عمران خان نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر کیسے پہنچایا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کا آنا جتنا مشکل تھا اس کا جانا اس سے بھی مشکل ہو گا۔ کپتان آیا تو پورا سسٹم ٹوٹ گیا، ادارے اداروں کے ہاتھ سے نکل گئے، ملک کا والی اور وارث کون ہے اور یہ کس نے چلانا ہے یہ سوال تک بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اور اب جس دن کپتان جائے گا اس دن کیا ہو گا میں سوچتا ہوں تو میری روح لرز جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ واقعی اس ملک کا حامی اور ناصر ہو، یہ ملک اس بار حقیقتاً تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اس تباہی کے بعد کون بچے گا کوئی نہیں جانتا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ کہ ملک میں پچھلے ساڑھے تین سال میں جو کچھ ہوا ہم اگر اسے ایک فقرے میں بیان کریں تو وہ یہ ہو گا ’’کرپٹ لوگ نالائقوں اور نااہلوں سے ہزار درجے بہتر ہوتے ہیں‘‘۔ ماضی کی دونوں حکومتیں کرپٹ ہوں گی لیکن یہ سچ ہے پیپلز پارٹی عالمی مارکیٹ سے 147 ڈالر فی بیرل پٹرول خرید کر عوام کو 86 روپے لیٹر دیتی تھی جب کہ آج کی ایمان دار حکومت کے دور میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول 84 ڈالر فی بیرل ہے لیکن یہ ملک میں 138روپے فی لیٹر دے رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے کرپٹ دور میں ڈالر 98 روپے میں ملتا تھا‘ آٹا 40 روپے کلو تھا‘ بجلی کے نرخ 9 روپے یونٹ تھے۔ چینی60 روپے کلو تھی اور کھانے کا تیل 200 روپے لیٹر تھا لیکن آج کے ایمان دار دور میں کوکنگ آئل 360 روپے لیٹر‘ چینی 115روپے کلو‘ بجلی اوسطاً 17 روپے 83 پیسے فی یونٹ‘ آٹا 80 روپے اور ڈالر 175 روپے میں مل رہا ہے اور صادق اور امین حکومت اس کے باوجود اعلان کر رہی ہے حالات اگلے جون تک بہتر نہیں ہو سکیں گے۔
بقول جاوید چودھری آج عمران خان کے دائیں بائیں جتنے امیر اور رئیس لوگ کھڑے ہیں، یہ تمام لوگ آصف علی زرداری کے دور میں رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے امیر ہوئے تھے لہٰذا پیپلز پارٹی کی حکومت اگر انڈسٹری کو ریلیف نہ دیتی تو آج عمران خان کا ایک بھی ڈونر موجود نہ ہوتا۔ ہم اگر نواز شریف کے دور کو بھی ملک کا کرپٹ ترین زمانہ سمجھ لیں تو بھی قوم کو نواز شریف کی تین نیکیاں ہمیشہ یاد رکھنی ہوں گی۔ ملک میں 2013ء میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی لیکن 2018 میں ملک کا ہر بلب جل رہا تھا‘ وہ لوگ خواہ الٹے لٹک کر بجلی پیدا کرتے رہے لیکن ان لوگوں نے بہرحال بجلی بنائی اور جلائی‘ دوسرا ملک میں روزانہ بم دھماکے ہوتے تھے‘ کراچی رہنے کے قابل نہیں رہا تھا‘ نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی مکمل طور پر ختم کر دی‘ کراچی میں بھی امن بحال ہو گیا اور تیسرا نواز شریف نے سی پیک شروع کرایا‘ یہ چین کو گوادر تک لے آیا جس سے ملک میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو گئیں‘ آپ موٹرویز‘ میٹروز اور زراعت کو سائیڈ پر رکھ دیں تو بھی نواز شریف کا کنٹری بیوشن کم نہیں تھا اور یہ شخص بہرحال تاریخ میں زندہ رہے گا ہم مانیں یا نہ مانیں۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا ناقد تھا اور میں آج بھی ہوں‘ میں عمران خان کا فین تھا اور میں آج بھی ہوں لیکن کیا میری نفرت یا میری محبت سے حقائق بدل جائیں گے۔ جی نہیں، ہرگز نہیں، دنیا میں اگر قول اور فعل کے تضاد کی کوئی بدترین مثال ہو سکتی ہے تو وہ آج کے حکمران ہیں۔ عمران خان منہ سے روزانہ ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن انھوں نے ساڑھے تین برسوں میں اچھی بھلی چلتی دوڑتی ریاست کو ریاست تشویش بنا دیا۔ آپ ڈھٹائی کا معیار دیکھیے۔ یہ لوگ چار وزیر خزانہ بدل کر بھی اور ملک اور معیشت تباہ کر کے بھی صادق اور امین ہیں جب کہ ڈالر کو چارسال 105 روپے تک رکھنے والا اسحاق ڈار کرپٹ ہے۔ مہنگائی کو ایک ہندسے پر رکھنے والی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کرپٹ اور بدترین ہیں جب کہ یہ 17 فیصد مہنگائی کے بعد بھی نیک اور پارسا ہیں۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ سی پیک شروع کرنے والے برے تھے اور سی پیک روکنے والے نیک ہیں۔ 8 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی لانے والے نالائق تھے اور15ڈالر ایم ایم بی ٹی یومیں سودے کرنے والے ارسطو ہیں، ایکسٹینشن نہ دینے والے بزدل تھے اور چیئرمین نیب کی ایکسٹینشن کے لیے بھی آرڈیننس جاری کرنے والے بہادر ہیں۔ عدالتوں میں پیشیوں کے باوجود کام کرنے والے نالائق ہیں اور عدالت کے سرٹیفائیڈ صادق اور امین پورا ملک ڈبو کر بھی لائق ہیں۔ جاوید کہتے ہیں کہ وہ لوگ 55 روپے کلو چینی‘ 35روپے کلو آٹا، 170 روپے لیٹر کوکنگ آئل، 87 روپے 70 پیسے لیٹر پٹرول‘ 11 روپے 72 پیسے فی یونٹ بجلی، پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد گروتھ‘ تین میٹروز اور بارہ موٹرویز کے باوجود کرپٹ‘ ملک دشمن اور نالائق تھے اور یہ لوگ پورے ملک کو بدامنی‘ کرپشن‘ نالائق اور فساد میں دفن کر نے کے بعد بھی ایمان دار اور اہل ہیں۔
بقول جاوید چودھری آپ بجلی کے نرخ دیکھ لیں۔ پٹرول اور ڈالر کی اڑان دیکھ لیں‘ آپ کھانے پینے کی اشیاء دیکھ لیں‘ بے روزگاری اور لاقانونیت دیکھ لیں‘ اداروں کے درمیان ٹکراؤ دیکھ لیں‘ خارجہ امور دیکھ لیں اور داخلی حالات دیکھ لیں‘ کیا آپ کو یہ ملک چلتا ہوا نظر آ رہا ہے؟ پورے ملک میں خوف اور ہراس کا عالم ہے۔ لوگ لوگوں سے خوف زدہ ہوتے چلے جارہے ہیں‘ یہ ہمارا ملک ہے‘ اس ملک کے ادارے بھی ہمارے ہیں لیکن آپ یقین کریں میں 52 سال کی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے اداروں سے خوف زدہ ہوں اور اپنے ملک میں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہوں‘ میں ڈیپریشن میں سوتا ہوں اور ٹینشن کے ساتھ اٹھتا ہوں‘ گلی اور سڑک پر نکلتا ہوا گھبراتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے لیکن خوشی سے محروم ہوتا جا رہا ہوں اور یہ ایشو صرف میرا نہیں‘ میں جس سے بھی ملتا ہوں اس کے چہرے پر خوف اور دکھ محسوس ہوتا ہے اور میں نظریں نیچے کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کیا ہم 21 کروڑ لوگ پاگل ہیں اور یہ ساری دنیا بے وقوف، نالائق، کرپٹ اور باؤلی ہے اور یہ دس بارہ لوگ عقل مند، ذہین، لائق اور فطین ہیں جن کے ہاتھ میں اسوقت پورے ملک کی طنابیں ہیں اور یہ روز صبح اٹھ کر کوئی نہ کوئی نیا گل کھلا دیتے ہیں۔ یہ روز نیا تماشا لگاتے ہیں اور پوری دنیا یہ تماشا دیکھتی ہے۔ ملک کے 21 کروڑ لوگ گرم توے پر بیٹھے ہیں اور دس بارہ لوگ اس صورت حال کو انجوائے کر رہے ہیں لیکن خان کی نیت اس کے باوجود نیک ہے۔ کیا ملک کی آنکھیں اب بھی نہیں کھل رہیں؟ اور یہ اگر آج بھی نہیں کھلیں گی تو پھر یہ کب کھلیں گی؟ اللہ پاکستان کا حامی اور ناصر ہو، یہ ملک اس بار حقیقتاً تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اس تباہی کے بعد کون بچے گا، کوئی نہیں جانتا۔
