سعد رضوی نے بھی مشرف کو قومی مجرم قرار دے دیا

کراچی میں قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں صرف 65 ووٹوں کے فرق سے ایم کیو ایم سے شکت کھانے والی تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی نے جنرل مشرف کو ایک آئین شکن فوجی آمر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اگلے انتخابات میں کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کرے گی اور اکیلے ہی الیکشن میں حصہ لے گی۔
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ہم لوگ اپنے اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر الیکشن لڑیں گے اور تمام تر دبائوکے باوجود ناموس رسالت کے معاملے پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ طاقتور قوتوں کی حمایت کا الزام لگانے والے ہمارے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر کیوں خاموش ہیں؟‘ سعد حسین رضوی نے کہا کہ ’ہم اپنے وطن کے ساتھ ہیں۔ پارلیمنٹ پر لکھے کلمے کے ساتھ ہیں۔ پارلیمنٹ پر جو جھنڈا لگا ہے اس کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے اداروں کے ساتھ ہیں۔ جو بھی آئینی اور قانونی حدود ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن قوتوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ہمارے ساتھ تھیں انہوں نے ہی ہمیں مارا ہے۔ ہم پر ہی گولیاں چلائیں۔ ہم نے جو بیانیہ دیا ہے وہ کسی نے نہیں دیا۔
اردو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خادم حسین رضوی کے صاحبزادے سعد رضوی نے کہا کہ کوئی ہمارے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ ناموس رسالت کی تحریک میں ہمارے 44 شہداء ہیں۔ شہدا کی تقریباً نصف سنچری بنتی ہے اور زخمی الگ سے ہیں۔ کئی لوگ اب تک ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ لہٰذا کوئی طاقت نہ ہمارے ساتھ ہے اور نہ ہی ہم کسی کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے نظریے کے ساتھ ہیں۔
سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی وطن واپسی کے سوال پر سعد رضوی کا کہنا تھا کہ اسے پاکستان کیسے واپس آنا چاہیے؟ وہ آئین شکنی کا مجرم ہے جسے سزا سنائی جا چکی ہے، مشرف آئین شکن ہے، اسے پاکستان کیسے آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مشرف کو وطن واپس لانا ہے تو پہلے عدالت میں کیس چلایا جائے۔ وطن تو اس کا پاکستان ہی ہے لیکن وہ مجرم ڈکلیئر ہو چکا ہے لہذا اس کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق عدالتی فیصلے کی روشنی میں سلوک کیا جانا چاہیے۔
