سیاسی لوٹوں کے خاندان میں صف ماتم کیوں بچھ گئی؟


سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ وفاداریاں بدلنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کا حالیہ فیصلہ آنے کے بعد سیاسی لوٹوں کےخاندان میں تو جیسے صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ ایک لوٹے نے تو غصہ میں مجھے فون کر کے احتجاج کیا کہ ’’مظہر صاحب آخر ہماری بھی معاشرے میں کوئی عزت ہے‘‘۔ اس کی بات ذرا دل کو لگی کہ بچارے اس مہنگائی کے دور میں کہاں جائیں گے، اور کچھ نہیں تو کم از کم پرانی وفاداری کا ہی خیال کر لیا جاتا۔ مظہر کے بقول یہ فیصلے ایسے موقع پر آئے جب کئی لوٹوں کی تیسری اور کسی کی چوتھی نسل تیار ہو رہی تھی۔ ابھی تو الیکشن سیزن آنے والا تھا جس کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ آتا اور واضح اکثریت نا ملنے پر سیاسی جماعتیں لوٹا ساز فیکٹری کا رخ کرتیں، کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے ہی اس انڈسٹری کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس بتاتے ہیں کہ سیاسی لوٹا سازی چالیس سال پرانا کاروبار ہے۔ اللہ بخشے ہمارے آمروں کو اس کاروبار کو وسعت دینےمیں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آخرکون سی حکومت ہے جو انہوں نے نہیں بنوائی یا نہیں گروائی؟ بہرحال اب لوٹا انڈسٹری نے آنے والے ممکنہ نقصانات سے بچنے اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کمیشن سے بھی رابطہ کیا ہے کہ وہ ان کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے خلاف ایک رٹ داخل کرے۔ دوسرا چونکہ ان فیصلوں سے ملک بھر کے لوٹے متاثر ہوئے ہیں اور انہیں 18ویں ترمیم میں بھی کوئی تحفظ حاصل نہیں لہٰذا ایک ملک گیر کنونشن بلانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے کیونکہ ان میں سے کچھ گروپ کی شکل میں اب بھی موجود ہیں بلکہ انہوں نے جماعتیں بنا کر اپنے آپ کو محفوظ بنا لیا ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ حالیہ فیصلوں کے پیچھے جو بھی عوامل ہوں اس سے جنوبی پنجاب کے کچھ خاندان فوری متاثر ہوئے ہیں جن میں خاص طور پر کوئی مخدوم تو کوئی رئیس بتائے جاتے ہیں جن کی نسلوں نے اس کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کئی حکومتیں بنوانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سب سے وفاداری بھی رہی اور غداری بھی۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے لے کر عمران خان کے خلاف تحریک تک اورعثمان بزدار سے وفاداری سے لے کر حمزہ شہباز پر اعتماد تک ان خاندانوں نے مثالی کردار ادا کیا۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ لوٹوں نے نیوٹرلز سے بھی رابطہ کیا ہے یہ جاننے کے لئے کہ کیا وہ واقعی نیوٹرل ہیں کیونکہ کچھ کو شک ہے کہ آخر رات 12 بجے کھلنے والی عدالت دن کے 12 بجے ایسے فیصلے کیسے کر سکتی ہے جس سے پہلے سے موجود معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو کیونکہ اس طرح لوٹا انڈسٹری مفلوج ہو سکتی ہے۔

حالیہ مہینوں میں ٹیلی فون کالز بند ہونے سے بھی خاصہ نقصان ہوا کیونکہ اس سے لوٹوں کی کنفیوژن میں اضافہ ہوا ورنہ پہلے تو ایک کال پر سرکاری بینچ پر اور دوسری پر اپوزیشن بینچ پر ۔ایک نے مثال دی کہ آخر سینٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر کیا ہوا تھا۔ تحریک پیش کرتے وقت کھڑا ہونے کو یہاں تو اکثریت کھڑی ہوئی مگر سیکریٹ بیلٹ پر صادق سنجرانی صاحب فاتح ٹھہرے۔ ویسے ایک بار میاں صاحب کو بھی ایسا دھچکا لگ چکا ہے جیسا کہ میر حاصل بزنجو مرحوم کو لگا تھا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ تاریخی طور پر آج کے لوٹوں کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اب تو ماشا اللہ پوری جماعت اور آزاد گروپس بن گئے ہیں جو آسانی سے 63-A سے بچ بھی سکتے ہیں۔لوٹوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر انہوں نے ان تمام جماعتوں سے رابطہ کیا ہے جن کی وہ ماضی یا حال میں حمایت کرتے رہے ہیں۔
 اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی صاحب کا حالیہ بیان ان کے لئے حوصلہ افزا ہے جس میں انہوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’بہت سے منحرفین‘‘ واپس آنے کے لئے رابطہ کر رہے ہیں۔ آخر شاہ صاحب وضع دار آدمی ہیں جنوبی پنجاب کے لوٹوں کا تحفظ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بہت سے لوٹوں کا یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے بھی اعلیٰ عدلیہ کے ماضی کی طرح ہمیشہ نظریۂ ضرورت کے تحت قومی مفادمیں، اور اداروں کے کہنے پر کام کیا ورنہ آج پی پی پی اور پی ایم ایل میں تقسیم ہوتی نہ ایم کیو ایم 90 سے دربدر ہوتی نہ کوئی جام صادق وزیر اعلیٰ بنتا نہ مظفر حسین شاہ اور نہ ہی منظور وٹو اور شاید عثمان بزدار بھی تخت پنجاب پر براجمان نہ ہو پاتے۔ بقول مظہر عباس، لوٹوں کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تحفظ دیا جاتا ہے اور 63-A کی تشریح بھی کر دی جاتی ہے اور انہیں ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے آخر انصاف کا یہ دہرا معیار کیوں؟‘

Back to top button