کرونا کے بعد پاکستانیوں پر ٹائیفائیڈ حملہ آور ہو گیا

https://youtu.be/BZs23jqyH2o
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں کرونا کے علاوہ ٹائیفائیڈ بخار میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد داخل ہوئی جس کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ٹائیفائیڈ بھی پھیل رہا ہے۔ لہذا اب طبی ماہرین اس مفروضے پر تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان میں ٹائیفائیڈ بخار کے بڑھنے کا کرونا وائرس کے پھیلاو سے بھی کوئی تعلق ہے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اور ٹائیفائیڈ دو یکسر مختلف امراض ہیں۔ کرونا چھوت کی بیماری ہے جبکہ ٹائیفائیڈ مضر صحت کھانوں، آلودہ پانی، ہاتھ نہ دھونے اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر پھیلتا ہے۔ اس کے جراثیم منہ کے ذریعے آنتوں میں چلے جاتے ہیں جس کے بعد یہ آنتوں میں زخم کردیتا ہے۔ اس کی علامات میں پیٹ میں درد، بھوک کا نہ لگنا، بخار، قبض یا اسہال وغیرہ شامل ہیں۔ ابتدائی جائزوں میں کرونا اور ٹائیفائیڈ کے پھیلائو میں کوئی تعلق سامنے نہیں آیا البتہ دونوں عوارج کی بعض علامات ملتی جلتی ہیں جس کی بنا پر ٹائیفائیڈ میں مبتلا افراد بھی خود کو کرونا کا مریض سمجھ رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان میں جاری تحقیقات کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔
پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کے کئی شہروں میں کرونا کے ساتھ ساتھ ٹائیفائیڈ کی بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق بچے بھی بڑی تعداد میں اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔کوئٹہ کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں حالیہ مہینوں کے دوران کوئٹہ، پشین، چمن، مستونگ، بولان، سبی، نصیرآباد ،تربت اور دیگر علاقوں میں ’ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ‘ یعنی ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خالد شاہ کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ کی یہ قسم خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے اور اب بیشتر ادویات اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔محکمہ صحت بلوچستان نے بولان کے کم از کم 500 ایسے افراد کے خون کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جنہیں بخار اور جسم میں درد کی شکایات تھیں۔ ان افراد کے کرونا ٹیسٹ بھی کرائے گے مگر ان میں کرونا کی تشخیص نہیں ہوئی۔
اسی طرح حال ہی میں لاہور میں گردن توڑ بخار، دل، گردوں اور ٹائیفائیڈ کے مریضوں میں کرونا مثبت آیا اور ان میں سے کئی جانبر نہیں ہو سکے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ ‘کوماربیڈیٹی’ یعنی ایک سے زیادہ بیماریوں کا شکار ہونا ہے، ایسے افراد پر کرونا کا وار زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے شعبہ متعدی امراض کی پروفیسر ڈاکٹر نسیم کے مطابق بہت سے لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ انہیں کرونا کے ساتھ ٹائیفائیڈ بھی ہے۔ لیکن اس کی درست تحقیقات کے لیے مزید بہتر ٹیسٹنگ کی ضرورت ہے۔اسلام آباد کے ہی ایک بڑے نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل کے شعبہ وائرل ڈیزیز کے ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ ٹائیفائیڈ اور کرونا وائرس کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا ہے، کرونا ایک وائرس ہے اور انسانوں میں ایک دوسرے سے پھیل رہا ہے جبکہ ٹائیفائیڈ بخار وائرل مرض نہیں یے ور کھانے پینے میں بے احتیاطی سے ہوتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس وقت تین طرح کے وائرس موجود ہیں، کورونا وائرس، ٹائیفائیڈ اور انفلوئنزا۔ ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ان وائرسز کی علامات کچھ حد تک مماثلت رکھتی ہیں اس لیے لوگوں کو کورونا کا شبہ ہو رہا ہے۔ڈاؤ یونیورسٹی کورونا وارڈ کے انچارج پروفیسر امان اللہ عباسی کے مطابق کورونا وائرس اور ٹائیفائیڈ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور اس بات کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔تاہم ان کے مطابق ٹائیفائیڈ وہ وائرس ہے جو انسانی جسم میں موجود رہتا ہے اور قوت مدافعت کم ہونے کی صورت میں اثر دکھاتا ہے۔چونکہ کرونا وائرس کا شکار افراد کی قوتِ مدافعت انتہائی کم ہو جاتی ہے، پھر چاہے وہ صحت یاب بھی ہو جائیں تو اس بات کا امکان رہتا ہے کہ ٹائیفائیڈ یا کوئی اور وائرس کمزور قوتِ مدافعت کی وجہ سے حملہ آور ہو۔ اس سے زیادہ کرونا اور ٹائیفائیڈ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کراچی اور حیدرآباد سمیت پاکستان کے صوبہ سندھ کے دیگر شہروں میں ٹائیفائیڈ کے ہزاروں کیسز سامنے آنے کے بعد نومبر 2019ء میں پاکستان دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ٹائیفائیڈ سے بچاﺅ کی ویکسین ’ٹی سی وی ‘ کا استعمال شروع کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button