سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ


کپتان حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی آزادی سلب کرنے کی خاطر ڈیجیٹل قوانین میں ترمیم کرنے کے ساتھ ساتھ یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر اور گوگل وغیرہ سے آمدنی حاصل کرنے والوں پاکستانیوں کو اب ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی ہیں۔
اس سے پہلے وفاقی کابینہ کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا قوانین میں ترامیم کے ذریعے فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر اور گوگل جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے کنٹری دفاتر کھولنے کا پابند کیا گیا ہے ورنہ انھیں یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو آن کمپنیوں کے لائن انفارمیشن سسٹم کو بلاک کرنے اور 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔

تاہم فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر اور دیگر بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں نے نئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر عملدرآمد ممکن نہیں اور ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے لیے اپنی سروسز بند کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدنی کمانے والوں نے حکومتی کی جانب سے خود کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب انہیں دو ممالک میں ٹیکس دینا پڑے گا کیوں کہ غیر ملکی سوشل میڈیا کمپنیاں پہلے ہی ان کی آمدن میں سے ٹیکس کے علاوہ 50 فیصد سے بھی زائد کٹوتی کر لیتی ہیں۔

اردو نیوز کے مطابق ایف بی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈیجیٹل پلیٹ فارمز فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب، گوگل اور دیگر ایسے پلیٹ فارمز جو پاکستان میں کام کر رہے ہیں اور انہیں مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے، انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر بہت بڑا ریونیو جمع کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے جلد ہی اقدامات شروع کر دیے جائیں گے۔‘ ایف بی آر کے حکام کے مطابق ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان میں ان پلیٹ فارمز کے دفاتر موجود نہ ہونا ہے، حکومت نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں دفاتر کھولنے کی درخواست بھی کی ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قوانین کی پابندی کے حوالے سے آگاہ کرنے کی ہدایات کر دی ہیں۔‘

حکام کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ان صارفین کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدن کماتے ہیں۔‘ خیال رہے کہ ایف بی آر اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کا اعلان کر چکا ہے۔ دوسری جانب ایف بی آر نے ٹیکس آرڈیننس کے ذریعے ای کامرس انڈسٹری کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  ٹیکس آرڈیننس کے مطابق آن لائن اشیاء فروخت کرنے والوں کو ایف بی آر کے سسٹم منسلک کرنے اور ودہولڈنگ ٹیکس جمع کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی کابینہ کی جانب سے فنانس ایکٹ اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں منظور کردہ ترامیم کے ذریعے آف شور ڈیجیٹل خدمات پر ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو متعدد بار اپنے دفاتر کھولنے کی درخواست کی گئی ہے تاہم سوشل میڈیا کے حوالے سے واضح پالیسی نہ ہونے اور سوشل میڈیا رولز کے حوالے سے تحفظات کے باعث کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی تھی۔ لیکن اب حکومت نے سختی کے ساتھ پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر اپنے کنٹری دفاتر قائم کریں ورنہ ان کے لئے یہاں کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

Back to top button