سنتھیا رچی کو غیر قانونی بزنس ویزا کس نے دلوایا؟

معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں دس برس سے مقیم مشکوک امریکی خاتون سنتھیا رچی نے ورک ویزے کے حصول کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے قانون کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوئے بزنس ویزا جاری کر دیا گیا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ویزا کسی چھوٹی موٹی سفارش پر نہیں ملتا بلکہ اس کے لیے بڑے تگڑے تعلقات ہونا ضروری ہیں جن کا دعویٰ سنتھیا مسلسل کر رہی ہے لہذا اس غیر قانونی ویزے کے بارے میں انہی سے پوچھا جائے جنہوں نے ویزا دلوایا۔
تاہم اس سکینڈل کا انکشاف ہونے کے بعد وزارت داخلہ کے اعلی حکام نے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے اور اپنی جان چھڑوانے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جسے 10 روز میں حقائق سامنے لانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ تاہم با خبر ذرائع کے مطابق سنتھیا رچی کو ورک ویزے کی درخواست پر بزنس ویزا جاری کرانے میں وہی قوتیں ملوث ہیں جو ماضی میں اسے استعمال کرتی رہی ہیں اور اب اس کو بوجھ سمجھتے ہوئے جلد از جلد اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
سیکرٹری داخلہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع ہوا یے گے حالیہ تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے 2018 اور 2019 میں دو بار خلاف قانون سنتھیا ڈی رچی کے ویزے میں توسیع کی۔ سیکرٹری داخلہ کے تحریری جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی نے دونوں بار بزنس ویزا نہیں بلکہ ورک ویزہ کے لیے توسیع کی درخواست دی تھی تاہم انھیں دونون مرتبہ بزنس ویزا جاری کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ ورک ویزا کی بجائے بزنس ویزا جاری کرنا پاکستانی ویزہ پالیسی کی خلاف ورزی تھی، سنتھیا ڈی رچی نے متعلقہ دستاویزات بھی ورک ویزا کے ساتھ لگائیں لیکن انھیں وزارت کی طرف سے بزنس ویزہ جاری کیا جاتا رہا۔ وزارت داخلہ نے عدالت کو اپنے جواب میں مزید بتایا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی کی پروڈکشن کمپنی جن دیگر کمپنیز کے ساتھ کام کرتی تھی وہ پاکستان میں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے سنتھیا کے ویزے کے اجراء بارے کھل کر سامنے آنے کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ماضی میں جو قوتیں سنتھیا کو اپنا اثاثہ سمجھ کر تحفظ فراہم کر رہی تھیں اور اسے بہترین استعمال کر رہی تھی وہ اب عدالت کی جانب سے وضاحت مانگی جانے کے بعد بعد مشکوک امریکی خاتون کو ایک بوجھ سمجھنا شروع ہو چکی ہیں
دوسری طرف غیر ملکیوں کو جاری ہونے والے بزنس ویزوں میں بدعنوانی کے انکشاف پر وزارت داخلہ کی ایک فیکٹ فانڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کو غیر ملکیوں کو جاری مبینہ بوگس ویزوں کی تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا ہے اور 10 روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لیکن سنتھیا نے بھی وزارت داخلہ کی جانب سے ویزے اپنے میں توسیع نہ دینے اور 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم چیلنج کردیا ہے۔ سنتھیا رچی نے اپنے وکیل کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزے سے متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود وزارت داخلہ نے توسیع مسترد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے میرا مؤقف سنا اور نہ اپنے حکم میں وجوہات کا ذکر کیا، میرے خلاف حکم جاری کرنے سے قبل مجھے سنا جانا میرا قانونی حق ہے۔سنتھیا کا مزید کہنا تھا کہ اس نے اسپانسر کی تبدیلی کی وجہ سے ورک ویزہ کے لیے ایک اور درخواست دی تھی لیکن کرونا کی وجہ سے میری نئی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ درخواست میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کے سامنے کہا کہ میں ریاست مخالف اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں۔ میں نے پاکستان میں کئی مقدمات دائر کیے ہوئے ہیں اور میرے خلاف بھی مقدمات چل رہے ہیں۔ لہذا ویزے میں توسیع نہ دینے سے عالمی سطح پر یہ تاثر جائے گا کہ پاکستانی وزارت داخلہ جان بوجھ کر کیس کی پیروی سے روک رہی ہے۔ سنتھیا نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارت داخلہ نے مجھے پاکستان سے ڈی پورٹ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ اس نے استدعا کی کہ اسکے ویزے کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کے 2 ستمبر کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور وزارت داخلہ کو ورک ویزہ میں توسیع کا حکم دیا جائے۔چنانچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسے پاکستان سے ڈی پورٹ کرنے کے وزارت داخلہ کے احکامات وقتی طور پر معطل کر دیے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستانی سیاستدانوں پر الزامات لگانے والی مشکوک امریکی خاتون اب کھلم کھلا دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے۔ اسکی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں سنتھیا دھمکی آمیز لہجے میں کہتی نظر آ رہی ہیں کہ اگر اسے پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا تو وہ واشنگٹن پہنچ کر سب کا جینا حرام کر دے گی، اور ایسے ہوشربا انکشافات کرے گی کہ جو پہلے کبھی نہ کسی نے نہ سنے ہوں گے۔ سنتھیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے وقت تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ رہنے کی وجہ سے وہ وزیراعظم عمران خان سے اب بھی رابطے میں رہتی ہیں اور امید ہے کہ وہ انہیں انصاف دلوانے میں کردار ادا کریں گے۔
