سوشل میڈیا پر ’’شتر مرغ پلاؤ‘‘ کے چرچے کیوں ہونے لگے؟

رمضان المبارک کے دوران خصوصی عبادات کے ساتھ سحری اور افطاری کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے، صاحب حیثیت افراد کے ساتھ غریب، مساکین بھی رمضان المبارک کی رحمتوں سے بہراور ہوتے ہیں، لیکن اس دوران جے ڈی سی کے سیکرٹری ظفر عباس کی جانب سے لوگوں کیلئے سحری کے اہتمام میں ’’شتر مرغ پلائو‘‘ پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔پاکستان میں جہاں عوام مہنگائی کی دہائی دیتے ہیں وہیں ایک بلڈر کی جانب سے غربا کیلئے سحری کے وقت ان کی بہتر سے بہتر خدمت کرنے کی خاطر شتر مرغ کے گوشت سے بنائے گئے کھانے کا اہتمام کیا گیا جس پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں اور کیا شتر مرغ کھانے سے غریب یا مجبور شخص کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں؟جے ڈی سی کے سیکرٹری ظفر عباس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ 15 سے 20 ہزار لوگوں کی سحری کے لیے شتر مرغ پلاؤ کا اہتمام کیا گیا ہے جو شتر مرغ 30 ہزار کا ملتا تھا آج وہ ڈیڑھ لاکھ روپے میں خریدا گیا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ہم منڈی جائیں گے اور اگر کیلے کا سرکاری ریٹ جو 130 روپے درجن ہے اگر وہ 300 سے 500 روپے تک بک رہا ہوا تو ہم اس کا بائیکاٹ کریں گے، لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں ہونا چاہئے آٹے کا جو ریٹ مختص کیا گیا ہے اسی پر بکنا چاہئے۔ظفر عباس نے کہا کہ ہمیں گائے اور بچھیا کا گوشت نہیں مل رہا اور جو مل رہا ہے وہ 500 روپے کلو مہنگا ہے یہ ظلم ہو رہا ہے، اگر سرکاری ریٹ پر چیزیں نہیں بیچیں گے تو ہم بائیکاٹ کریں گے پھر اس پر رونا نہیں ہے، صحافی فیض اللہ خان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 15 سے 20 ہزار افراد کے لیے ایک بلڈر نے چرغے اور شتر مرغ کی سحری کا انتظام کیا ہے جو ملتان سے منگوائے جا رہے ہیں جس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ فی شتر مرغ ہے، یہ کس قسم کے اندھا دھند پیسے اندھا دھند کاموں میں لگا رہے ہیں؟صارفین نے پھل مہنگے ہونے پر بائیکاٹ کی دھمکی دینے پر ظفر عباس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک صارف نے کہا کہ 30 ہزار والا شتر مرغ ڈیڑھ لاکھ میں ملے تو وہ کھا لیں گے، لیکن 130 والا کیلا 400 میں ملے گا تو 5 دن کے لیے بائیکاٹ کریں گے، پتہ نہیں لوگوں نے عوام کو کیا سمجھ رکھا ہے۔انسانی حقوق کی سرگرم کارکن جلیلہ حیدر لکھتی ہیں کہ یہ پیسے ملک کے آئی ٹی سیکٹر، اے آئی وغیرہ میں لگائے جاتے تو شاید اس کا نتیجہ بھی کچھ نہ کچھ مل جائے۔ایک صارف نے لکھا کہ ثواب صرف نیت کا نہیں ہوتا اور بھی بہت سے عوامل کا احساس ضروری ہے آخر ہمیں سادگی سے اتنی نفرت کیوں ہے ؟عالم خان کاکر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شتر مرغ کی قیمت ڈیڑھ لاکھ بتائی جاتی ہے، کیا شتر مرغ کھانے سے غریب یا مجبور شخص کی مشکلات کم یا ختم ہوجاتی ہیں؟ صارف نے گزارش کی کہ فضول پیسہ ضائع کرنے کے بجائے عام روٹین کی چیزیں استعمال کرنی چاہئیں باقی پیسہ دوسرے شہروں میں مستحق افراد تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

Back to top button