شاہد آفریدی کے ہاتھوں بھارت اور کپل دیو کی دھلائی

قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان پرکرونا زدہ جاسوسوں کو سرحد پار بھجواکر وائرس پھیلانے کی کوشش کے الزام کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے ایک احمقانہ اور بے وقوفانہ حرکت قرار دیا ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور بھارت ابھی تک پاکستان پر کبوتروں اور غباروں کے ذریعے جاسوسی کرنے کے الزامات لگا رہا ہے۔ آفریدی نے مزید کہا کہ ایک ایسے نازک وقت میں کہ جب ساری دنیا اپنے عوام کو کرونا وائرس سے بچانے کی جنگ میں مصروف ہے بھارت نے پاکستان پر کرونا زدہ جاسوسوں کو بارڈر پار بھجوانے کی کوشش کرنے کا الزام لگا کر صرف اپنا مذاق اڑوایا ہے۔
شاہد آفریدی نے شعیب اختر کی جانب سے کرونا متاثرین کے لیے پاک بھارت میچ کی تجویز کی مخالفت کرنے والے سابق بھارتی کپتان کپیل دیو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بھارت میں غربت کے سبب لوگوں کو کچرے میں سے کھانا چن کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس لیے کپیل کا اس تجویز کی مخالفت کرنا بنتا نہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں شعیب اختر نے تجویز پیش کی تھی کرونا وائرس سے پاکستان اور بھارت میں متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے پاک بھارت سیریز کا انعقاد ہونا چاہیے کیونکہ وائرس کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور اس سیریز سے معاشی طور پر بھی مدد ملے گی۔
تاہم 1983 کا ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے کپتان کپیل دیو نے کہا کہ ہمیں رقم جمع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس بہت فنڈز ہیں اور ہمیں اس وقت صرف حکومتی اقدامات کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ کپیل نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ پہلے ہی امداد کی مد میں 51کروڑ روپے دے چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ مزید رقم بھی دے سکتے ہیں، صورتحال فوری طور پر بہتر ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی اور کرکٹ میچ منعقد کرانے کا مقصد اپنے کھلاڑیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے اور ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔
تاہم شاہد آفریدی نے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کپیل دیو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کرونا ایک مشترکہ دشمن ہے اور ہمیں اس دشمن کو شکست دینے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شعیب اختر کی تجویز کی حمایت کرتا ہوں لیکن مودی حکومت کبھی بھی پاکستان بھارت کرکٹ کی حمایت نہیں کرے گی جبکہ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ کپیل دیو نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر فنڈز جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ بحران کے وقت میں کسی کو بھی اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔
سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو کرنا وائرس کے خلاف جنگ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو دے کر ایک ہی ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے۔ ‘بحیثیت لیڈر اور وزیر اعظم عمران خان کو تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دینی چاہیے تاکہ کورونا کے خلاف جنگ میں سب ایک ہی صفحے پر ہوں، ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ آنے والے دنوں میں بہت سے لوگوں کو راشن کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ کورونا سے بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے لہٰذا حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں اور این جی اوز کو ملا کر انہیں مخصوص علاقوں میں ذمے داریاں دینی چاہئیں تاکہ باقاعدہ نظام کے تحت کام چل سکے۔
