سپریم کورٹ کے فیصلے میں آئین و قانون نظر نہیں آیا ، مصطفیٰ کمال

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نےسپریم کورٹ کی جانب سےتحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دینےکے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ آج کےفیصلے سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔ فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا جو مانگا ہی نہیں گیا تھا۔آئین وقانون اس فیصلے میں نظر نہیں آتا۔جوڈیشری کی تاریخ میں آج کا دن ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال کاکہنا تھا کہ جس پارٹی کا سربراہ ہی وہاں سے نہیں لڑ رہا اس میں ایک پارٹی کوپہلے ضم کیاگیا،مقدمہ چل رہا تھا سیٹیں سنی اتحاد کونسل کودی جائیں،آئین وقانون اس فیصلے میں نظر نہیں آتا۔

رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال کاکہنا تھا کہ ایک عام آدمی کاعدالتوں میں کوئی پرسان حال نہیں،آئین و قانون کی تھوڑی سی بالادستی رہ گئی تھی،آج بتایاگیا اگر آپ کو گالیاں دینا آتی ہیں تو پھرپاکستان، عدلیہ اور ادارے آپ کےہیں، آپ کو حق نہیں ہے پاکستان میں کسی غلط کو غلط کہنا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی سے نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے،ہم آئے ہوئے فیصلے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتے ہیں،ہم کب اتنےاچھے پاکستانی بنیں گےاور ایسا ریلیف کب دیا جائے گا،جوڈیشری کی تاریخ میں آج کا دن ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

Back to top button