سیاسی و ریاستی کرداروں کے ہاتھوں کے طوطے کیسے اڑے؟

ملک میں مہنگائی کا جن آپے سے باہر اور ہر طرف سے بجلی گیس تیل کے بلوں اوراشیائے ضروریہ کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی دہائی ہے لیکن اس پر کوئی کان دھرنے والا نہیں ۔ جانے کس نے کس کس کے ساتھ کیاہاتھ کیا یا پھر کس کے ساتھ ہاتھ ہو گیا؟ لگتا پر یہ ہے کہ ہر کسی نے ہر کسی کے ساتھ ہاتھ کیا، یوں سب کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ کوئی پہلے سے ہاتھ مل رہا تھا، کوئی اب مل رہا ہے۔ یوں کہیے کہ سارے سیاسی و ریاستی کرداروں کے ہاتھوں کے طوطےآخر کار اُڑ گئے ہیں۔ اس بوکھلاہٹ میں جانے بی بی جمہوریت کی سیٹی کہیں گم ہو کے رہ گئی ہے، جس کا کہ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی امتیاز عالم نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ امتیاز عالم کا مزید کہنا ہے کہ ملکہ حالات پر ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے سیاسی جماعتوں اور ریاست کے معززاداروں کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا اور جس کا جتنا دوش ہے وہ سرِعام قبول کرنا ہوگا، ورنہ قلب ماہیت ممکن نہیں۔ کیا ملک کے یہ حالات ہیں کہ بحران پہ بحران تھونپا جائے۔ کسی بھی معیشت دان سے پوچھ لیجیے کہ ملکی معیشت کا جو حال ہے وہ آئندہ ایک دہائی میں بھی سنبھلنے والا نہیں۔ جبکہ عوام کا انبوہِ کثیر تنگ آمد بجنگ آمد پہ مجبور ہواجاتا ہے۔ بجلی کے بل موت کا پروانہ بن گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی سرکلر قرضہ ختم ہونے کو نہیں، نہ ہو سکے گا۔ شہروں اورقصبوں میں’’بجلی کا بل دیں یا روٹی کھائیں‘‘ کے نعرے پہ مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، دیکھیے عوامی لاوا کب پھٹتا ہے۔قوم کو یہ بھی تو بتایا جائے کہ بجلی چور کون ہیں، کتنے بند کارخانوں کو کیپسٹی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، ٹیکس نادہندوں کا بوجھ بجلی کے بلوں میں متعدد ٹیکسوں کی صورت کیوں عوام پر لادا جارہا ہے اور بجلی کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدے جس اسپیڈ کے ساتھ کیے گئے تھے، اُن سے بھی تو کوئی حساب کتاب لیا جائے۔

امتیاز عالم کے بقول معیشت سنبھل نہیں رہی اور نہ موجودہ سنگین معاشی بحران کا حل آئی ایم ایف کے کِرم خوردہ نسخوں کے پاس ہے۔ویسے اگر آئی ایم ایف کہتا ہے کہ سبسڈی غریبوں کو امیروں کو نہیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ اور کسی انقلابی حل کیلئے اُمرااور اُن کے دم چھلے معیشت دان تیار نہیں ہیں۔ جب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے تو ہر شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے جو ’’ایک کھڑکی‘‘ ’’کل حکومت‘‘نے کھولی ہے وہ مارکیٹ کے ہاتھوں میں نہیں ریاست کے فولادی ہاتھوں میں ہے اور ان فولادی ہاتھوں کی کرم نوازیاں ہم دہائیوں سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔

امتیاز عالم کا مزید کہنا ہے کہ چلیے معیشت تو گئی ہاتھ سے تو اب سیاست کے سارے جمہوری تانے بانے توڑنے پہ کیوں اصرار ہے۔ سویلین چلا نہیں پائے یا انہیں اگر چلنے نہیں دیا گیا توخاکی بھی کتنی ہی بار نظام حکومت چلا کر ملک کو بدترین حادثوں اور تباہ کاریوں سے دوچار کر چکے ہیں۔اب گلہ کیا جائے تو کس سے، شکوہ کیا جائے تو کس سے؟ سیاست ہے کہ متعفن ہو گئی ہے اور ہر کسی کے ہاتھ گند سےبھر گئے ہیں۔ لیکن کوئی فرق پڑنے والا نہیں کہ ریاست کا پرنالہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اب جمہوری پھریرا کون اُٹھائے، سول سوسائٹی کے نازک کندھے ابھی یہ بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی تو بولے اور کنڈی کھولے!

امتیاز عالم کے بقوک عمران خان نے جرنیلوں کے ساتھ مل کر سبھی جماعتوں کے ساتھ ہاتھ کر دیا، جب اُنہوں نے سر پر ہاتھ رکھنے والوں کے ساتھ ہاتھ کرنے کی کوشش کی تو اُن کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ شریف خاندان نے ہاتھ دکھایا تو منہ کی کھانی پڑی، پھرفوج کے ساتھ مل کر عمران خان کو ہاتھ دکھانے کی کوشش کی تو پوری پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ہو گیا اور اب سب کےہاتھ پاوُں پھولے ہوئے ہیں کہ عوام کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہ گئے۔ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ریاست جو بچانی تھی جو کبھی اُن کے ہاتھ میں نہ تھی، جو چھوٹی موٹی سیاست تھی اس کا بھی منہ کالا کروا بیٹھے۔

عمران خان کے ہائبرڈ رجیم اول کے اندرونی خلفشار سے کچھ حاصل نہ ہو سکا توشہباز شریف کی سمجھوتے کی اسپیڈ پہ اتحادی حکومت اگر وسیع البنیاد ہائبرڈ رجیم دوم بنی بھی تو تمام تر سویلین اوقات اور جمہوری شان گنوا کر۔ اب ہائبرڈ رجیم سوم کی تیاری ہے۔ تاہم منا بھائی نہ چاہتے اور نہ جانتے ہوئے بھی بغیر کسی حکمتِ عملی کے سرٹکرائے جا رہا ہے۔ ٹامک ٹوئیاں مارنے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں کہ ریاست کا فولادی پرنالہ اپنی جگہ پہ قائم ہے۔ تو پھر جمہوری پھر یرا کون اُٹھائے؟ سول سوسائٹی کے نازک کندھے ابھی یہ بوجھ اُٹھانے کو تیار نہیں۔ جب سب جمہوری پلیٹ فارم کو چھوڑ گئے توکوئی تو بولے اور جمہوری شاہراہ پہ چل نکلنے کی راہ دکھائے۔ یا پھر غضب کا شکار عوام میدان میں اتریں گے تو کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے!

Back to top button