شدت پسندوں سے معاہدوں کی قیمت ہمارے بچے ادا کرتے ہیں

ن لیگی رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی قیمت پاکستانی قوم کے معصوم بچے ادا کر رہے ہیں لیکن ایک بات واضح رہے کہ جس ملک میں بھی مذہبی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہوگی اور اپنا اثر و رسوخ بڑھائے گی، وہاں ریاست اتنی ہی کمزور ہو جائے گی جیسا کہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پچھلے 40 سال میں پاکستان میں جتنی بھی مذہبی جماعتیں وجود میں آئی ہیں، وہ سب کی سب اسٹیبلشمینٹ نے بنائی ہیں۔ انکے مطابق، یہ سلسلہ 80 کی دہائی سے شروع ہوا جب ہم نے روس کے خلاف امریکہ کے افغان جہاد میں حصہ دار بننے کا فیصلہ کیا۔ اس جنگ نے مذہبی قوتوں کو متشدد بنا دیا اور یہ سب ہماری ریاست نے امریکہ کے ساتھ مل کر کیا۔ انکا کہنا تھا کہ باقاعدہ ایک ماڈل بن کر آیا کہ اس طرح سے آپ نے دین اسلام کو انتہا پسند بنانا ہے۔
یہ باتیں خواجہ آصف نے اے آر وائے نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں کاشف عباسی سے کیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے کو ایک سازش کے تحت انتہا پسندی کی طرف۔مائل کیا گیا۔ “میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ہم ایک زمانے میں ‘خدا حافظ’ کہا کرتے تھے لیکن اسکی جگہ ‘اللہ حافظ’ متعارف کروایا گیا۔ ہماری روزمرہ کی بات چیت میں عربی اصطلاحوں کا استعمال بڑھایا گیا۔ قائدِ اعظم کے دیے ہوئے اصول ‘Unity, Faith and Discipline’ کو تبدیل کر کے اسے ‘Faith, Unity and Discipline’ سے تبدیل کیا گیا۔ یہ بہت ہی باریکی سے لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کے لئے کیا گیا تھا۔ بہت دھیان سے قدم اٹھائے گئے اور اس کو پھر بڑھایا گیا۔ 90 کی دہائی میں دو بار ن لیگ اور دو بار پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اس سے یہ رجحان ذرا دب گیا لیکن پرویز مشرف نے آ کر پھر سے اسے ہوا دی۔ اس نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مذہبی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کو حکومتیں دیں اور ان کی نشستوں کی تعداد ایک درجن سے بڑھ کر 67 پر چلی گئی”۔
خواجہ آصف نے کہا کہ انتہا پسندی کو پھیلانا یا مذہب کو بنیاد پرستی کی طرف لے جانا کوئی دین کی خدمت کے لئے نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا مقصد اپنی طاقت بڑھانے اور سیاست چمکانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن کے قتل کا واقعہ میرے حلقے میں پیش آیا ہے اور اس فیکٹری کے زیادہ تر لوگ بھی میرے حلقے کے ہی رہائشی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی اس واقعہ کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ عوام اس طرح آنکھیں بند کر کے بنیاد پرستی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں ذرا بھی شرم نہیں آتی
خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ کیا یہ متشدد رویہ آپ کے حلقے میں کیوں زیادہ ہے کیوں کہ اس سے پہلے 2018 میں بھی سیالکوٹ میں آپکے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی اور نارووال میں وزیرِ داخلہ احسن قبال کو گولی ماری گئی؟ جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 2018 میں انہوں نے اور تحریکِ انصاف کے مخالف امیدوار نے کل ملا کر 2 لاکھ 30 ہزار ووٹ لیے تھے جب کہ تحریکِ لبیک کا اس حلقے میں ووٹ قریب 11 ہزار تھا۔ اسی طرح 2013 کے الیکشن میں بھی تین امیدواروں نے مل کر تقریباً 2 لاکھ ووٹ لیے اور مذہبی جماعتوں کے ووٹ نہ ہونے کے برابر تھے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا دین ہے، یہ احترامِ آدمیت سکھاتا ہے۔ ہم نے سری لنکن شہری کا قتل کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام امن کا نہیں بلکہ تشدد کا دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند مذہبی عناصر کو روکنے کے لیے ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے اعمال کی قیمت قوم کے بچے یوں ہی ادس۔کرتے رہیں گے۔
