سونامی حکومت کی ناکامی کی کہانی، سلیم صافی کی زبانی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے عمران خان کی سونامی حکومت کی ناکامی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی جانب سے ناتجربہ کاری کا بہانہ سفید جھوٹ ہے۔ صافی کے مطابق عمران خان خود کہتے ہیں کہ انہوں نے 22 برس سیاست کے میدان میں جدوجہد کی ہے تو کیا اُن 22 برسوں میں وہ صرف مخالفین کے لئے القابات اور گالیاں ہی سیکھتے رہے؟ اسکے علاوہ وہ پانچ برس کے پی کے حکمران رہے اور مرکز میں اگر خود حکمران نہیں رہے تو اردگرد سارے وہ لوگ جمع کئے ہیں جو جدی پشتی حکمران رہے۔ پھر خان صاحب نے 2018 کے الیکشن سے پہلے ہی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ کامیاب حکومت چلانے کے لیے صرف سو قابل بندوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انکے پاس تو کئی سو ایسے بندے ہیں جو ان کی حکومت کو کامیابی سے چلا لیں گے۔ تاہم صافی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب وہی خان صاحب فرماتے ہیں کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت چلانا تو آسان لگتا ہے لیکن جب آپ اقتدار میں آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔

تاہم صافی کا اصرار ہے کہ عمران خان کی حکومتی تجربہ نہ ہونے کی باتیں صرف بہانہ ہیں کیونکہ انہوں نے الیکشن جیتنے اور حکومت بنانے کے لیے جو لوگ اپنی جماعت میں شامل کیے اور وزیر بنائے تھے وہ سب سابقہ حکومتوں میں وزراء رہے ہیں اور تجربہ کار ہیں۔ مثال کے طور پر کپتان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلی مرتبہ جنرل ضیاء الحق کے زیرسایہ غیرجماعتی انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پھر وہ 1988 میں نواز شریف اور 1990میں منظور وٹو کی کابینہ میں وزیر رہے۔ 1993 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بنے اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت بنے۔ پرویز مشرف کے دور میں ڈسٹرکٹ ناظم رہے۔ 2008میں وزیرخارجہ بنے لیکن جب زرداری صاحب نے محسوس کیا کہ وہ لائن کہیں اور سے لے رہے ہیں تو اُن کو وزارتِ خارجہ سے فارغ کردیا۔

اسی طرح کپتان کے وزیر دفاع پرویز خٹک پہلے ضلع ناظم رہے۔ پھر پیپلز پارٹی کی طرف سے صوبائی وزیر رہے۔ زرداری کے مشیر رہے۔ آفتاب شیرپائو کے دستِ راست رہے اور پھر پانچ برس تک پختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے۔ اب اِس سے بڑھ کر حکمرانی کا تجربہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

اسی طرح زبیدہ جلال 1988 میں نواز شریف کی پارٹی میں رہیں۔ مشرف دور میں تعلیم کی وزیر رہیں۔ خسرو بختیار پہلی مرتبہ نواز شریف کے ٹکٹ پر 1997میں ایم پی اے بنے۔ پھر 2002 میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر ایم این اے اور پھر وزیر مملکت برائے خارجہ امور رہے۔ وہ 2008 میں پنجاب اسمبلی کے ممبر بنے۔ 2013میں پھر نون لیگ کی طرف سے ایم این اے منتخب ہوئے، جنہوں نے انہیں قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کا ممبر بنایا۔

اسی طرح کپتان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نصف درجن سے زائد مرتبہ ایم این اے بنے اور نصف درجن سے زائد وزارتوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ شفقت محمود بیوروکریٹ رہے۔ وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے سستھ رہے۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر رہے۔ معراج خالد کی نگران حکومت میں وفاقی اور پھر پرویز مشرف کی حکومت میں صوبائی وزیر رہے۔ سید فخر امام کی کم و بیش نصف زندگی حکومت میں گزری۔ کبھی وہ کبھی اُن کی اہلیہ وزارت سے مستفید ہوتی رہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے۔

