کیا پی ٹی وی کو پرائیویٹ چینلز کی خاطر تباہ کیا گیا؟
سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلیویژن کے عروج و زوال کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ پرائیوٹ چینلز کا راستہ ہموار کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت پی ٹی وی کو برباد کیا گیا ہے تاکہ نجی چینلز کے لئے جگہ بن سکے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں جیتی ہوئی جنگ پی ٹی وی کب سے ہار چکا ہے۔ پی ٹی وی سکرین کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب سے زیادہ قصور ان سیاسی اور آمرانہ حکومتوں کا بھی ہے جو پی ٹی وی کی نیشنل سکرین کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہیں اور اسے محض ایک حکومتی ماوتھ پیس بنادیا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ ہر حکومت کا فرض تھا کہ وہ پی ٹی وی کے سابقہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرتی اور سفارشی عناصر کو مسترد کرتی لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ اگر پی ٹی وی کے معیار کو برقرار رکھا جاتا تو پرائیویٹ چینلز کے پنپنے کے مواقع مفقود ہو جاتے ۔ اس سازشی مفروضے کو یوں تقویت ملتی ہے کہ ہر پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پیچھے وہ افراد موجود ہوتے ہیں جن کا براہ راست تعلق حکومتوں اور فیصلہ کرنے والی قوتوں سے ہوتا ہے۔
سنیئر شوبز صحافی طاہر سرور میں بی بی سی کے لیے ایک تحریر میں یاد لاتے ہیں کہ پاکستان میں ٹی وی نشریات 26 جنوری 1964 میں شروع ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں فلم بھی بن رہی تھی،ریڈیو کی نشریات بھی عوام میں مقبول تھیں اور نان پروفیشنل بنیادوں پر تھیٹر پر بھی بہترین کام کیا جا رہا تھا۔اگرچہ ٹیلی ویژن ایک مختلف تکنیک کا حامل میڈیم تھا مگر سکرین کو سجانے کے لیے یہاں اداکاروں، صداکاروں، گلوکاروں، موسیقاروں، سازندوں، ہدایتکاروں اور تکنیک کاروں کی بڑی کھیپ تیار تھی۔اپریل 1964 میں اس وقت کی حکومت نے ٹیلی ویژن پلاننگ سیل قائم کیا اور اسلم اظہر کو پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا پروگرام ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا جو ریڈیو اور تھیٹر کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ وہ ٹی وی میڈیم سے نا آشنا تھے۔ان کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے فضل کمال، کراچی آرٹس کونسل سے ذکا درانی اور ایرانی ٹیلی ویژن پر پروڈکشن کے کام سے واقف نثار حسین کو ان کی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا۔
1964 میں ملک کے پہلے ٹی وی سینٹر کے افتتاح کے چند ہی ماہ میں اسلم اظہر کی ٹیم سرکاری ٹی وی متعارف کروانے میں کامیاب رہی۔اگرچہ پی ٹی وی کو بے سروسامانی، تجربے اور سہولتوں کے فقدان کا سامنا رہا مگر وقت کے ساتھ کام میں پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری آتی رہی۔ پی ٹی وی کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسے شروع میں ہی مخلص اور ٹیلنٹڈ لوگ نصیب ہوئے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ مشکل ترین ٹاسک کو بھی اپنے ہنر اور ارادوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔ پی ٹی وی پٹڑی پر چڑھ چکا تھا اور ملک کا بہترین ٹیلنٹ اس کی کامیابی کے لیے کوشاں تھا۔
پی ٹی وی نے انتہائی مختصر عرصے میں جو کامیابی حاصل کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ 1964سے 1969 تک کے مختصر عرصے میں پی ٹی وی کے چار مزید سینٹرز معرض وجود میں آ چکے تھے مگر پچھلی صدی کے آخری عشرے میں نہ جانے پی ٹی وی کو کس کی نظر کھا گئی۔پی ٹی وی لاہور سینٹر کی عمارت، راہداریاں، پروڈیوسرز کے کمرے، میک اپ رومز اور سٹوڈیوز فنکاروں سے بھرے ہوا کرتے تھے۔ ایک ایک سٹوڈیو میں دو سے تین پروگرامز کے سیٹس لگے ہوتے تھے۔ ایک کے بعد دوسرے پروگرام کی ریکارڈنگز ہورہی ہوتیں۔لیکن یہ کیا ہوا کہ جہاں یاور حیات، راشد ڈار، اعظم خورشید، محمد نثار حسین، ایوب خاور جیسے پروڈیوسر بیٹھا کرتے تھے وہاں اب نامعلوم اصحاب براجمان ہیں جن کے کریڈٹ پر کوئی بڑا پروگرام نہیں ہے۔
