سلیکٹڈ کی سلیکشن کا معیار تنقید کی زد میں

عمران خان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے مختلف حوالوں سے تنقید کی زد میں ہیں، ناقدین جہاں ان کی اپنی کارگردکی پر خائف ہیں وہیں ان کی ٹیم سلیکشن پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں یہ وہی کپتان ہیں جو میرٹ پر اپنی ٹیم سلیکشن کا دعوی کیا کرتے تھے۔
تاہم خیبر پختونخوا کی کابینہ میں حالیہ ردوبدل اور میٹرک پاس وزیر تعلیم کی تقرری کے بعد ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا، جس سے اس تائثر کو تقویت ملتی ہے کہ تحریک انصاف میں وزیروں اور مشیروں کو قلمدان سونپنے کا معیار اب میرٹ ہر گز نہیں ہے، خیبر پختونخوا کابینہ میں نئی ردوبدل پر تنقید اس وقت زور پکڑ گئی جب اکبر ایوب کو سی این ڈبلیو سے ہٹا کر وزیر تعلیم بنا دیا گیا، حشام انعام اللہ خان کو وزیر صحت کے قلمدان سے ہٹا کر وزارت سماجی بہبود دی گئی، شہرام ترکئی کو وزیر بلدیات سے وزیر صحت اور ضیا بنگش کو وزیر تعلیم سے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بنا دیا گیا۔
ان تمام وزارتوں میں سب سے زیادہ موضوع بحث وزارت صحت اور تعلیم ہے کیوں کہ ناقدین کی رائے میں ایک وزیر کو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود چیلنجنگ عہدے سے ہٹا کر کم اہمیت والی وزارت دی گئی۔ جب کہ دوسری جانب ایک میٹرک پاس مشیر کو وزارت تعلیم جیسا اہم قلمدان سونپ دیا گیا۔ صوبائی اسمبلی اور دوسرے ذرائع سے اس قسم کی خبریں آرہی ہیں کہ تحریک انصاف کے اندر مختلف گروہ بنے ہوئے ہیں جو عمران خان کو مسلسل دباؤ میں رکھ کر ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہے ہیں۔ اس وجہ سے پارٹی کے وہ ارکان جو کوئی گروہ نہیں رکھتے، وہ ان کی اجارہ داری سے نالاں اور پریشان ہیں۔
اس حوالے سے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی لیڈر شپ کا استحقاق ہے کہ کس کو کون سی ذمہ داری کب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار بندوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر امجد جو پچھلی حکومت میں وزیر ہاؤسنگ تھے کو اس بار بھی دوبارہ وہی وزارت دی گئی۔ اسی طرح شہرام ترکئی بھی پچھلی حکومت میں وزارت صحت چلانے کا تجربہ رکھ چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے اس بیان کے بعد سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر امجد کو دوبارہ اچھی کارکردگی پر ہاؤسنگ کی وزارت دی جاسکتی تھی تو شہرام ترکئی کو تجربے کی بنیاد پر ابتدا ہی سے وزارت صحت میں کیوں نہیں لگایا گیا۔ تاکہ موجودہ ردوبدل کی نوبت ہی پیش نہ آتی۔
موجودہ وزیر تعلیم اکبر ایوب کے بڑے بھائی یوسف ایوب جو کہ ماضی میں وزیر تعلیم رہ چکے ہیں نے عوام کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ان کے بھائی کے میٹرک پاس ہونے پر اعتراض ہے تو وہ تب کیوں خاموش تھے جب وہ سات سال سی اینڈ ڈبلیو کے محکمے کے مشیر تھے۔
ان کا اپنے بھائی کے دفاع میں مزید کہنا تھا کہ میرے بھائی برن ہال سے پڑھے ہوئے ہیں۔ ان کی جتنی قابلیت کئی بی اے اور ایم اے پاس میں نہیں ہے۔ وہ سی اینڈ ڈبلیو جیسا تکنیکی محکمہ چلاتے رہے ہیں جو کہ وزارت تعلیم سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اکبر نے ہی سی اینڈ ڈبلیو میں پہلی دفعہ شفافیت لانے کےلیے آن لائن رجسٹریشن، آن لائن بڈنگ اور آن لائن بلنگ متعارف کروائے۔ وزیر تعلیم بننا میرے بھائی کی مرضی سے نہیں ہوا، انہیں یہ ٹاسک دے دیا گیا جس کو انہوں نے قبول کیا۔ اچھے عہدے دینا قابلیت اور تجربے کے ساتھ ووٹرز کی تعداد پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
اکبر ایوب پر سی اینڈ ڈبلیو میں کرپشن اور حال ہی میں اپنے گاؤں ریحانہ میں ایک شاندار بنگلہ تعمیر کروانے کے الزامات کے حوالے سے بھی ان کے بھائی یوسف ایوب کا کہنا تھا کہ وہ کارخانہ دار اور کاروباری لوگ ہیں لہٰذا ان کی اتنی حیثیت ہے کہ خود اپنے پیسوں سے گھر لے سکیں اور تعمیر کروا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کرپٹ ہوتے تو نیب کب کا ان کو پکڑ چکی ہوتی۔
صوبائی کابینہ میں ردوبدل کے بعد اکبر ایوب کی تعلیمی اہلیت کی خبر سب سے پہلے سینئر صحافی محمود جان بابر نے بریک کی تھی۔ ان کا وزرا کی سلیکشن اور موجودہ صورت حال کے بارے میں کہنا ہے کہ تحریک انصاف ابتدا میں اپنے منشور کو آگے لے کر جانا چاہتی تھی لیکن اب اس کی ترجیحات بدل کر منشور کی جگہ حکومت بچانے میں لگی ہوئی ہے۔
جب ایک ورکر سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو اس کےلیے پارٹی کا منشور ہی سب کچھ ہونا چاہیے اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اس کا نصب العین ہونا چاہیے۔ تاہم سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر کچھ پریشر گروپ بنے ہوئے ہیں جو پارٹی سے اپنی خواہشات کی تکمیل کروا رہے ہیں۔ لہٰذا بجائے ورکرز سرینڈر ہوتے، تحریک انصاف ان پریشر گروپس کے سامنے لیٹ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی نے ایک کم تعلیم یافتہ کارکن کو وزارت تعلیم سے نوازا وہیں ایک پڑھے لکھے وزیر کو صرف اس وجہ سے نکالا گیا کیوں کہ ڈاکٹروں اور وزیر صحت کی ایک دوسرے سے اصلاحات کی بنیاد پر نہیں بنتی تھی۔ ایسے حالات میں حکومت کو چاہیے تھا کہ اپنے وزیر کے پیچھے ڈٹ کر کھڑی ہوتی کیوں کہ وزیر صحت آپ کی بنائی اصلاحات کےلیے لڑ رہے تھے لیکن آپ نے سمجھوتہ کرکے ان کو ہی ایک طرف کر دیا۔ اس ساری کہانی میں وژن کا تو جنازہ نکل گیا، ان سمجھوتوں کا جواب آپ کیسے دیں گے؟
