سینیٹ الیکشن سے پہلے کپتان سنگین خطرات کا شکار

تین مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن سے صرف 10 روز پہلے 22 فروری کو پشاور میں وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے اہم ترین پارٹی اجلاس میں خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے درجن بھر ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کی عدم شرکت نے کپتان حکومت کے لیے شدید تر خطرات کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ ممبران اسمبلی وزیراعظم سے نالاں ہیں اور اسی وجہ سے بار بار کی یاد دہانی کے باوجود وہ اس اہم ترین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس سے ان حکومتی خدشات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ اگر سینٹ کا الیکشن خفیہ رائے شماری کی بنیاد پر ہوا تو یہ ممبران اسمبلی اپنی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ 22 فروری کو پشاور میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بت بنے بیٹھے رہے۔ وزیراعظم نے حسب معمول ان اراکین پارلمینٹ کے ساتھ سینیٹ کے تین مارچ کو ہونے والے انتخابات کے دوران شفافیت برقرار رکھنے اور الیکشن میں کرپشن سے نمٹنے کے حوالے سے جذباتی گفتگو کی۔ ان کے سامنے بیٹھے اراکین اسمبلی کپتان کی باتوں کی تائید میں سر تو ہلاتے رہے لیکن غیر متوقع طور پر کسی نے کوئی بات نی کی۔ چنانچہ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وزیراعظم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں بھی ایسے ہی ہمارے پارٹی اراکین اسمبلی نے سر ہلائے تھے لیکن جب الیکشن کے نتائج آئے تو معلوم ہوا کہ ذیادہ سر ہلانے والے ہی بعد میں بک گے تھے۔ لیکن کپتان کے اس تبصرے پر بھی کسی رکن پارلیمنٹ نے کوئی بات یا سوال نہیں کیا۔ یاد رہے کہ کپتان نے یہ اجلاس نوشہرہ کی سیٹ پر پی ٹی آئی کی شکست کے بعد بلایا تھا۔ اس سے چند روز پہلے انہوں نے وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کو خیبر پختونخواہ کی کابینہ سے اس الزام پر نکال دیا تھا کہ انہوں نے الیکشن میں اپنے امیدوار کی مخالفت کی اور نواز لیگ کے امیدوار کو جتوا دیا۔
اس سے پہلے 2018 کے سینیٹ الیکشن کے بعد بھی عمران خان نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سفارش پر ووٹ کے عوض مبینہ رشوت وصول کرنے والے اپنے بیس سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ 22 فروری کے پشاور اجلاس میں حاضرین کے علاوہ درجن بھر ایسے بھی لوگ تھے جو اس میٹنگ میں نہیں آئے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے سینیٹ الیکشن میں پھسل جانے کے خدشات سے بھرپور ہیڈلائنز ٹی وی چینلز پر چل رہی ہیں۔اس اجلاس میں شریک نہ ہونے والوں میں گذشتہ سینیٹ انتخابات میں پیسوں سے بھرے بیگ کی ویڈیو میں نظر آنے والے سابق وزیر قانون سلطان محمد خان اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک بھی شامل تھے جنھوں نے حالیہ ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدوار کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی مدد کر کے ضلع نوشہرہ کے تحریک انصاف کے ’ناقابل تسخیر گڑھ‘ ہونے کے تاثر کو ملیا میٹ کر دیا تھا۔ پشاور اجلاس کی ویڈیو میں وزیراعظم عمران خان سمیت سب شرکا خاموش اور سنجیدہ بیٹھے تھے جس نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ میٹنگ میں ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کارکردگی اور سینیٹ الیکشن کو لے کر تناؤ پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سیاست میں مشاورت اور فہم و فراست کی بجائے ڈنڈے کے زعر پر یکطرفہ فیصلے کیے جائیں تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔
صوبے سے تحریک انصاف کے منتخب ایم این ایز میں سے سات رکن اس اہم ملاقات میں موجود نہیں تھے جن میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، علی محمد خان، صالح محمد، ارباب عامر، یعقوب شیخ اور صاحبزادہ صباحت اللہ شامل تھے جن کی غیرموجودگی کی الگ الگ وجوہات تھیں۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے پانچ پارٹی اراکین ضیااللہ بنگش، ستارہ آفرین اور ملیحہ علی اصغر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ سلطان محمد اور لیاقت خٹک بھی موجود نہیں تھے۔ یاد رہے کہ سلطان محمد کو بھی پچھلے دنوں کابینہ سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد لیاقت خٹک کی بھی باری لگ گئی اور انہیں بھی فارغ کر دیا گیا۔
