سینیٹ انتخابات: شہریار آفریدی نے بیلٹ پیپر پر دستخط کردیے، ووٹ ضائع ہونے کا امکان

سینیٹ انتخابات میں جہاں ایک ایک ووٹ قیمتی ہوتا ہے اور اس کے درست استعمال کےلیے ہدایات جاری کی جاتی ہیں وہیں حکومت کے ایک سینئر رکن شہریار آفریدی کی جانب سے بیلٹ پیپر پر دستخط کرنے سے ووٹ ضائع ہونے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی شہریار آفریدی کی ایک درخواست میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے پریزائڈنگ افسر سے دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت طلب کی تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ ای سی پی نے اس سے انکار کردیا ہے۔ شہریار آفریدی نے اپنی درخواست میں لکھا کہ میں گزشتہ کئی روز سے بیمار ہوں اور اسی وجہ سے الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی اجلاسوں میں بھی شریک نہیں ہوسکا۔ انہوں نے لکھا کہ جب میں ووٹ کاسٹ کرنے کےلیے پہنچا تو میں نے آپ اور آپ کے اسٹاف سے پوچھا لیکن وہ مجھے ووٹ کا طریقہ کار بتانے میں ناکام رہے۔ درخواست میں لکھا گیا کہ بعد ازاں میں نے بیلٹ پیپر پر نمبر ڈالنے کے بجائے دستخط کردیے، لہٰذا مجھے دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ بعد ازاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شہریار آفریدی نے ان کا ووٹ منسوخ ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ ‘یہ بات کس نے کی ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘جو ہونا ہوتا ہے رب سے ہوتا ہے۔’
واضح رہے کہ شہریار آفریدی رکن قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرپرسن ہیں، اس کے علاوہ وہ وزیر مملکت برائے داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔آج ہونے والے سینیٹ انتخابات کے موقع پر انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام بھی لکھا تھا کہ ’آج سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بدمعاش اور کرپٹ سیاستدان بھی ڈوب جائیں گے‘۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ’آج ایک نئے دور کا آغاز ہے جو جمہوری نظام میں داخل ہونے کےلیے کالے دھن کے استعمال پر دروازے بند کردے گا، یہ نیا دور وزیراعظم کے ویژن کے تحت ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا‘۔
واضح رہے کہ ایوان بالا کی 37 نشستوں پر آج انتخابات کےلیے سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے مجموعی طور پر 78 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ پنجاب سے تمام امیدوار گزشتہ ماہ دیگر امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس لینے یا نااہل ہونے کے بعد بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔ اسلام آباد سے 2، سندھ سے 11 جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینیٹرز کی نشستوں پر مقابلہ ہورہا ہے۔ تاہم اس مقابلے میں کانٹے کا مقابلہ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر متوقع ہے جہاں حکومت کی طرف سے حفیظ شیخ اور اپوزیشن کی جانب سے یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button