سندھ: کورونا ویکسی نیشن سینٹرز کے طبی عملے کےلیے اضافی تنخواہ دینے کا اعلان

حکومت سندھ نے کورونا ویکسینینشن سینٹرز پر کام کرنے والے طبی عملے کےلیے ایک اضافی بنیادی تنخواہ زیادہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ کورونا ویکسی نینشن سینٹرز پر کام کرنے والے ہیلتھ عملے کےلیے آنوریم دینے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈلٹ ویکسی نیشن سینٹرز پر کام کرنے والے عملے کو ایک بنیادی تنخواہ زیادہ دی جائے گی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں وزیر صحت سندھ نے کورونا کے خلاف لڑنے والے طبی عملے کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہیلتھ کیئر ورکرز کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وہ رضاکارانہ طور پر ویکسی نیشن کے اس عمل کا حصہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین نہ لگانے والے طبی عملے کو طبی خدمات کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے قبل سندھ کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا تھا کہ سندھ میں کورونا ویکسین 3 فروری سے لگنا شروع ہوگی اور پہلے مرحلے میں طبی عملے کو لگائی جائے گی۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چین سے منگوائی گئی ویکسین سائنو فارم وائرس کے خلاف 90 فیصد کارآمد ہے اور پہلے مرحلے میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے صف اول کے طبی عملے کو لگائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد جب کہ دیگر شہریوں کو آخری مرحلے میں ویکسین لگائی جائے گی اور آخری مرحلے میں ویکسین سینٹرز کی تعداد سندھ کے تمام اضلاع میں بڑھائی جائے گی۔
خیال رہے کہ چین سے کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نور خان ایئربیس پر وصول کیا، چین کی جانب سے عطیہ کی گئی کورونا وائرس ویکسین کی پہلی کھیپ یکم فروری کو پہنچی۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین سے کووڈ۔19 ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ چین نے 5 لاکھ خوراکیں عطیہ کیں ہیں، سب سے پہلے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین دی جائے گی، ویکسین کےلیے 4 لاکھ سے زیادہ ہیلتھ ورکرز نے درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ویکسین کو ذخیرہ اور مختلف وفاقی اکائیوں خصوصاً سندھ اور بلوچستان کو فضائی راستوں سے فراہم کرنے کےلیے تمام ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button