میانمار کی سوچی جس جرنیل کیلئے گندی ہوئی اسی نے تختہ الٹ دیا

میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی نے چند برس پہلے روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے جس آرمی چیف کا دفاع کرتے ہوئے خود کو گندا کیا تھا بالآخر اسی نے غداری کرتے ہوئے سوچی کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔
یاد رہے کہ سنہ 2016 اور سنہ 2017 میں میانمار کی ریخائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس قتل عام پر میانمار کی فوج کی عالمی سطح پر خوب مذمت کی گئی تھی لیکن آنگ سان سوچی نے اس فوجی ایکشن کا دفاع کیا تھا تا کہ اپنا اقتدار بچا سکیں۔
دوسری طرف اگست 2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے قرار دیا تھا کہ ’میانمار کے اعلی افسران خصوصا فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ کے خلاف قتل عام اور جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمات چلائے جانے چاہیں۔‘ لیکن سوچی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسکے بعد امریکہ نے 2019 میں میانمار کے فوجی سربراہ کے خلاف نسلی کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ جولائی 2020 میں برطانیہ نے بھی اس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم اب اسی فوجی سربراہ نے سوچی کے اقتدار کا سورج غروب کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ کیا میانمار میں نومبر 2020 میں ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ یا یو ایس ڈی پی نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے یکم فروری 2021 کو منتخب پارلیمینٹ کے اجلاس سے قبل، جس میں نو منتخب حکومت کی توثیق ہونا تھی، دھاندلی کے تمام الزامات کو رد کر دیا تھا۔ اس دوران فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہو گے تھے اور فوجی بغاوت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں۔ فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ نے 27 جنوری 2021 کو دھمکی دی تھی کہ اگر آئین کی پاسداری نہیں کی گئی تو اسے معطل کر دیا جائے گا جیسا کہ اس سے قبل 1962 اور 1988 کی فوجی بغاوتوں میں کیا گیا تھا۔
یکم فروری کو نئی پارلیمنٹ کے اجلاس سے چند گھنٹے پہلےفوج نے آنگ سان سوچی، ملک کے صدر ون مینت اور چند دیگر سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ نے خود کو ملک کا سربراہ ڈیکلیئر کر دیا یے۔ میانمار کے فوجی سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ لگ بھگ ایک دہائی قبل ہی میانمار کی فوج نے ملک سے طویل ترین فوجی دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کیا تھا۔ لیکن یہ بغاوت اچانک نہیں ہوئی۔حکومت کا تخت الٹنے سے پہلے بھی میانمار کی طاقتور فوج میں آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے کمانڈر ان چیف کے عہدے پر پہنچنے والے فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ گذشتہ ایک دہائی سے اپنے عہدے کی بدولت ملک میں قابل قدر سیاسی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ انھوں نے میانمار کی فوج پر بڑی کامیابی سے اپنی گرفت مضبوط رکھی جبکہ دوسری جانب ملک فوجی آمریت کے سائے سے چھٹکارا پاتا ہوا جمہوریت کی سمت میں بڑھتا رہا۔ اسی دوران اقلیتوں پر مظالم اور اس میں فوج کے کردار کی وجہ سے عالمی سطح پر میانمار کی شدید مذمت کی جاتی رہی۔
یاد رہے کہ میانمار وہ ملک ہے جہاں 50 برس تک جابرانہ فوجی حکومتیں قائم رہیں اور بالآخر سنہ 2011 میں اس ملک نے جمہوری حکمرانی کی طرف پیش قدمی کی اور اقتدار ایک سویلین حکومت کے پاس آیا۔ مگر لگ بھگ دس ہی سال کی جمہوریت کے بعد میانمار اب ایک مرتبہ پھر من آنگ کی قیادت میں آمریت کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اپنے اختیارات کو وسعت دینا اور ملک کے مستقبل کی سمت طے کرنا اب اُن کے ہاتھ میں ہے۔ 64 برس کے جنرل ہلینگ کیڈٹ کے طور پر فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور اس کے بعد انھوں نے اپنی ساری زندگی فوج میں گزاری ہے۔ رنگون کی یونیورسٹی میں قانون کے سابق طالبعلم دو مرتبہ ناکامی کے بعد تیسری مرتبہ ڈیفنس سروسز اکیڈمی میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بظاہر معمولی اور غیر متاثر کن شخصت کے مالک بری فوج کے اس اہلکار کو بروقت ترقیاں ملتی رہیں اور ترقیاں پاتے پاتے وہ سنہ 2009 میں بیورو آف سپیشل آپریشن کے کمانڈنگ آفسر کے عہدے پر پہنچ گئے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں میانمار کی فوج دوسری بڑی فوج ہے۔
