سیاست سے مائنس ہونے والے کپتان کے وسیم اکرم پلس

نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد پیداشدہ صورتحال میں متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارٹی اور عمران خان سے مکمل یا جزوی علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس دوران مسلسل یہ بات نوٹ کی جاتی رہی ہے کہ تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے صدر اور سابق وزیراعلی پرویز خٹک اور سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ابھی تک عمران خان کے ساتھ ہیں۔جمعرات کی رات ایک منٹ کی پریس کانفرنس میں پرویز خٹک نے تحریک انصاف کے عہدوں سے استعفی کا اعلان کیا۔ اگلے ہی روز پنجاب کے سابق وزیراعلی بھی عمران خان سے الگ ہو گئے۔سردار عثمان بزدار کی سیاست چھوڑنے کی خبر ٹائم لائنز پر آتے ہی وائرل ہو گئی۔ ٹوئپس نے اس پر تبصرے کیے تو ملاجلا ردعمل دیا۔

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی چھوڑ جانے والے ہر رہنما کے حوالے سے تبصرے ہوتے ہیں لیکن عثمان بزدار کی طرف سے سیاست چھوڑنے کا اعلان سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر سنجیدہ تبصروں سے زیادہ لطیفے اور میمز نظر آ رہی ہیں۔مہرین زہرہ ملک نے ایک ٹویٹ میں عثمان بزدار کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر عمران خان اور فوج کی محبت کی داستان ختم ہونے کی کوئی ایک وجہ تھی تو وہ عثمان بزدار تھے۔ یہاں سے ہی دراڑ پڑنے کی شروعات ہوئی تھی۔ مجھے نہیں پتا کہ ہنسوں یا روؤں۔

جب عثمان بزدار وزیر اعلیٰ تھے تو عمران خان انہیں ’وسیم اکرم پلس‘ کہا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاست چھوڑنے پر بھی سوشل میڈیا پر اسی لقب کا چرچا ہے۔صحافی و اینکرپرسن اجمل جامی نے لکھا کہ ’تحریک انصاف کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا۔ وسیم اکرم پلس اور سابق وزیراعلیٰ بزدار نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔اینکرپرسن عادل شاہزیب نے لکھا کہ ’سیاسی طور پر عمران خان کا سب سے بڑا بلنڈر وسیم اکرم پلس ہر لحاظ سے خان کے لیے مائنس ہی ثابت ہوا۔

گھمن نامی صارف نے عثمان بزدار کی تصویر ٹویٹ کرکے لکھا کہ ’گھر میں سولر سسٹم لگوا لیا ہے۔ اب سیاست میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔کامی نامی صارف نے لکھا کہ ’عثمان بزدار کے جانے سے جو سیاست میں خلا پیدا ہوگیا ہے اُمت مسلمہ اس نقصان کو کیسے پورا کرے گی سمجھ نہیں آ رہا۔پاکستانی صحافی خرم شہزاد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’عمران خان کو عثمان بزدار پر مقدمہ کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے ان کی حکومت گئی وہ خود ہی انہیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔

تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے دور میں عثمان بزدار کی وزارت اعلی کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کا موقف رہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو پنجاب حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے عثمان بزدار کو وزارت اعلی سے ہٹا کر کسی فعال فرد کو اس پوزیشن پر لانا چاہیے۔ اس مسلسل مطالبے کے باوجود عمران خان نے اپنے منتخب کردہ وزیراعلی کو تین برس سے زائد تک اہم پوزیشن پر برقرار رکھا۔

پی ٹی آئی کے حامی صارفین نے عثمان بزدار کی جانب سے سیاست چھوڑنے کو ’پارٹی میں خوشی کی لہر دوڑنے‘ سے تعبیر کیا تو لکھا کہ ’وہ چاہتا تو ایک بار پھر پنجاب کی وزارت اعلٰی کا امیدوار بن سکتا تھا لیکن اس نے پارٹی کے وسیع تر مفاد میں سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا۔

ایسے ہی ایک شعری تبصرے میں عثمان بزدار کی تصویر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’لازم نہیں ہر بار تجھے ہم ہوں میسر – ممکن ہے تو اس بار ہمیں سچ میں گنوا دے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہد رند نے عثمان بزدار کی علیحدگی کو ’اگلے ٹورنامنٹ سے دستبرداری‘ قرار دیتے ہوئے اطلاع دی کہ تحریک انصاف کے ایک اور رہنما ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی بابر موسی خیل بھی علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔

فیصل عباسی نے مستقبل کی نقشہ گری کی تو لکھا کہ ’وعدہ معاف گواہوں‘ کا سلسلہ چل پڑا تو عثمان بزدار سب سے خطرناک گواہ ثابت ہوں گے۔صوبہ بلوچستان کی سرحد پر پنجاب کے آخری جنوبی ضلع ڈیرہ غازی خان میں یکم مئی 1969 کو پیدا ہونے والے سردار عثمان خان بزدار سابق وزیراعظم عمران خان کے اپنے ساتھیوں اور اُس وقت کے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کی پہلی وجہ بنے تھے۔عثمان بزدار ہی وہ ہستی تھے جس کے توسط سے عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرح بی بی کے متعلق ان پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگے لیکن عمران خان آخری وقت تک ان کا دفاع کرتے رہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد مخالفین کی جانب سے الزامات لگائے گیے کہ عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرح بی بی کے ذریعے عثمان بزدار کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے متعدد سرکاری کاموں اور افسران کے تبادلوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر پیسے کمائے ہیں۔عمران خان آخری وقت تک ان کا دفاع کرتے رہے اور اب ان کے چھوڑ جانے کے بعد مبصرین تبصرے کررہے ہیں کہ عثمان بزدار عمران خان کا وہ ’وسیم اکرم پلس‘ ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے ان کی سیاسی زندگی کے انتہائی اہم میچ کے آخری اوور میں ’میچ فکسنگ‘ کر کے انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

Back to top button