لزام تراش جھوٹوں کے منہ پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الزام تراش جھوٹوں کے منہ پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ، براڈ شیٹ کو نواز شریف کے وکلاء کو45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے، فریب کے کھیل میں اسی طرح لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے لندن براڈشیٹ کی جانب سے نوازشریف کے وکلاء کو 45 لاکھ ادا کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ الزام تراش اور جھوٹوں کے ٹولے کے منہ پر ایک اور زناٹے دار طمانچہ۔
براڈ شیٹ کو لندن فلیٹس کے بارے میں سوال اٹھانے اور پھر عدالت سے بھاگ جانے پر نواز شریف کے وکلاء کو 45 لاکھ روپے ادا کرنے پڑے۔ مریم نواز نے کہا کہ جھوٹ اور فریب کے کھیل میں اسی طرح لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ کچھ شرم کچھ حیا؟ انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ تو اپنے جھوٹے الزامات پر عدالت میں عزت افزائی کروا چکی ہے۔
مگر ابھی ان لوگوں کا احتساب باقی ہے جو پاکستانی عوام کا پیسا اپنی ذاتی انا کی جنگ میں جھونکتے رہے، جو چھپ چھپ کہ براڈشیٹ والوں کو ملتے تھے اور اپنا حصہ مانگتے تھے۔اب سب حقائق عوام کے سامنے آئیں گے انشاءاللّہ! نواز شریف دشمنوں کو پھر ذلت آمیز شکست ہوئی۔ کرپشن پکڑنے گئے تھے 45 لاکھ دے کر جان چھڑوائی۔ نواز شریف نے کہا تھا میں اپنا معاملہ اللّہ پر چھوڑتا ہوں۔ اللّہ اپنے بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔ عمران اوراس کے حواریوں کو بھی جرمانے ادا کرنے ہوں گے جو خزانے سے نہیں ذاتی جیبوں سے نکلوائے جائیں گے۔
واضح رہے براڈ شیٹ نے شریف فیملی کیخلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے متعلق عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے پر45 لاکھ ادا کرنا پڑے، براڈشیٹ کو یہ رقم لیگل فیس کے اخراجات کی مد میں ادا کرنا پڑی ہے۔ وکلاء براڈشیٹ نے20 ہزار پاؤنڈ رقم دینے اور شریف خاندان کے وکلاء نےرقم وصول کرنے کی تصدیق کردی ہے۔ کوئن کونسل نے بھی تصدیق کی ہے کہ براڈ شیٹ نے شریف فیملی کو 20 ہزار پاؤنڈ ادا کیے۔ دوسری جانب براڈشیٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکومت پاکستان نے جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تحقیقاتی کمشین بھی بنا رکھا ہے، اس کے ساتھ جبکہ الزام تراشی کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔ براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی نے دعویٰ کیا کہ 19 اکتوبر 2019 کو شہزاد اکبر سے ان کی پہلی میٹنگ ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز نے کروائی تھی اور وہ اس میٹنگ میں شریک بھی ہوئے تھے۔
پاکستان سے رقم کے حصول میں مدد کیلئے ڈیوڈ روز نے ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کمیشن طلب کیا تھا۔ ڈیلی میل کے رپورٹر ڈیوڈ روز نے کہا ہے کہ یہ ملاقات کاوے موسوی کی درخواست پر کروائی اور یہ کہ کاوے موسوی نے انھیں رقم کی پیشکش ضرور کی تھی لیکن انھوں نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button