بیورو آف سپیشل آپریشن کے کمانڈنگ آفسر کے طور پر انھوں نے شمال مشرقی میانمار میں عسکری کارروائیوں کی سربراہی کی جس کے نتیجے میں مشرقی صوبے شان اور چین کی سرحد کے ساتھ کوکانگ کے خطے سے ہزاروں لسانی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ جنرل من آنگ ہلینگ کی زیرِ قیادت فوجیوں کے خلاف قتل و غارت گری اور ریپ کے بے شمار الزامات لگے لیکن پھر بھی انھیں فوج میں ترقی ملتی رہی اور وہ اگست 2010 میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے عہدہ پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں مارچ سنہ 2011 میں انھیں کئی سینیئر افسران پر ترقی دی گئی اور وہ ’تھان شو‘ کی جگہ کمانڈر ان چیف بن گئے۔ من آنگ ہلینگ کو جب فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تو ملک کے ایک مشہور بلاگر اور ان کے بچپن کے دوست ’ہلا او‘ نے ان کے بارے میں لکھا کہ وہ جنگ کی بھٹی سے گزرنے والے میانمار کی ظالم فوج کے تجربہ کار فوجی ہونے کے علاوہ ایک شریف انسان بھی ہیں۔
کئی دہائیوں کی فوجی آمریت کے بعد سنہ 2011 میں میانمار میں جمہوری نظام قائم ہو گیا لیکن ملک میں فوج کی بالادستی اور سیاسی اثر و رسوخ کم نہیں ہوا۔ ملک میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی یا یو ایس ڈی پی کی سربراہی میں حکومت کے قیام سے فوج کے سربراہ کا سیاست میں عمل دخل کم نہیں ہوا اور سوشل میڈیا پر ان کے بیانات میں اضافہ ہو گیا۔
2016 میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی جب حکومت قائم ہوئی تو فوج کے سربراہ نے اپنے آپ کو بھی بدلا اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کیا۔ عوامی تقریبات میں وہ آنگ سان سوچی کے ساتھ نظر آنے لگے۔ فوج کے سربراہ آنگ سان سوچی کے ساتھ مل کر کام کرنے میں بظاہر خوش نظر آتے تھے۔ اس تبدیلی کے باوجود انھوں نے ملک کی پارلیمان میں فوج کی 25 فیصد نشستوں اور سکیورٹی سے متعلق وفاقی کابینہ کے اہم عہدوں پر حاضر سروس فوجی افسران کی تعیناتی کو یقینی بنائے رکھا اور اس کے ساتھ ہی وہ آنگ سان سوچی کی حکومت کی طرف سے فوج کے اختیارات اور سیاسی معاملات میں کردار کو کم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی کوششوں کے سامنے رکاوٹ بھی بنے رہے۔
2016 اور سنہ 2017 میں ملک کی ریخائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیزی آ جانے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ملک میں ہونے والے اس قتل عام پر میانمار کی فوج کی بین الاقوامی سطح پر خوب مذمت کی گئی اور اگست 2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے کہا کہ ’میانمار کی فوج کے اعلی افسران اور خاص طور پر فوج کے سربراہ من آنگ ہلینگ کے خلاف شمالی ریاست ریخائن میں ہونے والے قتل عام پر تحقیقات کرائی جانی چاہیں اور ریخائن کے علاوہ شان اور کاچن کی ریاستوں میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات پر مقدمات چلائے جانے چاہیں۔‘ تاہم سوچی نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تاکہ فوج سے پنگا نہ پڑ جائے۔
ملک میں گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن فوجی کی حمایت یافتہ جماعت یو ایس ڈی پی نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یو ایس ڈی پی نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ ملک کے الیکشن کمیشن نے یکم فروری کو نئی پارلیمان کے اجلاس سے قبل، جس میں نو منتخب حکومت کی توثیق ہونا تھی، دھاندلی کے تمام الزامات کو رد کر دیا۔ یکم فروری کو فوج نے سٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی، ملک کے صدر ون مینت اور چند دیگر سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ من آنگ ہلینگ نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ہنگامی مدت کے دوران تمام سرکاری اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کی چھان بین کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ فوج کے سربراہ کے تحت منعقد ہونے والے نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا کہ انتخاب میں دھاندلی کے الزمات کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس اعلان سے عملاً گذشتہ انتخابات میں این ایل ڈی کی کامیابی کو رد کر دیا گیا ہے۔
فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ اس سال جولائی میں 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے لیکن انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر کے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر لی ہے۔ میانمار کو اس اقدام سے ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے لیکن من آنگ ہلینگ نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنی پوزیشن کو تو مستحکم کر لیا لیکن نوزائیدہ جمہوریت کا جنازہ نکال دیا۔
