سینیٹ میں اکثریت لے کر بھی حکومت کے ہاتھ بندھے ہوں گے

اگر پی ٹی آئی کی حکومت سینیٹ الیکشن میں اکثریت حاصل کر بھی لیتی ہے تو بھی ایوان بالا میں قانون سازی کے لیے اسے اتحادیوں پر انحصار کرنا ہو گا۔ سینٹ میں اکثریت حاصل کرلینے کے باوجود آئینی ترامیم کے لئے حکومت کو دو تہائی اکثریت نہیں ہوگی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سب کچھ درست رہا تو سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی واحد اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئے گی۔ تاہم اسکے اکثریت حاصل کرنے کا انحصار حکومت کی اتحادی جماعتوں پر ہوگا کہ وہ کس حد تک اس کا ساتھ دیں گی۔ اسوقت سینیٹ میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن جماعتوں پر عددی برتری حاصل ہے اور وہ اس قابل ہیں کہ انتخابات کے بعد سینیٹ کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرسکیں۔
لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کہ حکمران اتحاد کے لیے عام قوانین منظور کرنا تو کوئی مسلئہ نہیں ہو گا لیکن اسکے پاس آئینی ترمیم پاس کروانے کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں ہو گی۔

ایک اندازے کے مطابق سینیٹ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی سیٹوں کی تعداد 30 کے قریب ہوسکتی ہے۔ جب کہ فی الحال ان کے سینیٹرز کی تعداد 14 ہے جن میں سے آدھے مارچ میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

پی ٹی آئی کے بعد سینیٹ ۔یں دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی ہے جس کے 21 ارکان ہیں۔ ان میں سے 8 ریٹائر ہو جائیں گے، تاہم پیپلز پارٹی سندھ سے اتنے ہی سینیٹرز منتخب کروا سکتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان میں نون لیگ رہے گی جو کہ سینٹ میں ابھی واحد اکثریتی جماعت ہے۔ اس کے 30 میں سے 17 سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے۔ تاہم سینیٹ کے الیکشن میں نواز لیگ سینیٹر منتخب کروا سکتی ہے، اس طرح اس کے سینیٹرز کی تعداد 18 ہوسکتی ہے، جب کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے بعد وہ تیسرے نمبر پر آسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی جو کہ 2018 میں سینیٹ الیکشن کے موقع پر قائم ہوئی تھی، وہ ایوان بالا میں چوتھے نمبر پر آ سکتی ہے، اس کے 9 میں سے تین سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں لیکن وہ چھ نئے سینیٹر منتخب کر سکتی ہے۔ اس کے مجموعی سینیٹرز کی تعداد 12 ہو سکتی ہے، یہ پہلی بار ہوگا کہ جولائی 2018 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد بننے والے سینیٹرز کا انتخاب کریں گے۔ جہاں تک پارلیمانی اتحاد کا تعلق ہے تو اس میں بھی تبدیلی مشکل ہے۔ پی ٹی آئی اور ان کے اتحادی ایک جانب ہوں گے اور اپوزیشن جماعتیں دوسری جانب ہوں گی، طویل عرصے سے سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت رہی ہے اب سینیٹ انتخابات کے بعد سینیٹ کمیٹیاں بھی تبدیل ہوں گئی، بالخصوص کمیٹی چیئرمین جو کہ فی الوقت زیادہ تر اپوزیشن کے نامزد کردہ ہیں تاہم انتخابات کے بعد یہ پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی نامزد کردہ ہو سکتے ہیں، پی ٹی آئی عددی حیثیت کے لحاظ سے آئندہ چیئرمین اپنی جماعت سے منتخب کرسکے گی، تاہم ڈپٹی چیئرمین ک اعہدہ ان کے اتحادی جماعتوں کی جانب سے ہوسکتا ہے، بالخصوص بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے اس کا انتخاب ہو سکتا ہے، وفاقی آئینی عہدوں کے لحاظ سے وزیراعظم کا تعلق پنجاب سے ہے صدر کا تعلق سندھ سے قومی اسمبلی کے اسپیکر خیبر پختونخوا سے ہیں، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے امکان ہے کہ سینیٹ چیئرمین بلوچستان سے منتخب کیا جائے گا تاہم اس حوالے سے کوئی آئینی پابندی نہیں ہے البتہ ہمیشہ ہیں یہ روایت رہی ہے کہ ان مرکزی آئینی عہدوں پر تمام وفاقی یونٹس کو نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button