بقول طاہر سرور میر، وقت کی ستم ظریفی ہے کہ منظر یوں بھی بدل جایا کرتے ہیں۔ راہداریوں میں کوئی بڑا آرٹسٹ دکھائی دے بھی جائے تو کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے نہیں بلکہ سابقہ برسوں کے معاوضے کے چیکس کے حصول کے لیے وہاں آیا ہوتا ہے۔ فنکاروں کے معاوضوں کے سالہا سال کے چیکس رُکے ہوئے ہیں جس سے فنکار بد دل ہو کر پی ٹی وی پر کام کرنے کو گھاٹے کا سودا سمجھتے ہوئے ادھر کا رُخ ہی نہیں کرتے۔دوسری جانب عوام نے اپنے پہلے من پسند ٹی وی چینل کو اس کی گھٹیا کارکردگی پر نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کا واضح جھکاؤ نجی چینلز کی جانب ہے۔حکومتیں پی ٹی وی کی تباہی کا ذکر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتیں۔ پی ٹی وی ڈرامہ، موسیقی، سٹیج پروگرام اور مزاحیہ پروگرام سب ایک ساتھ زوال پا ہیں۔
طاہر سرور میر کہتے ہیں کہ پی ٹی وی جیتی ہوئی بازی جیت کر ہار گیا۔ اس نے یہ جنگ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں جیتی تھی اور ہارا وہ اس وقت ہے جب اس کے پاس وسائل بھی ہیں اور اگر وہ چاہے تو موجودہ ٹیلنٹ سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن اگر وہ چاہے تو۔۔۔ پی ٹی وی جیتی ہوئی بازی کیوں کر ہارا۔ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی پہلے انڈین ٹی وی ڈرامے اور بعد ازاں پاکستانی نجی ڈرامے سے ہارا ہے؟ پی ٹی وی پر دکھایا جانے والا مواد وقت کی رفتار، ضروریات، جمالیات اور موضوعات ناظرین کو اپنے ساتھ باندھنے میں بُری طرح ناکام ہوا۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ حکومت کا پی ٹی وی کی کامیاب پیش قدمی کو روکنا پرائیویٹ چینلز کی بقا کا معاملہ ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے پی ٹی وی میں ایسے افراد کو ملازمتیں دلوائیں جس کے وہ اہل نہیں تھے۔ کیا پی ٹی وی کے پرانے اور تجربہ کار پروڈیوسرز کی ریٹائرمنٹ سے معیار برقرار نہیں رہ سکا؟ فنکاروں کے معاضوں کی ادائیگی کو روک دینا کیا فنکاروں کو حکومتی ٹی وی چینل سے بد دل کرنے کی سازش نہیں؟
طاہر سرور میر کہتے ہیں کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی وی سکرین کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب سے زیادہ قصور ان سیاسی اور آمری حکومتوں کا بھی ہے جنھوں نے پی ٹی وی کی نیشنل سکرین کی حفاظت کی ذمہ داری نہ نبھائی۔حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ پی ٹی وی کے سابقہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرتیں اور سفارشی عناصر کو مسترد کرتی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ علاوہ ازیں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے میں ان افراد یا فنکاروں کے معاوضوں کی ادائیگی کو روک دینا بھی حکومتوں کا نالائقی اور مجرمانہ فعل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں ذرا بھی شرم نہیں آتی
اس خیال کو بھی تقویت حاصل رہی کہ اگر پی ٹی وی کے معیار کو برقرار رکھا جاتا تو پرائیویٹ چینلز کے پنپنے کے مواقع مفقود ہو جاتے کیونکہ نئے چینلز کا براہ راست مقابلہ پی ٹی وی جیسے حکومتی چینل سے ہوتا جس کے تجربے اور ریاضت میں کوئی شک نہ تھا اور ہر پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پیچھے وہ افراد موجود ہوتے ہیں جن کا براہ راست تعلق حکومتوں اور فیصلہ کرنے والی قوتوں سے ہوتا ہے۔
