سوشل میڈیا کو نکیل ڈالنے پر عالمی ادارے بھی چیخ اٹھے

پاکستان میں مین سٹریم میڈیا کو سخت ترین سنسر شپ کے ذریعے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے کے بعد اب کپتان سرکار نے ڈیجیٹل میڈیا کو نکیل ڈالنے کی کوشش میں شہریوں سے آزادی اظہار رائے کا بنیادی حق بھی چھین لیا ہے۔ اس بات کی تصدیق اب اظہارِ رائے پر کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فریڈم نیٹ ورک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھی کردی ہے۔
2020 میں فریڈم آف دی ورلڈ کی آزادی اظہارِ رائے پر مبنی عالمی فہرست میں فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ نے پاکستان کو جزوی طور پر آزاد قرار دیتے ہوئے 100 ممالک میں 38 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ 30 اکتوبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل انٹرنیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر آزادیِ اظہارِ رائے پر کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی جاری شدہ رپورٹ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا ایک تاریک منظر پیش کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات اٹھائے گئے اور سماجی رابطوں کے ویب سائٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بات کرنے والوں کے اظہارِ رائے پر پابندی لگا دی گئی۔ یاد ریے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں حکومتِ پاکستان نے ایک متنازع کینیڈین کمپنی سینڈوائن سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے ترسیل کی جانے والی معلومات کی نگرانی اور جائزہ لینے کے لیے مدد حاصل کی تھی۔ ایک کروڑ آٹھ لاکھ ڈالرز سالانہ فیس کے عوض ہونے والے اس معاہدے کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کا یہ سسٹم ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کا استعمال کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ کی نگرانی سے لے کر کسی صارف کی ذاتی کال کے ڈیٹا تک کی معلومات حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اس معاہدے کی خبر لیک ہونےکے بعد عوام میں خاصی تشویش پھیلی اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی اتنی ننگی نگرانی کس قانون کے تحت کی جارہی ہے۔
اس بارے میں ڈیجیٹل میڈیا کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی شریک بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ صارفین کی نگرانی کا موجودہ سسٹم ایسا ہے جیسے کہ آپ دو لوگوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو سُن لیں، یا کسی کا بھیجا ہوا خط کھول کر پڑھ لیں۔ فریحہ کے بقول اس سال پی تی آئی حکومت کے دور میں آزادی سے اظہارِ رائے کرنے والوں کے خلاف درجنوں ایف آئی آر بھی درج کی گئیں، سماجی رابطوں کی ایپس کو دھمکایا گیا یا پھر بند کر دیا گیا، اسکے علاوہ ایسے قوانین کا استعمال کیا گیا جن کے بارے میں سماجی کارکنان نے پہلے سے متنبہ کیا تھا کہ یہ لوگوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔
اب انٹرنیشنل انٹرنیٹ ڈے پر آزادیِ اظہارِ رائے پر کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی جاری کردہ تازہ رپورٹ بھی خاصا تاریک منظر پیش کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے میڈیا کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھائے گئے جن کے تحت نہ صرف سوشل میڈیا کو محدود کیا گیا بلکہ سماجی رابطوں کے ویب سائٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بات کرنے والوں کے اظہارِ رائے پر بھی پابندی لگادی گئی۔ ان قوانین کی زد میں جہاں ویڈیو بلاگرز اور ٹِک ٹاکرز شامل ہیں وہیں سماجی کارکنان، سیاست دان، صحافی اور وکلا بھی پابندیوں کا شکار ہوئے۔
رواں سال جولائی میں یکِے بعد دیگرے پہلے ٹِک ٹاک ویڈیو ایپ کو انتباہ جاری کیا گیا جبکہ ایک اور ایپ بیگو لائیو کو بند کردیا گیا۔ اس کے بعد رواں ماہ ٹِک ٹاک کو پھر سے وارننگ پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں بند کردیا گیا۔ حکومت نے ٹِک ٹاک پر غیر اخلاقی اور ناشائستہ مواد کی بنیاد پر پابندی عائد کی۔ لیکن دس دن بعد چینی حکومت کا دباو آنے کے بعد ٹک ٹاک ایپ کو مشروط طور پر دوبارہ کھول دیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے موجودہ دور میں صحافیوں اور کالم نگاروں، کے خلاف ن لیگ دور میں بننے والے متنازعہ قانون پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کا بے انتہا غلط استعمال کیا گیا ہے تاکہ سوشل میڈیا پر سرگرم صحافیوں کو سبق سکھایا گیا اور انہیں حکومت پر تنقید سے روکنے کے لیے پیکا کا قانون بے دریغ استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ عمران خان حکومت نے پیکا قانون میں ترمیم کر کے حال ہی میں آن لائن مواد پر سنسر شپ عائد۔کرنے کے لیے نئے قواعد جاری کردیے ہیں۔فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال پاکستانی حکام نے انٹرنیٹ آزادی خاصی محدود کر دی، جبکہ ٹویٹر یا فیس بُک پر نشر کی گئی پوسٹ پر صحافیوں اور سماجی کارکنان کو انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ وارنٹ بھی جاری کیے گئے اور سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف مقدمات، اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
