ضمنی الیکشن میں اپوزیشن کو اپنی 7 سیٹیں جیتنے کا چیلنج درپیش

آئندہ برس جنوری میں ہونے جا رہے ضمنی الیکشن میں پی ڈی ایم کے اپوزیشن اتحاد کو اپنی سات نشستیں دوبارہ حاصل کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ تاہم تحریک انصاف کو صرف نوشہرہ میں ایک صوبائی نشست جیتنے کی ضرورت ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اپوزیشن جماعتیں پہلے سے کم نشستوں پر کامیاب ہوئیں تو ان کی حکومت مخالف تحریک متاثر ہوگی جبکہ پی ٹی آئی زیادہ نشستیں جیتنے کی صورت میں نہ صرف پارٹی پوزیشن بہتر بنا سکے گی بلکہ سینیٹ انتخابات میں بھی اسے فائدہ ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کرونا وائرس کے باعث 31 جنوری سے پہلے ضمنی انتخاب نہیں کروا سکتا۔ لیکن جب عمران خان نے سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کروانے کا اعلان کیا تو الیکشن کمیشن نے پھرتی دکھاتے ہوئے 18 جنوری کے لیے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا۔

چنانچہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر ضمنی انتخاب میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کانٹے دار انتخابی معرکے کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔ ان ضمنی انتخابات کے نتائج سینیٹ الیکشن پر اثرانداز ہوں گے۔ اس طرح طرح سیٹ انتخابات سے قبل ٹیم جماعتوں کے ساتھ اور پی ٹی آئی کے ایک خالی حلقے میں حکمران اور اپوزیشن جماعتیں مد مقابل ہوں گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے چاروں صوبوں میں 8 انتخابی حلقوں میں ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جن میں سندھ اسمبلی کی 3، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی ایک، ایک نشست شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 8 خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہیں۔ ملک میں 2 قومی اسمبلی اور 6 صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں خالی ہیں۔ضمنی الیکشن کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ہو چکا یے۔ اس حوالے سے سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخاب کے دوران کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 75 سیالکوٹ اور این اے 45 اورکزئی اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے پی پی 51 گوجرانوالہ، سندھ اسمبلی کے پی ایس 88 ملیر، پی ایس 52، پی ایس 43 سانگھڑ، خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی کے 63 نوشہرہ اور بلوچستان اسمبلی کے پی بی 20 پشین کی نشست خالی ہے۔یاد رہے کہ یہ 8 نشتیں ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھیں۔الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس-52 عمر کوٹ 2 پر ضمنی انتخاب 18 جنوری کو ہوگا۔

پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن سے قبل اسمبلیوں سے استعفے دینے کے اعلان باوجود سندھ میں برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی نے عمرکوٹ، سانگھڑ اور ملیر میں میں اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ عمرکوٹ میں پیپلز پارٹی کے شاہ اور اور جی ڈی اے کے ارباب خاندانوں کے امیدوار زبردست انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ کی جانب پی ڈی ایم اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ یہاں سے پی ڈی ایم جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے ضمنی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مولانا کی جماعت نے بھی اپنے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے نے اپنے اپنے امیدواروں کو کاغزات نامزدگی جمع کروانے کا عندیہ دیا ہے لیکن 29 جنوری 2021 سے قبل یعنی کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک انہیں پارٹی ٹکٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے حلقہ پی کے 63 نوشہرہ سے اے این پی اور تحریک انصاف اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتاریں گے۔ چونکہ یہ نشست پی ٹی آئی نے جیتی تھی اس لیے وزیر دفاع پرویز خٹک نے دوبارہ یہ نشست جیتنے کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button