سعد رضوی کے خلاف کیسز پر پولیس اور حکومت میں تنازعہ


حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے بعد کئے گئے معاہدے کے باوجود کالعدم جماعت کے گرفتار کارکنان کی رہائی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ پنجاب پولیس کے سینئر افسران کی جانب سے اس فیصلے کی بھر پور مخالفت ہے۔ پنجاب پولیس کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ صرف ان کارکنان کو رہا کیا جا سکتا ہے جن کو نقص امن کے خطرے کے پیش نظر پرتشدد واقعات سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ہنگاموں کے دوران گرفتار ہونے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ واپس نہیں لیا جائے گا اور انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف درج مقدمات اور ان پر لگی دفعات کے حوالے سے سینئر پولیس حکام اور حکومتی شخصیات کے مابین تنازعہ پیدا ہو چکا ہے۔ اب اس مسئلے پر بھی بحث چل رہی ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری کس قانون کے تحت ہوئی تھی کیونکہ انہیں شروع میں نقص امن کے خطرے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا تھا لیکن پھر پولیس والوں کی شہادت کے بعد ان کے خلاف اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمات بھی درج کرلیے گئے۔ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ بھی آیا تھا کہ سعد کے خلاف قتل، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھراؤ کے الزامات کے تحت درج مقدمات واپس لیے جائیں کیونکہ وہ تو زیر حراست تھے، لیکن پولیس کا موقف ہے یہ سب کچھ انہیں کے ایما پر ہوا اس لیے انھیں اپنی بے گناہ ثابت کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرنا چاہیے۔
لہذا تحریک لبیک کی جانب سے فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیے دیے گئے پر تشدد دھرنے تو ختم ہوگئے مگر انکے اثرات ابھی تک برقرار ہیں۔ یہ معاملہ کئی روز تک پرتشدد کارروائیوں کے بعد حکومت اور ٹی ایل پی قیادت کے طویل مذاکرات کے ذریعے حل کیا گیا تھا۔تاہم حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کی گئی قانونی کارروائیاں تاحال ختم نہیں ہوسکیں۔ ایک جانب 16 ایم پی او کے تحت گرفتار سینکڑوں کارکنوں کی رہائی کا۔معاملہ ہے تو دوسری طرف تحریک کے لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی کے خلاف درج اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمات کا۔مستقبل ہے۔ پنجاب پولیس کے سینئر حکام نے پہلے ہی تحریک لبیک کے کارکنان کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کی مخالفت کردی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے نہ صرف ریاست کی رٹ کمزور ہو گی بلکہ پولیس کا مورال بھی ڈائون ہو گا۔ اسی طرح ٹی ایل پی پر پابندی کا معاملہ بھی لٹکا ہوا ہے۔ ایک جانب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک اگر خود پر لگی پابندی ختم کروانا چاہتی ہے تو وہ عدالت کا رخ کرے جبکہ دوسری جانب وزیر مملکت علی محمد کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی جلد واپس لے لی جائے گی۔
اس سے پہلے تحریک لبیک کے مطالبے پر 20 اپریل کو فرانسیسی سفیر کو نکالنے پر بحث کے لیے قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی تھی، جس کے بعد گمان تھا کہ سعد رضوی و دیگر کارکنوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ ٹی ایل پی رہنماؤں کے مطابق تحریک لبیک نے معاہدے کے مطابق آخری مرکزی دھرنا اپنے مرکز ملتان روڈ سے ختم کرنے کا اعلان کیا مگر کئی روز گزرنے کے باوجود پارٹی قیادت اور کارکن نہ تو رہا ہوئے اور نہ ہی ان سے ملاقات کی اجازت دی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی آئی اے لاہور پکڑے گئے کارکنوں پر تشدد کر رہی ہے جبکہ سعد رضوی یا کارکنوں کی رہائی سے متعلق معلومات بھی نہیں دی جا رہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے معروف علما کے وفد نے قرآن بورڈ کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سعد رضوی سے دھرنا ختم کروانے سے متعلق مذاکرات کیے تھے
کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد ہی حکومت اور ٹی ایل پی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق تحریک لبیک نے جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس لینے یا سعد حسین رضوی کی رہائی شرائط میں شامل نہیں کی تھی اور نہ ہی انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا بلکہ ان کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالا جائے اور پھر وہ پارلیمنٹ میں قرار داد لانے پر متفق ہوئے۔صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق: ‘سعد رضوی نے علما کے وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ نہ تو وہ اپنی یا کارکنوں کی رہائی اور نہ ہی پارٹی کو کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق حکومتی رعایت چاہتے ہیں، یہ معاملہ وہ قانون اور عدالتوں کے ذریعے حل کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، جس کے بعد حالات خراب ہوئے اور امن وامان کو نقصان پہنچا، ایک گرفتار شخص کیسے سڑکیں بلاک کرنے، توڑ پھوڑ یا جلاؤ گھراؤ کا حکم دے سکتا ہے۔ حامد رضا کے مطابق سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف درج ’مقدمات جھوٹے ہیں، جو وہ اپنے وکلا کے ذریعے عدالتوں میں ثابت کریں گے اور الزامات سے سرخرو ہوں گے۔‘
صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق: ‘سعد رضوی نے یہ موقف شاید اس لیے رکھا کہ وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ احتجاج ختم کرنے کے بدلے اپنی اور کارکنوں کی رہائی یا جماعت کو کالعدم قرار دینے کا درجہ ختم کروانے کی شرط رکھ رہے ہیں، بلکہ وہ واحد مطالبے پر ڈٹے رہے کہ جس مقصد کے لیے ہم نے حکومت سے معاہدہ کیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو نکالا جائے، اس پر عمل ہونا چاہیے۔’ دوسری جانب تحریک لبیک کے مرکزی رہنما محمد حسن بٹ نے کہا کہ ’حکومت نے پہلے بھی سعد رضوی کو معاہدے کے خلاف گرفتار کر کے خود امن وامان خراب کیا اور اب دوبارہ وعدوں سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعد رضوی کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، جب ہم نے ڈی سی کے وہ احکامات نکلوائے اور قانونی چارہ جوئی شروع کی تو کہا گیا کہ ان کے خلاف تو 302 اور دہشت گردی کی دفعات 7 اے ٹی اے کے تحت بھی مقدمات درج ہیں، اس لیے انہیں رہا نہیں کیاجاسکتا۔ ہم نے اس معاملے پر قانونی ٹیم تیار کی تاکہ عدالتوں سے رجوع کریں تو ہمیں یہ بھی تحریری طور پر نہیں بتایا جا رہا کہ ان کی بعد میں کن مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا: ‘جیل حکام کو بھی کچھ علم نہیں اور محکمہ داخلہ و پولیس نے بھی کوئی جواب نہیں دیا، ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ سعد رضوی کی اگر گرفتاری ڈال دی تو انہیں عدالت میں کب پیش کیا جائے گا؟ اور سینکڑوں کارکن جو ابھی تک پولیس حراست میں ہیں انہیں رہا کرانے کے لیے کہاں جائیں؟ کیونکہ پولیس تو کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں ہے۔’ حسن بٹ نے دعویٰ کیا کہ ‘سی آئی اے لاہور میں رکھے گئے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں نہ سعد رضوی سے اور نہ ہی کارکنوں سے ملاقات کی اجازت ہے۔ ہمیں معلومات ہوں گی تو عدالت سے انصاف کے لیے دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔’
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے بعد اب تک ملک بھر میں 210 مقدمات درج ہوچکے ہیں اور ٹی ایل پی سے مذاکرات کے نتیجے میں ان مقدمات کے اخراج کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ ان مقدمات کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ کے بقول ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران 733 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 669 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، ان میں سے زیادہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں سے ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا اور جن افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک اور زخمی کیا ہے انہیں کسی طور پر بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایسے افراد کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہے جنہیں صرف خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سی سی ٹی وی اور ویڈیوز میں نظر آنے والوں کی شناخت کی جارہی ہے اور اس کے بعد معلوم ہوگا کہ توڑ پھوڑ، جلاؤ گھراؤ اور ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے میں کون ملوث ہیں، اسی طرح شاہدرہ میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی کرنے کے ذمہ دار کون تھے۔ محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایاکہ ابھی تک تحقیقات کا عمل جاری ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور دیگر گرفتار کارکنوں سے متعلق کس طرح کی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اب تک مکمل چھان بین نہیں ہوسکی۔ اس کے بعد ہی ان کے بارے میں مقدمات میں دفعات کے اندراج اور ملزمان کی نامزدگی یقینی ہوسکے گی اور پولیس ریکارڈ عدالتوں میں پیش کرنے کے قابل ہوگی۔ اس حوالے سے کوٹ لکھپت جیل کے ایک افسر نے بتایا کہ ابھی تک سعد رضوی یا دیگر کارکنوں سے متعلق محکمہ داخلہ کی جانب سے رہائی کے تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی ابھی تک انہیں کسی عدالت میں پیش کرنے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں قرارداد پیش ہونے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا معاملہ تو ختم ہوگیا لیکن اب ابھی تک ٹی ایل پی رہنماؤں کو قانونی کارروائیوں سے متعلق تشویش ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button