سروسز انٹرنیشل ہوٹل اونے پونے داموں کیوں بیچا گیا؟

کپتان حکومت کی جانب سے لاہور کے قیمتی ترین علاقے مال رود پر واقع 15 کنال رقبے پر محیط سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی نجکاری پالیسی کے تحت اونے پونے داموں فروخت نے اس سودے کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
نجکاری کمیشن نے اپر مال لاہور ر واقع 15کنال رقبے پر محیط سروسز انٹرنیشنل ہوٹل ایک ارب 95 کروڑ 10 لاکھ روپے میں نیلام کردیا ہے۔ بولی کی کم سے کم قیمت ایک ارب 94 کروڑ 90 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی چنانچہ صرف چند لاکھ روپوں کے فرق سے نیلامی منظور کیے جانے کے باعث ناقدین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس ہوٹل کی فروخت کے تمام معاملات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ اس سودے کی شفافیت ثابت ہو سکے۔
یاد رہے کہ 15 کنال کے رقبے پر پھیلی ہوئی یہ جائیداد مال روڈ پر واقع ہے اور اسے لاہور کی اہم ترین شاہراہیں لگتی ہیں، ہوٹل کی حتمی بولی اور بنیادی قیمت کے درمیان بہت کم فرق کی وجہ سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس ڈیل میں کچھ کچھ نہ کچھ دو نمبری ضرور ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ جائیداد لاہور ڈیولپمینٹ اتھارٹی کی جانب سے کمرشل درجے پر منظور شدہ ہے جہاں ہر طرح کی تعمیرات کی جاسکتی ہیں لہذا پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ہوٹل کی قیمت کم از کم بھی 5 سے 6 ارب روپے تو ہونی چاہیے تھی۔
مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سروسز انٹرنیشنل ہوٹل اتنے سستے داموں کیوں بیچا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جواب دو، رسیدیں نکالو۔ سینئر صحافی افتخار احمد نے بھی اپنے ٹویٹ میں یہ مطاکبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کو لاہور کے سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی فروخت کے بارے میں شفافیت ثابت کرنے کے لیے تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیئے، انیوں نے سوال۔کیا کہ نیلامی میں رکھی گئی فکسڈ پرائس کی بنیاد کیا تھی۔ انہون نے پوچھا کہ کیا یہ پندرہ کنال قیمتی اراضی بہت کم داموں پر فروخت نہیں کی گئی؟
دوسری جانب سروسز ہوٹل کی فروخت بارے سرکاری اعلان میں کہا گیا کہ نیلامی کے عمل میں صرف دو بولی دہندگان نے حصہ لیا اور لاہور کے معروف ریئل اسٹیٹ ڈیولپر فیصل ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کامیاب رہے۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو، جن کی زیر نگرانی نیلامی کا عمل ہوا، انہوں نے نیلامی کو نجکاری کمیشن کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت، سرکاری املاک کی نیلامی میں میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ لطیفہ بھی سنایا کہ سروسز ہوٹل کی نیلامی میں بنیادی قیمت سے زیادہ کی بولی لگی، اور نیلامی کا برا مقصد ملک پر سے ناقابل وصول رقم کا بوجھ کم کرنا ہے۔
نجکاری کمیشن کا دعوی یے کہ ہوٹل کی بنیادی قیمت مارکیٹ ایویلیوایشن کے بعد طے کی گئی اور اس لیے کم رکھی گئی کیونکہ سروسز انٹرنیشل ہوٹل غیر فعال تھا۔ نجکاری کمیشن کے مطابق سروسزہوٹل لاہورکی نظرثانی شدہ ریزرو پرائس میں 30 کروڑ روپے کی کمی کی گئی تھی۔ اس سے پہلے جون 2021 میں سروسز ہوٹل لاہورکی نظر ثانی شدہ قیمت ایک ارب 94 کروڑ روپے مقرر کی گئی جبکہ اس سے قبل قیمت 2 ارب 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔
قانون کے مطابق کامیابی بولی لگانے والے شخص کو 30 فیصد رقم کی ادائیگی بولی قبول کا لیٹر جاری ہونے کے 20 روز کے اندر ادا کرنی ہوگی، باقی 70 فیصد قیمت لیٹر جاری ہونے کے 60 روز کے اندر ادا کرنا پڑے گا۔ وزیر نجکاری سومرو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ملک میں سرکاری املاک کی نیلامی کا عمل شفافیت سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خسارے میں چلنے والے تمام سرکاری محکموں کی نجکاری کا منصوبہ بنایا ہے، اس منصوبے کے تحت پاکستان اسٹیل ملز، مری پیٹرولیم، جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد، ایس ایم ای بینک، فرسٹ ویمن بینک، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، گڈو پاور پلانٹ، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس اور دیگر پاور پلانٹس کی نجکاری کی جائے گی۔ تاہم ناقدین سروسز ہوٹل کی اونے پونے داموں فروخت پر تنقید کر رہے ہیں اور اس ڈیل کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
