سپریم کورٹ کا فیصلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے لیے بڑا جھٹکا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آٹھ ججز کا تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا اکثریتی فیصلہ نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھلی بغاوت قرار دیا جا رہا یے بلکہ اسے شہباز شریف حکومت کے لیے بھی ایک بہت بڑا جھٹکا گردانا جا رہا ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف وفاقی حکومت کی دو تہائی اکثریت ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کی مخالف تحریک انصاف مزید سیٹیں حاصل کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اور بھی ذیادہ مضبوط ہونے جا رہی ہے۔
پانچ کے مقابلے میں آٹھ ججز نے اپنے اکثرتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، لہذا وہ اپنی سیٹیں حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو 15 روز میں اپنے امیدواروں لسٹ جمع کروائے۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں بطور جماعت تسلیم کی جاتی یے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جماعت اپنے الیکشن سمبل پر انتخاب نہ لڑ پائے تو اس جماعت کو انتخابات سے باہر نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے قرار دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے، کیونکہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 39 اراکین قومی اسمبلی کو پی ٹی آئی کے اراکین تسلیم کرتے ہوئے کہا یے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد قرار دیے گے 80 اراکین قومی اسمبلی میں سے 39 اراکین تحریک انصاف سے تعلق رکھتے تھے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 80 میں سے باقی 41 اراکین قومی اسمبلی 15 دن میں واضح کریں کہ انہوں نے کس جماعت سے الیکشن لڑا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اطلاق تمام قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر ہوگا، فیصلے میں کہا گیا یے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، اور سندھ میں مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دے دی جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 14 مارچ 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
اب جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 رکنی فل بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا یے۔ یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھا گیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے بتایا کہ فیصلہ 8/5 کے تناسب سے ہے، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کے حق میں اکثریتی فیصلہ دیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواستوں کی مخالفت کی۔
