سلمان خان نے سکھ سردار کا روپ کس لیے دھار لیا؟

انڈین فلم سٹار سلمان خان جلد ایک سکھ سردار جی کے روپ میں نظر آئیں گے، لیکن اس لیے نہیں کہ وہ سکھ ہو گے ہیں۔ انہوں نے سکھ سردار کا روپ اپنی اگلی فلم ‘انتم، دی فائنل تروتھ‘ میں دھارا ہے جو دو برس کے وقفے کے بعد انکی ریلیز ہونے والی پہلی فلم ہے۔ اس فلم کو سینما میں ریلیز کیا جائے گا جو کہ کرونا وبا کے کم ہونے کے بعد اب کھولے جا رہے ہیں۔ کرونا کی وجہ سے دو برس کے دوران سلمان خان کی صرف ایک فلم ‘رادھے‘ ریلیز ہوئی تھی لیکن یہ بھی سینیماؤں کی زینت نہیں بن پائی اور اسے آن لائن ریلیز کیا گیا تھا۔

فلم ’انتم‘ میں سلمان خان ایک سکھ سردار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ عموماً فلموں میں مختلف مذاہب یا برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تنازعات بھی کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب سلمان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ‘فلم میں کوئی بھی کردار کرنے سے پہلے احتیاطی تدابیر لی جاتی ہیں۔ جب ہم سینما میں کسی اور کی ثقافت، مذہب یا روایات دکھا رہے ہوتے ہیں تو پھر خاصی احتیاط کرنا پڑتی یے۔ شوبز رپوٹرز سے باتیں کرتے ہوئے سلمان نے کہا کہ انتم فلم میں ان کے سکھ کردار کو بہت اچھے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجرنگی بھائی جان میں بھی انھوں نے کچھ غلط نہیں دکھایا تھا لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے تنقید کی تھی۔

تاہم سلمان خان کی نئی فلم میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں ہیروئن کا کردار نہیں حالانکہ فلم شروع کرتے وقت ایک لڑکی کو پہروئن کے رول کے لیے چن لیا گیا تھا جس سے بعد میں معذرت کر لی گئی۔ چنانچہ یہ ان کی پہلی فلم ہے جس میں وہ ہیروئن کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔
اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب فلم شروع کی گئی تو اس میں ہیروئن کا کردار بھی تھا اور ایک ہیروئن بھی طے کر لی گئی تھی۔ اسکے علاوہ اسکے ساتھ ایک گانا بھی شوٹ کر لیا گیا تھا۔ لیکن جب میں نے فلم کے کچھ حصے دیکھے تو مجھے لگا کہ سکھ سردار کے کردار کو اکیلا ہی ہونا چاہیے ورنہ اسکا رول کمزور پڑ جاتا۔ چنانچہ انہوں نے فلم سے ہیروئن کو نکالتے ہوئے معافی مانگی اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ مستقبل میں ضرور ان کے ساتھ کام کریں گے۔

مان نے بتایا کہ فلموں میں ہمارے گانے بہت ضروری ہوتے ہیں لیکن اس فلم میں ایک بھی رومانوی گانا نہیں ہے۔ جو گانے ہم نے فلمائے تھے وہ میں نے فلم میں نہیں ڈالے۔ لیکن اس فلم میں بہت انٹرٹینمنٹ ہے کیونکہ سینما جانے والے صرف تین ہی چیزیں مانگتے ہیں یعنی انٹرٹینمنٹ، انٹرٹینمنٹ اور انٹرٹینمینٹ۔ سلمان کے مطابق فلم کے مرکزی کردار سکھ ہونے کے باوجود شوٹنگ پنجاب میں نہیں کی جاسکی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم پہلے ہریانہ اور پنجاب میں فلم بندی کرنے والے تھے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو پایا اور ہمیں ممبئی میں ہی شوٹنگ کرنی پڑی۔

Back to top button