سینیٹ الیکشن میں جو ہوا اس پر شرمندگی ہوتی ہے

قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں جو ہوا اس پر شرمندگی ہوتی ہے، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے ایک سیکرٹ بریفنگ لیں کہ کتنا پیسہ الیکشن میں چلا ہے۔
یاد رہے کہ ایوان بالا میں اپ سیٹ شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسی سلسلے میں آج انہوں نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیا اور 178 اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کو ایوان کا اعتماد برقرار رکھنے کےلیے 172 ووٹ درکار تھے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے سب سے پہلے اپنے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہونے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے قانون سازوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ روز آپ کے جو حالات دیکھے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ حفیظ شیخ کے سینیٹ پر ہارنے پر آپ سب کو دل سے تکلیف ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی اور ہماری یہ ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیوں کہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار آزماؤں گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں، بڑے انسان بننے کےلیے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کوئی جماعت بھی جب مضبوط ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے گزرتی ہے اور آج میں اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔ ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنا تھا کیوں کہ جب قوم اپنے نظریہ سے پیچھے ہٹتی ہے تو وہ مرجاتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری قیادت کو پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک بہت بڑا عظیم خواب تھا، پاکستان کا خواب دیکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے دنیا کو مثال دینی تھی کہ اصل میں ایک اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کی بنیاد مدینہ کی ریاست پر تھی جو دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے لوگ جو پاکستان نہیں چاہتے تھے وہ کہتے تھے کہ پاکستان تو بن گیا اور مسلمان جو ہندوستان میں رہ گئے انہیں سیکنڈ کلاس شہری بنا کر چھوڑ دیا ہے اور وہاں ان کے ساتھ آج کیا ہورہا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان نہ بنتا تو آج مسلمانوں کی زیادہ طاقت ہوتی اور آج ان کی وہ حالت نہیں ہوتی جو بھارت میں ہے، لہٰذا اگر ہم پاکستان کو اس مقصد کی طرف نہیں لے کر جائیں گے جس کےلیے یہ بنا تھا تو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری اربوں پتی بن جائیں، ہمیں واپس اپنے نظریے کی طرف رخ کرنا چاہیے کہ یہ ایک بڑا خواب کا نام تھا۔ دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ہم غلط فہمی میں ہیں کہ تلوار سے اسلام پھیلا تھا حالانکہ اسلام انسانی کردار میں اصلاحات کےلیے آیا تھا، ہم نماز میں ایک ہی چیز مانگتے ہیں کہ ہمیں ان کے راستے پر لگا جن کو نعمتیں بخشیں نہ کہ ان کے جو تباہی کے راستے پر چلے گئے ہیں۔ سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کےلیے، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا کہ اس انتخابات کےلیے پیسا جمع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم آزاد ادارے ہیں اور ہم نے بہت اچھا الیکشن کرایا ہے، مجھے اس سے تو اور صدمہ ہوا کہ اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز سمجھتے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں جبکہ یہ جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک بیماری کی علامات ہیں، بیماری کچھ اور ہے، ہماری قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کیا گیا ہے کیوں کہ اس کے بعد معاشی تباہی آتی ہے، آج کسی ایک ملک کا بتا دیں جس کی اخلاقیات بلند ہوں اور وہ غریب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی مجھے کوئی ایسا ملک بھی بتا دیں جہاں جتنا مرضی پیسا اور وسائل ہوں اور وہاں کی قیادت کرپٹ ہو لیکن وہاں خوشحالی ہو کیوں کہ یہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ مدینہ کی ریاست کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر نے وہاں کے لوگوں کی اخلاقیات بلند کردی تھیں، اللہ جب ہمیں نبی ﷺ کے راستے پر چلنے کا کہتا ہے تو وہ ہماری بہتری کےلیے کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مغربی ممالک کے اخلاقی کردار دیکھیں، اس کے مقابلے میں ہمارے ملک میں جو ہورہا ہے اور یہ جو سینیٹ کے الیکشن میں ہوا ہے، اس پر شرم آئے گی، آپ کو افسوس ہوگا کہ ہم کس کی امت ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا مطلب کیا ’لاالا اللہ‘، اس پر ہمارا ملک بنا تھا۔ دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں ثابت ایک کرپٹ آدمی آصف زرداری، جس پر دنیا میں لکھا ہوا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ، اس پر مضمون لکھے ہوئے ہیں لیکن اس کو اس ملک میں لوگ کہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری کیوں کہ وہ رشوت دیتا ہے تو سب پر بھاری ہوگیا، کیا یہ ہمارا ملک ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف ہمارا لیڈر ہے جبکہ نواز شریف ایک ڈاکو، ملک کو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، وہ جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے‘
