بوٹ چاٹ مہم کے سرخیل خواجہ آصف کی دھمکیاں

مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی غیر مشروط حمایت کے بوٹ چاٹ فیصلے سے ن لیگ کے ایوانوں میں جو زلزلہ آیا، اس کے آفٹر شاکس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اب یہ اطلاع آئی ہے کہ نون لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے اپنی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے خود کو بوٹ چاٹ مہم کا سرخیل قرار دے کر ملعون و مطعون کیے جانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کی دھمکی دے دی ہے۔
شریف برادران کی تابعداری میں بوٹ چاٹ مہم کی قیادت کرنے والے خواجہ آصف نے ن لیگیوں کی جانب سے بے شمار لعن طعن کے بعد اب گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے باغی بننے کی ناکام کوشش کی ہے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے پارٹی واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیا ہے، سینئر رہنما کی مریم نواز شریف سے ناراضگی کی بھی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کے پر مسلم لیگ ن کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں پارٹی انتشار کا شکار ہوگئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نون لیگ کی قیادت نے ووٹ کو عزت دینے کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ بیرون ملک بیٹھ کر کیا اور اس کے ردعمل میں ساری لعن طعن پارٹی کی دوسری درجے کی قیادت کے حصے میں آ رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ آصف اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے درمیان اس معاملے پر اختلافات کا معاملہ ناراضی تک پہنچ گیا ہے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ بطور نون لیگ کے پارلیمانی لیڈر حکم کے غلام ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا نواز شریف اور شہباز شریف کی خواہش پر کیا لیکن اس فیصلے کے ردعمل میں مذمت صرف اور صرف ان کی ذات کی ہو رہی ہے، کسی اور کی نہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑھتی ہوئی تنقید کے باعث خواجہ آصف نے مسلم لیگ ن کے رہنماوں کا واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ان پر شدید تنقید کی گئی کہ جیسے ووٹ دینا میرا اپنا فیصلہ تھا، میں نے پارٹی کو بتایا کہ یہ میرا نہیں پارٹی قیادت کا فیصلہ ہے، میں نے پارٹی کو پیغام پہنچایا، کسی سیاسی جماعت نے کوئی مخالفانہ بیان نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ میرے ساتھی مجھ پر اعتماد نہیں کررہے، اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ میں مزید آپ کی ہدایات اپنے ساتھیوں تک پہنچا سکوں۔ انہوں نے کہا کہ استعفے والی بات میں پبلک میں نہیں کروں گا، ہمارے اندر کے اختلافات ہماری آپس کی بات ہے، ہم ایک فیملی ہیں۔ میں نے آج تک نوازشریف اور شہبازشریف کی حکم عدولی نہیں کی۔ چاہے وہ میرے اصولوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم کی صوابدید ہے کہ وہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دیتے ہیں یا نہیں؟ یہ توسیع نوازشریف تو نہیں دے رہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق قانون سازی ہوئی ہے۔ پہلے یہ زبانی طور پر ہوتا تھا اب قانونی ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق ن لیگی رہنماؤں نے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف سے سخت سوالات کیے تھے۔ ن لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے پارلیمانی رہنماؤں سے آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق حمایت کیلئے کہا کہ میاں صاحب کے حکم پر آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کررہے ہیں۔جس پر رکن قومی اسمبلی نورالحسن تنویر نے پوچھا تھا کہ کس میاں صاحب کی بات کررہے ہیں، نوازشریف یا شہبازشریف؟ خواجہ آصف نے کہا کہ میری مراد میاں نوازشریف ہیں۔ لیگی رہنماؤں کا سوال تھا کہ دوسال ووٹ کو عزت دوکے نعرے کا اب عوام کو کیا جواب دیں؟ پارلیمانی اجلاس میں افتخار چیمہ نے کہا کہ حکومت اگر ریفرنس واپس لے توالیکشن تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر غیرمشروط حمایت کی بجائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس سے مشروط کردیتے۔ ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ فضل الرحمان کے دھرنے میں بھی کارکن اسی طرح مایوس ہوئے۔کم ازکم باقی اپوزیشن سے مشاورت کرلی جاتی اور کوئی فائدہ لے لیاجاتا۔ قیصر شیخ نے کہا کہ صرف اتنا ہی بتا دیا جائے کہ ایک دم غیرمشروط حمایت کی کیا وجہ ہے؟خواجہ آصف نے سب کی باتیں سننے کے بعد کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ساتھیوں کو میری بات پر اعتبار نہیں ہے۔اگر میری بات پر اعتبار نہیں ہے تو ایسا کریں خود میاں صاحب سے رابطہ کرلیں اور ان کی مرضی پوچھ لیں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی بتا دیا کہ فضل الرحمان کے دھرنے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ بھی نوازشریف کا ہی تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button