سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہباز حکومت کو فرق کیوں نہیں پڑے گا

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے حکم نامے کے باوجود شہباز شریف کی وفاقی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا جس کے پاس اس وقت 209 اراکین کی اکثریت موجود ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جمیعت علمائے اسلام کی قومی اسمبلی میں 22 نشستیں کم ہو جائیں گی اور یہی سیٹیں تحریک انصاف کو الاٹ ہو جائیں گی۔ یاد رہے کہ وزارت عظمی کے الیکشن میں شہباز شریف نے 201 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار عمر ایوب خان صرف 92 ووٹ حاصل کر سکے تھے لہذا سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود شہباز شریف کی وزارت عظمی کسی قسم کے خطرے میں نظر نہیں آتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نظیر تارڑ نے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت کو عدالتی فیصلے سے کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پٹیشن سنی اتحاد کونسل نے دائر کی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکلتے ہوئے سیٹیں تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کا فیصلہ دیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر یے۔
یاد رہے کہ رواں برس آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کو بطور جماعت الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی آئین کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔ انتخابات میں تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ اُمیدواروں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا جن کی بڑی تعداد انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی۔ بعدازاں تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے ساتھ پارلیمانی اتحاد کر لیا تھا۔ جب خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو کمیشن نے وہ نشستیں جو سنی اتحاد کونسل کے حصے میں آنا تھیں وہ حکومتی اتحادی جماعتوں میں تقسیم کر دی تھیں۔ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم عدالت نے کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس کے خلاف سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
چھ مئی 2024 کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔ سنی اتحاد کونسل کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے خواتین اور اقلیتوں کی اسے ملنے والی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی تھیں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف تھا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی اہل نہیں کیوںنکہ پارٹی نے انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کے لیے ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی تھی۔
سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کے دورن سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 77 مخصوص نشستیں ہیں جو سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔ ان 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کی معطل 22 نشستوں میں پنجاب سے خواتین کی 11، خیبر پختونخوا سے آٹھ سیٹیں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کی معطل مخصوص نشستوں میں 3 اقلیتی مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں۔
ان کے ارکان کی رکنیت بھی معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے حکم کے بعد 13 مئی 2024 کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 77 مخصوص نشستوں پر آنے والے ارکان کی رکنیت کو معطل کر دیا تھا۔ الیکشن کمیشن اور پھر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کو 14، پیپلز پارٹی کو پانچ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کو تین اضافی نشستیں ملی تھیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں 21 خواتین اور چار اقلیتی مخصوص نشستیں ہیں جن میں سے جے یو آئی (ف) کو 10، مسلم لیگ (ن) کو سات، پیپلز پارٹی کو سات جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کو ایک اضافی نشست ملی تھی۔ لیکن اب یہ تمام نشستیں واپس ہو جائیں گی تاہم اس سے پنجاب یا مرکز میں اتحادی حکومت کی پوزیشن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