اسی طرح کپتان کے ہائوسنگ اینڈ ورکس کے وزیر طارق بشیر چیمہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر رہے۔ مشرف دور میں بہاولپور کے ڈسٹرکٹ ناظم رہے۔ پھر 2013 میں وہ قاف لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔ اسی طرح صوبائی رابطہ کاری کی وزیر اور ذوالفقار مرزا کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا 1997 میں اور 2002 میں زرداری صاحب کی ذاتی مہربانی سے ممبر قومی اسمبلی بنیں اور پھر 2008 میں تیسری مرتبہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی اسپیکر بنیں۔ وہ 2013 میں پھر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں لیکن پھر اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلنے کے لئے فہمیدہ اور ان کے شوہر ذوالفقار مرزا دونوں پارٹی سے علیحدہ ہو گئے۔

کپتان کے وزیر انرجی عمر ایوب کے دادا بھی حکمران رہے اور باپ بھی۔ 2002میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر ایم این اے اور وزیر مملکت برائے خزانہ رہے۔ نواز شریف کے دور میں فنانس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ اسی طرح کپتان کے پرائیویٹائزیشن کے وزیر میاں محمد سومرو نگران وزیراعظم رہے، گورنر رہے، چیئرمین سینیٹ رہے۔ قائمقام صدر رہے۔ وزیر ریلوے اعظم خان سواتی امریکہ سے واپس لوٹے تو پرویز مشرف کے دور میں مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ ناظم بنے۔ پھر مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت سے سینیٹر بنے اور پھر گیلانی کابینہ میں وزیر رہے۔

کپتان کے مذہبی امور کے وزیر پیرزادہ نورالحق قادری پہلی مرتبہ 2002 پھر 2008میں ایم این اے منتخب ہوئے۔ وزیر ہوا بازی غلام سرور خان 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ 1993میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں وزیر رہے۔ 2002میں ق لیگ کی طرف سے ایم این اے بنے اور شوکت عزیز کابینہ میں لیبر کے وزیر بنے۔ یہی معاملہ فردوس عاشق اعوان اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا بھی ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ دراصل سب سے زیادہ حکومت کے مزے لینے والے لوگ کپتان کے پاس ہیں لیکن پھر بھی ان کا غلط اصرار ہے کہ وہ پہلی بار حکومت میں آئے تھے اس لیے سمجھنے میں وقت لگا۔ صافی کے مطابق حکومتی ناکامی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ٹیم کا کپتان نکمہ ہے اور اسد نے سلیکشن بھی ملنے لوگوں کی ہی کہ۔ صافی کہتے ہیں کہ جس طرح ایک کرکٹر کو وزیر اعظم بنوا کر، جس کا کام اسی کو ساجھے کے اصول کی خلاف ورزی کی گئی، اسی طرح خان صاحب نے اپنی ٹیم بناتے وقت بھی رتی بھر یہ خیال نہیں رکھا کہ کون شخص کس کام کے لئے اہل ہے؟ مثلاً پرویز خٹک اگر تجربہ کار تھے اور واقعی اُنہوں نے صوبے میں دوبارہ الیکشن جتوایا تھا تو اُن کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانا چاہئے تھا۔ زبیدہ جلال کو اگر تعلیم کی وزارت کا تجربہ تھا تو انہیں وہاں لانا چاہئے تھا اور فخرامام کو اسپیکر بنانا چاہئے تھا، لیکن عمران نے ٹیم بناتے وقت آغاز ہی میرٹ کی خلاف ورزی سے کیا۔ فواد چوہدری قانون کے ماہر ہیں لیکن وزیر قانون بنانے کی بجائے انہیں سائنس کی وزارت دی گئی۔
شیخ رشید میڈیا کے ماہر ہیں لیکن انہیں پہلے ریلوے اور اب داخلہ کی وزارت دی گئی۔ شاہ محمود کو وزارت خارجہ تو دی گئی لیکن اُن کو اختیار نہیں دیا گیا اور نہ اس میں ان کی دلچسپی تھی۔

صافی کے مطابق حکومت کی ناکامی کی دوسری بڑی وج یہ تھی کہ پہلے دن سے کابینہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ ترقی اور تنزلی کا فیصلہ کارکردگی نہیں بلکہ خوشامد کی بنیاد پر ہو گا۔ سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ جس چور کا جہاں مفاد وابستہ تھا، اسے وہاں وہاں کھپا دیا گیا۔ ندیم بابر کا مفاد انرجی سیکٹر سے وابستہ تھا تو انہیں اس کا وزیر بنا دیا گیا اور چینی کا کاروبار کرنے والوں کو وزارت خوراک و زراعت دے دی گئی۔ لہذا کپتان حکومت کی ناکامی کی بنیادی وجہ ناتجربہ کاری نہیں بلکہ کپتان کا اپنا نکمہ پن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button