سنتھیا کون ہے؟ پتہ چل گیا، پی ٹی آئی سے تعلق نکل آیا


پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی مشکوک امریکی عورت سنتھیا رچی سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ سے بطور سٹریٹیجسٹ اور ریسرچر وابستہ تھیں اور انہوں نے پارٹی منشور ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سنتھیا کا دعویٰ ہے کہ اس وجہ سے وزیراعظم عمران خان اسے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کا آپس میں مسلسل رابطہ رہتا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کے حوالے سے بےیہودہ الزامات عائد کرنے والی مشکوک امریکی خاتون سنتھیا رچی نے اب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اور سابق وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر 2011 میں اپنے ساتھ زیادتی اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کردئیے ہیں۔ یاد رہے کہ 2011 میں پی پی پی برسر اقتدار تھی، یوسف رضا گیلانی وزیراعظم جبکہ رحمان ملک وزیر داخلہ تھے۔ اسلام آباد میں پچھلے آٹھ برس سے مقیم امریکی خاتون کا الزام ہے کہ رحمٰن ملک نے ان کے ساتھ تب زیادتی کی جب وہ ان کے پاس اپنے پاکستانی ویزے کے حوالے سے مدد لینے گیئں۔
اڑتیس سالہ سنتھیا ڈی رچی امریکی شہری ہیں جو 2009 میں پہلی بار پاکستان آئیں۔ اس دوران انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان سے باہر بھی گزارا لیکن پچھلے آٹھ سالوں سے وہ شہر اقتدار اسلام آباد میں مستقل طور پر مقیم ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کے یہاں اتنے لمبے قیام کے پیچھے اصل ایجنڈا کیا ہے۔ سنتھیا کی جانب سے پاکستانی انٹیلی جنس افسران کے ساتھ قریبی تعلقات کا تاثر دئیے جانے کے باوجود پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع انہیں امریکی ایجنٹ سجھتے ہیں جبکہ ڈپلومیٹک ذرائع ان کو آئی ایس آئی کی ڈبل ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔
سنتھیا کے اپنے بائیو ڈیٹا کے مطابق اس نے سال 2003 میں امریکہ کی لوئیزیانہ سٹیٹ یونیورسٹی سے قانون اور شعبہ عامہ میں اپنی بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس ہی یونیورسٹی سے اس 2005 میں تعلیم اور نفسیات کے شعبے میں اپنا ماسٹرز بھی مکمل کیا۔ اس کے بعد اس نے مزید دو اور شعبوں میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جس میں سے ایک اس نے طبی نفسیات کے شعبے میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے حاصل کی جبکہ دوسری ڈگری سٹریٹیجک پبلیک ریلیشنز کے شعبے میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے مکمل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنتھیا ٹیکساز جوڈیشری کی جانب سے چائیلڈ ایڈوکیٹ کے طور پر مقرر ہوئی اور وہاں اس نے تقریباً ایک سال تک کام کیا۔ 2008 میں سنتھیا نے امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن کے سٹی کاؤنسل میں کمیونٹی رابطہ افسر کے فرائض انجام دیے۔ سنتھیا کا اس حوالے سے کہنا تھا: ’اس وقت ہیوسٹن میں پاکستانی کمیونٹی سیاسی اور سماجی سطح پر کافی فعال تھی۔ اس دوران پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مل کر میں نے ہیوسٹن شہر کے لیے کافی کام کیا اور وہیں سے پاکستانیوں کے لیے میرے دل میں عزت پیدا ہوئی۔‘
پاکستان میں 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران سنتھیا ڈی رچی امریکی شہر ہوسٹن کی اس وقت کی میئر اینیس پارکر کی خیرسگالی سفیر کے طور پر مختصر وقت کے لیے پاکستان آئی۔ اس دورے کے کچھ وقت بعد سنتھیا کی ملاقات موجودہ وزیراعظم عمران خان سے امریکی شہر ہیوسٹن میں ہوئی جہاں وہ ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ سنتھیا کے مطابق اس ملاقات کے بعد وہ عمران سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس ایونٹ کے کچھ عرصے بعد ہی سنتھیا ڈی رچی نے محکمہ صحت میں کمیونی کیشن لیکچرار کے طور کام نوکری کر لی۔ یہی وہ دور ہے جب ان کی وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین سے ملاقات ہوئی ہوگی۔ تاہم سوال یہ بھی ہے کہ سنتھیا کو کس بنیاد پر محکمہ صحت میں نوکری دی گئی گی۔
سنتھیا خود تسلیم کرتی ہے کہ محکمہ صحت کی نوکری کے دوران اسے حکومت کی جانب سے رہنے کی جگہ، سفری سہولیات، ایک فون اور ایک ٹیبلٹ ڈیوائس فراہم کی گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف تنخواہ کی حقدار تھی اور یہ سہولیات اسے فیور کے طور پر دی گئیں جو انہوں نے خود مانگیں۔ اس دوران سنتھیا نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں  وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی تھے، کی بیٹی فرحانہ سواتی کی این جی او ہیومینیٹی ہوپ میں کام شروع کر دیا جو ڈیڑھ سال کے عرصے تک جاری رہا۔
