مالاکنڈ میں نان کسٹم گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کیوں ہوگئی؟

شمالی علاقہ جات کا رخ کریں تو دلفریب نظارے تو دل لبھاتے ہی ہیں لیکن نئی نئی چمکتی گاڑیاں بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں، جن میں اکثریت نان کسٹم گاڑیوں کی ہوتی ہے۔سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے مرکزی بازار میں عمر دراز اپنی جاپانی موٹر کار کے قریب کھڑا آوازیں لگارہا تھا ’مینگورہ جانے کے لیے صرف 2 سواریاں، کچھ دیر بعد سواریاں پوری ہوتے ہی عمر دراز گاڑی کو مینگورہ کی جانب دوڑانے لگا، راستے میں عمر دراز نے پوچھنے پر بتایا کہ ’سوات کا موسم کے بعد ایک ہی فائدہ رہ گیا ہے کہ یہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلتی ہیں‘۔سوات کے مختلف علاقوں میں اس وقت 2 لاکھ کے قریب مختلف نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں، یہ علاقہ مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے اور خیبرپختونخوا میں سابق فاٹا اور پاٹا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو چلانے کی اجازت ہے۔رواں سال ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے فیصلہ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے، کسٹم حکام کا عسکری اور صوبائی لیول کے اعلیٰ افسران کے ساتھ اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا، گاڑیوں کی رجسٹریشن کیسے کی جائے؟ اس حوالے سے تجاویز طلب کی گئیں لیکن چند اجلاسوں کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل سرد خانے کی نذر ہوگیا، کسٹم کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کی 10 بڑی وجوہات ہیں، جب حکومت نے اعلان کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں این سی پی گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوگی تو تمام سیاسی جماعتوں نے مقامی سطح پر اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور حکومت کی ان کے سامنے ایک نہ چلی۔صوبائی حکومت نے جب اکتوبر کے مہینے میں این سی پی گاڑیوں کی پروفائلنگ کا آغاز کیا تو موجود گاڑیوں کی 20 فیصد بھی رجسٹر نہ ہوسکیں، مالاکنڈ ڈویژن میں گاڑیاں قبائلی اضلاع سے نہیں آتی بلکہ یہ گاڑیاں بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے داخل ہوکر مالاکنڈ لائی جاتی ہیں۔ اگر رجسٹریشن کاعمل مکمل بھی ہوا تو مزید آنے والی این سی پی گاڑیوں کا کیا ہوگا؟مالاکنڈ ڈویژن میں علاقائی سطح پر اکتوبر کے مہینے میں جب امن و امان کے قیام کے لیے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو ان مظاہروں کے دوران این سی پی گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ کرنے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں جس کے باعث ادارے دباؤ میں آگئے۔جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کہتے ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہے، ان میں بیشتر گاڑیاں لوگوں کیلئے روزگار کا بہت بڑا ذرایعہ بھی ہیں، منی ٹرکس، پک اپس اور موٹرکار کو مقامی سطح پر ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکار نے بتایا کہ 2018 میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ کی ایک مہم چلائی گئی تھی جس میں 10 ہزار سے بھی کم گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئی تھیں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔کمشنر مالاکنڈ ثاقب رضا نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا حتمی فیصلہ حکومت کا ہوگا، ابتدائی طور پر پروفائلنگ کے لیے گاڑیوں کی ایکسائز کے ساتھ رجسٹریشن ہوگی، 2018 میں جب سابق فاٹا اور پاٹا کی جداگانہ انتظامی حیثیت 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم ہوئی تو سابق فاٹا اور سابق پاٹا کو 5 سال کیلئے تمام ٹیکسز سے استثنیٰ دیا گیا۔ جون 2023 میں جب 5 سالہ مدت پوری ہو رہی تھی تو وفاقی حکومت نے ٹیکسز کے استثنیٰ میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی۔محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پاکستان میں جس طرح عجلت میں بغیر تیاری کے فیصلے کیے جاتے ہیں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلہ بھی جلد بازی میں کیا گیا جو اب نہ تو اداروں کیلئے ممکن ہے نا ہی مقامی لوگ اس پر عمل کیلئے تیار ہیں، قانون کی رو سے تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس وقت مکمل طور پر غیر قانونی ہیں لیکن اس بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟ جواب ندارد‘۔

Back to top button