پنجاب اور سندھ کا 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ نے کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ میں بند ہونے والے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر پنجاب تعلیم مراد راس نے پیر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ 15 ستمبر سے نویں سے بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے کھولے جا رہے ہیں۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات 22 ستمبر جب کہ نرسری سے پانچویں جماعت کے طلبہ و طالبات کی کلاسز کا آغاز 30 ستمبر سے ہوگا۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں دوہری شفٹ پر پابندی ہوگی تاہم ایک جماعت میں صرف 50 فیصد طلبہ کی اجازت ہوگی جب کہ دیگر 50 فیصد طلبہ کےلیے متبادل دن رکھا جائے گا۔
All Public and Private Schools to allow only 50% of students in one day. Alternative days will have the other 50% students. No Double Shift on a single day will be allowed. https://t.co/Q9d4JKz9er
— Murad Raas (@MuradRaasMR) September 7, 2020
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام تعلیمی ادارے 15 سے 30 ستمبر کے دوران کھول دیے جائیں گے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں سے تمام ہائر کلاسز بشمول تمام جامعات کھولی جائیں گی۔ 22 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک جب کہ 30 ستمبر کو پری پرائمری اور پرائمری کلاسز کھول دی جائیں گی۔ اگر کسی اسکول یا علاقے میں کورونا بڑھتا ہے تو وہ سکول یا متعلقہ علاقے کے سکولز بند کیے جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہا سکول میں ماسک کا استعمال مکمل طور پر لازمی ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ تمام ایس او پیز پر مکمل عمل پیرا ہونا ہوگا، ایسا نہ کرنے والے ادارے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
گزشتہ جمعے کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسکول کھولنے کے حوالے سے مشترکہ نیوز کانفرنس کی تھی۔ شفقت محمود کا کہنا تھا اسکول مرحلہ وار کھولے جائیں گے تاہم اسکول کھلنے کا حتمی فیصلہ سات ستمبر کو ہی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ میں بچوں کا کافی تعلیمی نقصان ہوا ہے۔ ’بچوں کی اسکولوں کو واپسی پر ٹیسٹ لیے جائیں گے تاکہ ان کے لرننگ لیول کا پتا چلے۔‘ شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ اسکول اسی لیے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں تاکہ بیچ کے وقفے میں صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔ ’بیماری کے حالات اسی طرح رہے تو آہستہ آہستہ پرانے شیڈول پر چلے جائیں گے۔‘
