سی اے اے نے اندورنی پروازیں منسوخ کرنے پر 4 ایئرلائنز کو نوٹس

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے چار ایئرلائنز بشمول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، سیرین ایئر، ایئر بلیو اور ایئر سیال کو طے شدہ اندورن ملک فلائٹس منسوخ کرنے پر نوٹس ۔
ڈائریکٹر جنرل نے ائیرلائن آپریٹرز کی جانب سے طے شدہ شیڈولڈ اندورنی پروازیں منسوخ کرنے اور پھر بین الاقوامی چارٹرڈ آپریشن کے لیے طیاروں کے استعمال۔
سی اے اے کے ڈی جی نے نوٹس میں کہا کہ یکم اکتوبر 2021 سے 18 اکتوبر کی مدت کے دوران آپریٹرز نے ایک ہزار 145 اندورن ملک پروازوں میں سے 383 فلائٹس آپریشن منسوخ کر دیے اور طیارے کو بین الاقوامی چارٹرڈ پروازوں کے لیے استعمال کیا۔
اس فہرست میں قومی ایریا لائن پی آئی اے سرفہرست رہی جس نے 417 پروازوں میں سے 130 پروازیں، سیرین ایئر نے 250 میں سے 117 پروازیں، 261 میں سے ایئر بلو 86 پروازیں، ایئر سیال نے 217 میں سے 50 پروازیں منسوخ کردی تھیں۔
اندورنی پروازوں کی منسوخی کی روشنی میں سی اے اے نے تمام بین الاقوامی چارٹرڈ پروازوں کی اجازت کو فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی اے اے نے ایئرلائن آپریٹرز کو حکم دیا کہ وہ بین الاقوامی چارٹرڈ پروازوں کے لیے اجازت کی درخواست سے پہلے ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس ایک حلف نامہ جمع کرائیں کہ کسی بھی جاری طے شدہ شیڈول کے لیے اندورنی پروازوں کا شیڈول باقاعدگی اور وقت کی پابندی کے ساتھ 90 فیصد تک ہوگا۔
سی اے اے نے مزید ہدایت دی کہ اندورنی پروازوں کی منسوخی اگر کوئی ہے تو صرف تکنیکی وجوہات کے نتیجے میں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر اندورن ملک پروازیں منسوخ کرنے کی اجازت صرف سی اے اے کے ایئر ورتھنی ڈائریکٹوریٹ سے تصدیق کے بعد دی جائے گی۔
سی اے اے نے مزید کہا کہ اندورنی ملک فلائٹ آپریشنز اور بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز کے درمیان مناسب توازن لازمی ہے جو نہ صرف قومی ایوی ایشن پالیسی 2019 میں موجود وژن پر عمل پیرا ہے ۔
تمام ایئرلائنز کے آپریٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک حلفہ نامہ جمع کرائیں جس میں واضح کیا گیا ہو کہ بین الاقوامی چارٹرڈ پرواز طے شدہ ڈومیسٹک فلائٹ آپریشنز کو متاثر نہیں کرے گی۔
حلف نامہ کے جمع کرانے کے بعد چارٹرڈ فلائٹ آپریشنز کیس بہ کیس کی بنیاد پر بحال ہوں گے۔
سی سی اے نے کہا کہ فلائٹ منسوخی کی صورت میں ایئرلائن کو متاثرہ مسافروں کی سہولت کے مطابق متبادل پرواز پر ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔
تاہم سی اے اے نے کہا کہ اگر دستیاب متبادل آپشنز مسافروں کے لیے ممکن نہیں ہیں تو مسافروں کو جلد از جلد مکمل ٹکٹ کی واپسی کی جائے گی۔
