سوا کروڑ مڈل کلاس پاکستانی مزید غریب کیسےہو گئے؟

ابتر معاشی حالات، مہنگائی اور بے روزگاری کے تھپیڑوں سے پاکستانیوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں سال مزید ایک کروڑ 25 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔2022 کے دوران 34.2 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے تھے، جبکہ رواں سال یہ شرح 39.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اس رپورٹ میں مختلف عوامل سمیت پاکستان کی غیر مستحکم سیاسی صورت حال کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، اقتصادی ماہرین اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابقـ ’’غربت کی لکیر‘‘ مال و زر کی حد ہے، لہٰذا اگر ایک شخص اس لکیر پر کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے غربت کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔عالمی بینک اور اقوام متحدہ اپنی رپورٹس میں اس کی مزید وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص کی یومیہ آمدنی 2.15 امریکی ڈالرز (تقریباً چھ سو روپے) ہے (جو ایک عالمی حد ہے) تو وہ غربت کی صف میں شمار ہوگا، تاہم اگر یومیہ آمدنی اس سے کم ہو تو اسے غریب ترین یعنی ’خط غربت سے نیچے‘ سمجھا جائے گا۔پشاور یونیورسٹی میں شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت ملک کے مطابق غربت کی لکیر کے نیچے وہ افراد ہوتے ہیں، جو دو وقت کھانے کی مالی استطاعت بھی نہیں رکھتے، نتیجتاً یہ لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات سمیت اکثر ایک محفوظ پناہ گاہ سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔پروفیسر ذلاکت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دو ڈالر یومیہ آمدنی کا عالمی بینچ مارک درست نہیں کیونکہ یہ پاکستان جیسے ممالک کے حالات کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا، پاکستان میں ہوشربا مہنگائی کے تناظر میں دو ڈالر یومیہ آمدنی یعنی چھ سو پاکستانی روپے جو کہ ماہانہ تقریباً اٹھارہ ہزار بنتے ہیں، بنیادی ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں، دنیا میں مختلف معیشت والے ممالک ہیں، کہیں کم آمدنی والے ہیں تو کہیں درمیانی۔

اسی حساب سے یومیہ آمدنی کا حساب بھی الگ ہوگا۔خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ماہر اقتصادیات پروفیسر ڈاکٹر سید وقار حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دراصل یومیہ دو ڈالرز کا فارمولا ’سروائیول‘ یعنی گزارے کے تناظر میں بنایا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایک انسان بس اتنی کیلیوریز لے کہ اگلے دن کام پر جا سکے۔ڈاکٹر وقار نے معاشی مسائل کو معاشرتی مسائل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے کی وجوہات ایک خاندان کا تین نسلوں کو پالنا، گھر میں پانچ سے دس افراد میں صرف ایک شخص کی کمائی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک میں ’سوشل پرابلمز‘ مضمون کے اسسٹنٹ پروفیسر فائق سجاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خط غربت کے تین تصورات ہیں، جو ایک فرد کو غربت کی فہرست میں ڈالتے ہیں۔ ایک تصور صحت کے حوالے سے ہے، دوسرا تصور یومیہ آمدنی کا ہے جو کہ موجودہ وقت میں یومیہ دو ڈالرز ہیں۔ اسی طرح خط غربت کا تیسرا تصور بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے کہ شیلٹر، صحت، خوراک اور تعلیم کی استطاعت نہ رکھنا ہے۔ان تین تصورات کی وجوہات سماجی، سیاسی، جغرافیائی، اقتصادیاتی اور دیگر ہیں، غربت سے بچاؤ کے حوالے سے مختلف حکومتوں میں عوامی سکیمیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، موجودہ حالات میں یہ کوششیں پھر بھی ناکافی ہیں، جو کہ غربت کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

Back to top button