط، فعال اور خود مختار بنانا تھا تاکہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے ساتھ رابطے رکھے اور پالیسی سطح پر گائیڈ لائنز فراہم کر سکے۔ لیکن نیکٹا ہر مرتبہ ایک نیا ادارہ بنانے کی تجویز دے دیتا ہے جس وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔

نیکٹا پالیسی ساز ادارہ ہے لیکن یہ ریسرچ ڈیٹا کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ جو کام پانچ دس بندے کر سکتے تھے اسکے لیے سیکریٹریٹ بنائے جا رہے ہیں اور وسائل کا ضیاع کیا جا رہا ہے لیکن عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ انھوں نے بتایا کہ تحریک طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں بارے نیکٹا نے ایک پالیسی بریف دیا جس میں طالبان کی واپسی کے بارے میں بتایا گیا لیکن نیکٹا نے طالبان سے نمٹنے یا ان کی ممکنہ کارروائیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر جو اپیکس کمیٹیاں بنائی گئی تھیں وہ ابتدا میں بہت متحرک تھیں لیکن پھر جنرل فیض حمید کے دور میں پالیسی پر نظرثانی کے بعد ان کا وجود بھی ختم ہوچکا ہے۔ اسکے علاوہ نیشنل ایکشن پلان پر بڑی حد تک عمل درآمد کرنا ہی صوبوں نے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کہیں پر نیشنل ایکشن پلان کا وجود نظر نہیں آتا۔

عسکری امور کے ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی گئیں۔ ضرب عضب اور ردالفساد جیسے بڑے بڑے آپریشنز کیے گئے جس کی وجہ سے دہشت گردی کی وارداتوں اور دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ہوا لیکن اس کے پس منظر میں جو کام کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا ان پر کام نہیں ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن چند نکات پر عمل درآمد ہوا اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں لیکن جن پر عمل نہیں ہوا اسکا نقصان بھی پورا ملک بھگت رہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی ہینڈلنگ تو ٹھیک ہوئی لیکن لوگوں کے ذہنوں میں تبدیلی لانے کے لیے مدارس میں اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اختلافات کے باعث نہیں ہو سکا۔ اسی طرح دہشت گردوں کو عدالتوں سے جو ریلیف مل جاتا تھا اس کے لیے عدالتی اصلاحات لائی جانی تھیں وہ بھی نہیں لائی جا سکیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کے علاوہ ملک کی کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی لیکن پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 67 ملزمان کی سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔ نیشنل ایکشن پلان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں کسی بھی دہشت گرد گروہ کو پنپنے نہیں دیا جائے گا لیکن افغانستان کی موجودہ حکومت کے تعاون سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور انھیں ایک بار پھر اپنے پاؤں جمانے کا موقع دیا گیا۔ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک نے افغان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اس حکومت کے ساتھ سفارتکاری کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کے تعاون سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق جب قومی سطح پر اتفاق رائے سے بننے والے ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر عسکری ادارے دہشت گردی کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں جو ایک وقتی کارروائی ہوتی ہے لیکن اس عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

Back to top button