سندھ بلدیاتی انتخابات:تصادم میں 2 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی

صوبہ سندھ میں آج ہونے والے بلدیاتی انتخابات خونی شکل اختیارکرگئے،اور تصادم کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 اضلاع میں پولنگ جاری تھی کہ ٹنڈوآدم میں ہونیوالے تصادم کے دوران ایک امیدوارکابھائی جاں بحق ہوا جبکہ سکھرمیں جاگیرانی برادری کے تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
نواب شاہ میں پریزائیڈنگ آفيسر کے مطابق سوشل سکیورٹی پولنگ اسٹیشن پرمشتعل افرادنے توڑپھوڑ کی، مسلح افراد نے عملے کو یرغمال بنایا اور الیکشن کاسامان لےکرفرارہوگئے۔ریجنل الیکشن کمشنرنوید عزیز کے مطابق واقعےپرایس ایس پی کو تحریری طور پر آگاہ کردیاگیاہے۔ایس ایس پی سعود مگسی نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور واقعے کا مقدمہ 15 نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔
ادھر موروکی یوسی ڈیپارچہ کےمنگو خان ڈھرپولنگ اسٹیشن میں بھی تصادم ہوا۔نوشہرو فیروز میں پولنگ کے دوران تصادم ہوا جس میں مخالفین نے ایک دوسرے پر لاٹھیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے جب کہ پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا سانگھڑ کے علاقے شہدادپور یوسی غلام حیدرباگرانی میں 2سیاسی جماعتوں میں جھگڑا ہوا جس کے باعث 4افراد زخمی ہوگئے، جھگڑے کے بعد پولنگ اسٹیشن 65 میں پولنگ روک دی گئی۔
علاوہ ازیں یوسی نمبر50،ہزارواہ پولنگ اسٹیشن کوٹ جھڑیو میں 2 سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں 8افراد زخمی ہوگئے۔ پڈعیدن میں یوسی بھانبھری پولنگ اسٹیشن جمن شاہ میں بھی جھگڑے کے باعث پولنگ کا عمل روکنا پڑا، ڈنڈے لگنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے۔
ضلع تھرپارکر کی تحصیل میں کلوئی پولنگ اسٹیشن اور پولنگ اسٹیٹشن پٹار پر دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا جس سے 4 افراد زخمی ہوگئے، جیکب آباد میں بھی یونین کونسل کندرانی کے پولنگ اسٹیشن 517 گلشیرکندرانی میں جھگڑا ہوا جس میں 2 امیدواروں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب کندھ کوٹ میں جے یو آئی کے میونسپل کمیٹی کے امیدوار شوکت ملک کی گاڑی پر مخالفین نے حملہ کردیا جس میں مخالفین نے ان کی گاڑی پر ڈنڈے برسائے جس سے گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی۔اس کے علاوہ یہاں پولنگ کے عملے کے 7 افراد کو بھی اغوا کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے بے نظیر آباد میں تین پولنگ اسٹیشنز پر الیکشن مٹیریل چھینے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آر او ز کو فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ سندھ کے 14 اضلاع میں ووٹرز کی کل تعداد 1 کروڑ 14 لاکھ 92 ہزار 680 ہے جن کے لیے 2 کروڑ 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، 14 اضلاع میں 9290 ہزار پولنگ اسٹیشنز اور 29970 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 887 یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی مشترکہ 887 نشستوں میں سے 135 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں اس طرح اب 752 نشستوں پر 3190 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ضلع کونسلر کی 794 نشستوں میں سے 107 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب اور 687 نشستوں کے لیے 2604 امیدواروں میں انتخابی جنگ ہو رہی ہے۔ یونین کمیٹی اور یونین کونسل کے وارڈز کونسلرز کی 3548 نشستوں میں سے 622 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب جبکہ 2926 نشستوں کے لیے 9744 امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ٹاؤن کمیٹیوں کے وارڈ کونسلرز کی 694 نشستوں میں سے 68 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں اور 626 پر 3325 امیدواروں میں مقابلہ ہے، میونسپل کمیٹیوں کے وارڈز کونسلرز کی 354 نشستوں میں سے 14 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ 340 پر 2435 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
