کیا انڈیا طالبان حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں؟

افغانستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات یہ واضح کر رہے ہیں کہ طالبان ایک طویل عرصے کے لیے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی کے حوالے سے وسط اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں اور خاص طور پر انڈیا کے لیے یہ صورتحال بڑے چیلنجز سے بھرپور نظر آتی ہے۔ انڈیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ طالبان کی حکمرانی کو باقاعدہ اور سرکاری سطح پر تسلیم کرے یا نہیں؟ اس حوالے سے رائے منقسم ہے۔
عالمی امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا کو فی الوقت کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ طالبان کے نظریے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے، وہ پہلے بھی جمہوریت کے نفاذ کے خلاف تھے اور اب بھی جمہوریت کے خلاف ہیں۔ طالبان چاہتے ہیں کہ ملک اسلامی شریعت کے مطابق چلے۔ ایسے میں مولوی صاحبان ہی فیصلہ کریں گے کہ اس کے تحت لوگوں کے حقوق کیا ہوں گے، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے۔ جس طرح امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج افغانستان سے اچانک واپس چلی گئیں ہیں اور جس طرح ملک میں افراتفری پھیل گئی ہے اس سے بہت سے ممالک کو دھچکا پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں اس تمام تر پیش رفت کے بیچ ایک نئی قطبی طاقت کا عروج بھی دیکھا جا سکتا ہے جس میں چین، روس اور پاکستان شامل ہیں۔ چونکہ امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اس لیے وہ بھی بظاہر طالبان کو تسلیم کرنے کے حق میں نظر آ رہا ہے۔ یہ بات بھی انڈیا کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتی ہے۔ انڈیا کی قومی سلامتی کے سابق نائب مشیر اروند گپتا نے کہا ہے کہ انڈیا کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے جب تک کہ حالات واضح نہ ہو جائیں۔ ان کے مطابق انڈیا کو طالبان سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ گپتا کا کہنا ہے کہ ’طالبان کے اصل چہرے سے سب واقف ہیں۔ طالبان ابھی تک ایک ’اعلان کردہ شدت پسند گروپ‘ ہے۔ انتہا پسندی اور بنیاد پرستی چیلنجز رہیں گے کیونکہ یہ سوچ ختم نہیں ہونے والی۔ طالبان کے اقتدار میں آنے سے جہادی سوچ کو مزید تقویت ملے گی، جس کے نتائج پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔‘
یاد رہے کہ کابل میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان نے کئی اعلانات کیے ہیں اور اپنا اعتدال پسند چہرہ دکھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان جنگجوؤں کے مظالم کے واقعات کی رپورٹس بھی موصول ہو رہی ہیں۔ طالبان جنگجو گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں اور سابقہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والے عہدیداروں اور سیاستدانوں کو بھی تلاش کر رہے ہیں اور
جنھوں نے ماضی میں طالبان سے مقابلہ کیا تھا وہ اب براہ راست ان کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ وہ انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔
بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’ایسی صورتحال میں طالبان پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ جس طرح ان کے جنگجو لوگوں کو ايئرپورٹ تک بھی جانے نہیں دے رہے ہیں اور دہشت پھیلا رہے ہیں، وہ حکومت کیسے چلائیں گے؟‘ان کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے ساتھ انڈیا کے تعلقات کے تناظر میں اگر افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھا جائے تو یہ بہت تشویشناک ہے۔
اس نئے قطبی غول میں ایران اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انڈیا کی تشویش میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’طالبان دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چین اور پاکستان انڈیا کے خلاف اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا نے کبھی بھی طالبان کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی جب ان کی حکومت تھی تو انڈیا نے سفارتی زبان میں جسے ’انگیج‘ کرنا یعنی بات چيت کرنا کہتے ہیں، وہ بھی نہیں کیا۔ صرف ایک بار جب انڈین ایئرلائن کے ایک طیارے کو شدت پسند اغوا کر کے قندھار لے گئے تھے تو پہلی اور آخری بار انڈیا نے طالبان کمانڈروں کے ساتھ باضابطہ بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد سے انڈیا نے ہمیشہ خود کو طالبان سے دور رکھا۔
امریکی افواج کے انخلا کے عمل سے پہلے بھی جب دوحہ میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات ہوئے تو بھی انڈیا نے ان کے ساتھ ’انگیج‘ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انڈیا نے طالبان کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد جموں و کشمیر کے راستے انڈیا میں شدت پسندوں کی دراندازی کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
انک کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ پاکستان کا ہونا انڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔
سٹریٹجک حلقوں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ کیا انڈیا کو جلد افغانستان میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا چاہیے یا نہیں۔ سٹریٹجک تجزیہ کار سنجیدگی کے ساتھ طالبان کی طرف سے دیے جانے والے اشاروں کو دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کو برقع کی بجائے حجاب میں کام کرنے کی اجازت دینا، افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی بات کہنا، سکھوں اور ہندوؤں کو گوردواروں میں سکیورٹی کی یقین دہانی کروانا، انڈیا پر زور دینا کہ وہ افغانستان میں شروع کیے گئے منصوبے مکمل کرے اور شیعہ برادری کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کے اعلان کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
جہاں تک افغانستان میں شرعی قانون کے نفاذ کا تعلق ہے تو بھارتی تجزیہ کار ابھیجیت مترا کا کہنا ہے کہ کابل اور کچھ صوبائی شہروں کے علاوہ افغانستان میں کوئی قانون سختی سے نافذ ہی نہیں رہا۔ مترا کہتے ہیں کہ ‘صوبوں اور دور دراز علاقوں میں قبیلے یا گھر کے سربراہ نے جو کہہ دیا وہی قانون ہے۔ شریعت کے نفاذ کے ساتھ ایک ایسا نظام قائم ہو گا جس کے تحت مقدمات حل کیے جا سکیں گے۔ یہ نظام کابل کے لیے صحیح ہو نہ ہو لیکن افغانستان کے بڑے علاقوں میں اس بہانے سے کوئی قانون تو نافذ ہو گا۔‘انھوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ پاکستان کی جانب سے تحفظ فراہم کیے جانے سے ہی طالبان مضبوط ہوئے ہیں۔ لیکن عام افغان کے جذبات پاکستان کے خلاف ہیں۔ انڈیا کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ طالبان بھی بڑی آبادی کے جذبات کے خلاف جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
