سپیکرخیبرپختونخوا نو منتخب اراکین سے حلف لینے سے انکاری کیوں؟

پشاور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے درخواست مسترد ہونے کے بعد مخصوص نشستیں اپوزیشن جماعتوں کو تو مل گئیں لیکن سینیٹ الیکشن سر پر ہونے کے باوجود بھی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی سے حلف لینے سے گریزاں ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیسن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ اسپیکر مخصوص نشست پر آنے والے اراکین سے حلف لینے کے لیے اجلاس نہیں بلا رہے اور انہیں سینیٹ الیکشن میں ووٹ سے محروم رکھنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مخصوص نشستوں پر آنے والے اراکین سے حلف نہ لینا ناانصافی ہے جس کے خلاف قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق ’ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اور عدالت و الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے تاکہ سینیٹ الیکشن سے پہلے حلف برداری یقینی بنائی جائے‘۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین سے حلف لینے سے انکاری کیوں ہیں؟مخصوص نشستوں پر آنے والے اراکین سے حلف لیا گیا تو پی ٹی آئی کو کیا نقصان ہوگا؟
مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کرکے مخصوص نشستیں اپوزیشن جماعتوں کو دے دیں جس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں اکثریت کے باوجود بھی سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا لیکن درخواست خارج ہوگئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مخصوص نشستیں نہ ملنے سے اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی تحریک انصاف کو بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ مخصوص نشستیں نہ ملنے کی وجہ سے سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ اس وقت 145 اراکین پر مشتمل اسمبلی مکمل نہیں ہے اور 25 مخصوص نشستوں پر آنے والے اراکین نے حلف نہیں لیا ہے جن میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی اراکین شامل ہیں۔ یہ 25 نشستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اس صورتحال کا سینیٹ الیکشن پر بڑا اثر پڑے گا۔ مبصرین کے مطابق سینیٹ کے لیے خیبر پختونخوا سے 11 سینیٹر منتخب ہوں گے جن میں 7 جنرل، 2 ٹیکنوکریٹ اور 2 خواتین کی نشستیں شامل ہیں۔ اگر دیکھا جائے جنرل نشست پر ایک سینیٹر 20.71 اراکین کے ووٹ سے منتخب ہوگا اور اگر یہ اراکین حلف اٹھاتے ہیں تو تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل ایک نشست سے محروم ہوجائے گی۔پی ٹی آئی ایک جنرل ہی نہیں بلکہ ٹیکنوکریٹ اور مخصوص کی ایک، ایک نشست سے بھی محروم ہوسکتی ہے۔ کیونکہ مخصوص اور ٹیکنوکریٹ کے لیے 5.75 ووٹ درکار ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی مکمل کوشش ہوگی کہ 2 اپریل کو ہونے والے سینیٹ الیکشن تک یہ اراکین حلف نہ اٹھا سکیں تاکہ اسے سینیٹ الیکشن میں فائدہ ہو۔ تاہم ’سینیٹ الیکشن کے علاوہ ان اراکین سے تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اسمبلی میں پی ٹی آئی واضح اکثریت میں ہے‘۔ تاہم حکومتی حکمت عملی پر اپوزیشن جماعتیں بھی خاموش نہیں بیٹھیں گی اور مکمل کوشش کریں گی اور عدالتوں کے ذریعے حلف کو یقینی بنانے کی مکمل کوشش کریں گی۔
خیال رہے کہ عام انتخابات کے بعد اب 2 اپریل کو ایوان بالا سینیٹ کی 48 خالی نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں، چاروں صوبوں سے سینیٹ کی 7،7 جنرل، 2،2 ٹیکنوکریٹ اور 2 خواتین کی نشستوں اور پنجاب اور سندھ سے ایک ایک اقلیتی نشست پر بھی انتخاب ہوگا جبکہ اسلام آباد سے ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست پر انتخاب ہوگا۔
پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر سے 9 مئی واقعات میں نامزد رہنماؤں کو سینیٹ انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، پنجاب کی 2 جنرل نشستوں پر زلفی بخاری، خواتین کی نشست پر یاسمین راشد اور صنم جاوید کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ زلفی بخاری 9 مئی واقعات کے مقدمات میں نامزد تو ہیں تاہم وہ اس وقت بیرون ملک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ 9 مئی کو پاکستان میں موجود ہی نہ تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اور صنم جاوید 9 مئی مقدمات کے سلسلے میں اس وقت بھی سینٹرل جیل لاہور میں قید ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے بھی جن رہنماؤں کو سینیٹ انتخابات میں امیدوار نامزد کیا ہے ان میں سے بیشتر 9 مئی واقعات میں نامزد رہ چکے ہیں، مراد سعید اور فیصل جاوید کو جنرل نشستوں پر جبکہ اعظم سواتی کو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ فیصل جاوید تو 9 ماہ روپوش رہنے کے بعد منظر عام پر آگئے ہیں تاہم مراد سعید اور اعظم سواتی اس وقت بھی روپوش ہیں تاہم۔ مختلف اعتراضات کی وجہ سے اعظم سواتی اور مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں۔