جب پشاور اجلاس میں بارہ ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کی عدم شرکت پر خیبر پختونخواہ حکومت کے ترجمان کامران بنگش سے پوچھا گیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ یہ اراکین غیر موجود تھے۔ تاہم بعض میڈیا اداروں نے اپنی خبروں میں اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم کے زیر صدارت اس اجلاس میں شریک نہ ہونے والے ایم این ایز کی تعداد 12 نہیں بلکہ 15 تھی اور ان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ سینیٹ کے الیکشن میں پارٹی پالیسی سے نالاں ہیں۔ اب سوال یہ یے کہ کیا وزیراعظم نوشہرہ میں پارٹی کے اندر اختلافات اور حالیہ ضمنی الیکشن ہارنے پر پریشان ہیں اور اسی وجہ سے یہ سب لوگ پشاور میں جمع ہوئے تھے؟ اس سوال کے جواب میں وزیر اعلی محمود خان نے کہا کہ دراصل وزیراعظم عمران خان ان کی دعوت پر پشاور آئے تھے اور انھیں یہ دعوت ضمنی الیکشن سے پہلے دی گئی تھی۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کسی معاملے پر پریشان نہیں اور انھوں نے اگر نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ہاری ہے تو اس کے مقابلے میں سابقہ قبائلی علاقے کرم سے این اے 45 پر قومی اسمبلی کی نشست جیتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ ضمنی انتخابات میں کوئی بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں نوشہرہ میں ایک سیٹ جیت سکی ہیں تو انھوں نے بھی تو کرم سے مولانا فضل الرحمن کی جماعت کی قومی اسمبلی کی نشست جیتی ہے۔ یہ اور بات کے جے یو آئی کی قیادت نے اس الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔
یاد رہے کہ نوشہرہ میں پی کے 63 کی نشست تحریک انصاف کے مرحوم صوبائی وزیر جمشید الدین کاکا خیل کی وفات سے خالی ہوئی تھی جس پر اب مسلم لیگ نون کے اختیار ولی کئی دیگر اتحادی جماعتوں کی مدد سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے حصے میں آنے والی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 45 کی نشست جمعیت علمائے اسلام کے منیر اورکزئی کی وفات سے خالی ہوئی تھی جس پر حکومتی جماعت کے ملک فخر زمان خان بنگش کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اب اپنے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی سے کیا چاہتے ہیں، اس کے جواب میں پشاور سے منتخب رکن قومی اسمبلی شوکت علی خان نے کہا کہ اجلاس میں ایسی منصوبہ بندی کا فیصلہ ہوا ہے کہ پارٹی کا کوئی ووٹ باہر نہ جا سکے بلکہ ’اپوزیشن کے ووٹ بھی ہمارے امیدواروں کو ملیں۔‘
انکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے پانچ سینیٹرز منتخب کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور ہر سینیٹر کے لیے ایم پی ایز کا ایک گروہ ہو گا جس کے اراکین کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ گذشتہ بار کی طرح اس بار بھی پارٹی کو نقصان نہ ہو۔ شوکت علی خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ بار ایم پی ایز کو ملنے والی سزاؤں کا یہ نتیجہ ہے کہ اس بار پارٹی کے ووٹ بہت کم بکنے کا امکان ہے۔ اجلاس کے شرکا کے مطابق یوں تو تحریک انصاف سینیٹ انتخابات کے بارے میں بالکل بھی پریشان نہیں تاہم اسی اجلاس میں موجود بعض اراکین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ اب کے بار بھی اس اجلاس کا مقصد اپنے سینیٹ امیدواروں کو کامیابی سے منتخب کرانا ہی ان کا ایجنڈا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کے خاندان سے شکست کی جانب پی تی آئی کا جو سفر شروع ہوا ہے اس نے کپتان کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور اگر سینیٹ الیکش سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہوئے تو گذشتہ بار کے مقابلے میں پارٹی کے ’زیادہ لوگوں کے پھسلنے کا چانس‘ موجود ہے۔
ایک پی ٹی آئی رہنما سے جب وزیراعظم کے اضطراب کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ سال 2018 کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پہلے کے مقابلے میں مختلف حوالوں سے ’کمزور‘ لوگوں کو ملی ہیں۔ اس لیے پارٹی اور وزیراعظم دونوں اس مرتبہ کسی حد تک پریشان ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر پارٹی کے یہ سب منتخب اراکین اتنے ہی قابل اعتماد ہوتے تو عمران خان کو سب کے سامنے اس بات کا اعلان کرنا چاہیے تھا کہ چلیں جس بھی طریقے سے الیکشن کرانے ہوں وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ان ’کمزور‘ اراکین کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی بھی عمران خان کی پریشانی کا باعث ہے جس کی وجہ سے ووٹنگ کے لیے شو آف ہینڈ کی تجویز پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ پشاور اجلاس کے دوران وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی وزیراعظم کو اپنے اہل خاندان کی جانب سے گذشتہ ضمنی انتخابات میں شکست کے عوامل پر بریف کیا اور بتایا کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے اور وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں اور جلد ہی اصل ملزم قانون کے نرغے میں ہوں گے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ناراض اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی تحریک انصاف کا کتنا نقصان کرتے ہیں۔