2011 میں سنتھیا ڈی رچی نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ میں سٹیرٹیجسٹ اور ریسرچر کے طور پر کام کیا۔ اس کے علاوہ پارٹی منشور کو ترتیب دینے میں بھی انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ سنتھیا کے مطابق اس دوران ان کی دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی وابستگی ہوئی جن میں ایم کیو ایم، ن لیگ، ق لیگ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی سر فہرست ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس دوران کچھ جماعتوں کی جانب سے ان کی جاسوسی کی گئی اور متعدد بار ان پر حملہ بھی ہوا۔
مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ کے آپریشن کے بعد پی پی پی حکومت کی جانب سے سے سنتھیا کو مشکوک قرار دئیے جانے کے بعد اس کی رہائش اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں منتقل کردی گئی۔ اس کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا گیا اور اس کے اندرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ سنتھیا کے اپنے بیان کے مطابق مخالف جماعت پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ میں کام کرنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی حکومت کا رویہ ان سے تبدیل ہوا حالاںکہ سچ تو یہ ہے کہ اس کی نقل و حرکت پر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایجنسیوں نے پابندی عائد کی۔
پی پی پی حکومت کی مدت پوری ہونے اور اس کے بعد تحریک انصاف کے برسر اقتدار آ جانے کے بعد بھی سنتھیا پاکستان میں مقیم رہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی میڈیا ونگ میں فرائض انجام دیتی رہیں۔ اس دوران انہوں نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ’تھرو آ ڈفرنٹ لینس‘ نامی میڈیا پروڈکشن کمپنی کا آغاز کیا۔ یہ کمپنی امریکہ میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں ’واک اباؤٹ فلمز ‘ نامی کمپنی کے اشتراک سے ڈاکومینٹری ویڈیوز بناتی ہے۔
2015 میں سنتھیا ڈی رچی نے ’ایمرجنگ فیسز‘ کے نام سے پاکستانی ثقافت اور تہذیب پر مبنی اپنی پہلی ڈاکومینٹری فلم بھی بنائی۔ اس کے علاوہ سنتھیا بطور ایک رائٹر ایکسپریس ٹریبون، دی نیوز ، ساؤتھ ایشیا میگزین اور گلوبل ولیج سپیس کے لیے لکھتی ہیں۔ سنتھیا خود کو فری لانس میڈیا ڈائریکٹر، پروڈیوسر، وی لاگر اور سیاح قرار دیتی ہیں۔ یوٹیوب پر ان کا ایک چینل بھی موجود ہے جس پر پاکستان کے مختلف سیاحتی مقامات پر ان کی بنائی گئی ویڈیوز اور وی لاگز موجود ہیں جن کے ذریعے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھایا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر ان کے فالورز کی تعد ایک لاکھ 88 ہزار سے زائد ہے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ ان کے ٹوئٹر ہینڈل پر ان کی پاکستانی لباس اور زیورات میں ملبوس ایک تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔
تاہم دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سنتھیا کچھ عرصے سے مقامی ایجنسیز اور پاکستان آرمی کی مدد سے پشتون تحفظ موومنٹ کی مبینہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بارے تحقیقات کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ ٹریول وی لاگنگ اور فری لانس ڈاکومینٹری میکنگ کرنے والی سنتھیا رچی نے پی ٹی ایم کے حوالے سے تحقیق کا آغاز کیوں کیا ہے؟
یاد رہے کہ پاکستانی ریاست اور پی ٹی ایم کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی۔
حال ہی میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سے متعلق بیہودہ ٹویٹس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے سنتھیا کے خلاف ایف آئی اے اور آئی ایس آئی سے رابطہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس مشکوک امریکی عورت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی کی جائے اور اسے ملک سے بے دخل کیا جائے۔ تاہم ان درخواستوں پر کسی بھی ادارے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دوسری طرف سنتھیا نے بھی ایف آئی اے میں میں خود کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیے جانے کے حوالے سے شکایت درج کروادی اور اس کے چند روز بعد یہ الزام عائد کردیا کہ رحمٰن ملک نے 2011 میں ان کی عزت لوٹی تھی۔ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ وہ اس گھناؤنے واقعے کے بعد نو برس تک خاموش کیوں رہی اور اب اس بات کو اس وقت منظر عام پر کیوں لایا جارہا ہے جب پی پی پی کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یعنی مختصر الفاظ میں سوال یہ ہے کہ سنتھیا دراصل کس کا اور کیا کھیل کھیل رہی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button