سنیتا مارشل کے شوہر جلد شادی کیلئے کیوں تیار نہیں تھے؟

ماڈل و اداکارہ سنیتا مارشل نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر حسن احمد جلد شادی کیلئے تیار نہیں تھے، شادی کے بعد بھی وہ مجھ سے یہی کہتے رہے کہ ان کی شادی بہت جلد ہو گئی ہے، سنیتا مارشل اور حسن احمد نے 2008 میں شادی کی تھی، جوڑے کو دو بچے ہیں، جس میں سے بیٹے کی عمر 14 سال جبکہ بیٹی کی عمر 10 سال ہے جس وقت ان کی شادی ہوئی، اس وقت سنیتا مارشل ماڈلنگ کیریئر کے عروج پر تھیں جبکہ حسن احمد نے اس وقت اداکاری کا آغاز نہیں کیا تھا۔سنیتا مارشل نے 2000 میں شوبز میں قدم رکھا تھا، ابتدائی سالوں میں انہوں نے ماڈلنگ میں خوب نام کمایا، بعد ازاں سنیتا نے اداکاری کے میدان میں بھی خوب پذیرائی حاصل کی، دونوں کو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود شادی کرنے پر بعض مرتبہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، حسن احمد اسلام جبکہ سنیتا مارشل مسیحیت کی پیروکار ہیں۔حال ہی میں دونوں نے اے آر وائی کے ٹاک شو میں شرکت کی، جہاں دونوں نے شادی اور تعلقات سے متعلق کھل کر بات کی، حسن احمد نے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار سنیتا مارشل کو طیارے میں دیکھا تھا اور وہ انہیں دیکھتے ہی رہ گئے تھے، انہیں اسی وقت ان سے محبت ہوگئی، اس وقت حسن احمد ایڈور ٹائزنگ ایجنسی میں کام کرتے تھے اور ابتدائی دو سے تین ماہ تک انہوں نے صرف موبائل فون پر باتیں کیں اور اس وقت اسمارٹ موبائل نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ شروع میں کئی ماہ تک انہوں نے صرف ایک دوسرے کی آواز سنی تھی اور فون پر باتیں کرتے تھے اور تین ماہ بعد ایک دوسرے سے ملے۔حسن احمد نے بتایا کہ انہیں ان کے بڑے بھائی نے جنوری میں کہا کہ وہ کینیڈا شفٹ ہو رہے ہیں، اس لیے اپریل تک وہ شادی کرلیں۔ان کے مطابق وہ شادی کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی کرلی، حسن احمد نے اعتراف کیا کہ اس وقت سنیتا مارشل کیریئر کے عروج پر تھیں جب کہ ان کا کیریئر شروع ہی نہیں ہوا تھا اور ان کے مالی حالات بھی اچھے نہیں تھے۔سنیتا مارشل کے مطابق اگرچہ ان دونوں کا شادی کرنے کا منصوبہ تھا لیکن اتنی جلدی شادی کرنے کا ارادہ نہیں تھا اور جب ان کی شادی ہوگئی تو کافی عرصے تک شوہر انہیں کہتے رہے کہ ان کی شادی جلد ہوگئی۔ان کے شوہر اتنی جلدی شادی کرنے کیلئے تیار نہیں تھے، پروگرام کے دوران سنیتا مارشل نے بتایا کہ جب وہ کالج کے پہلے سال کی طالب علم تھیں تب انہوں نے پہلا فوٹوشوٹ کروایا تھا اور انہیں اس وقت تین ہزار روپے ملے تھے، ان کے مطابق کیریئر کے آغاز میں وہ کافی عرصے تک ماڈلنگ اور فوٹو شوٹ کرواتی رہیں لیکن انہوں نے کبھی ریمپ پر واک نہیں کی تھی اور انہیں ایسا کرنے سے ڈر لگتا تھا، فیشن ڈیزائنر نبیلہ نے انہیں صرف ایک ریمپ واک کرنے کا کہا اور پھر ان کا خوف ختم ہوگیا۔

Back to top button