شراب لائسنس کیس: سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل گرفتار

سابق ڈی جی نیب اکرم اشرف گوندل کو نیب لاہور نے گرفتار کرلیا ہے، اشرف گوندل کو نجی ہوٹل کو غیرقانونی جاری شراب لائسنس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، اشرف گوندل انکوائری کیلئے متعدد بار نیب میں پیش ہوئے۔تاہم انھیں تسلی بخش جوابات نہ دینے پر گرفتار کیا گیاہے.
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف شراب لائسنس کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے. نیب لاہور نے سابق ڈی جی نیب اشرف گوندل کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف شراب لائسنس کیس میں حراست میں لے لیا ہے۔ اشرف گوندل اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے متعدد بار نیب میں پیش ہوئے۔ لیکن نیب کی تحقیقاتی ٹیم اشرف گوندل کے جوابات سے مطمئن نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل نے وزیراعلیٰ کے خلاف اہم گواہ بننے کےلیے نیب میں درخواست داخل کی تھی۔
شراب لائسنس اجراء کیس میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرام اشرف گوندل کی گرفتاری کے بادل گزشتہ ماہ سے ہی ان پر منڈلا رہے تھے۔ نیب کے مطابق تمام دستاویزی ثبوتوں میں لائسنس اجراء کی اجازت پر اکرام اشرف گوندل کے دستخط موجود ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور سابق پرنسپل سیکرٖٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی کے دستخط کسی بھی سرکاری دستاویز پر موجود نہیں ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق اکرام اشرف گوندل نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست میں تحریر کیا تھا کہ ڈاکٹر راحیل سے اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ مبینہ طور پر سات کروڑ روپے کی رشوت وصولی کس کے کہنے پر ہوئی؟ ادھر نیب کے سوالنامے پر جمع کرائے گئے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے موقف اپنایا تھا کہ میرا، صوبائی چیف سیکریٹری یا ان کے پرنسپل سیکرٹری کا شراب لائسنس کی منظوری میں کوئی کردار نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف شراب لائسنس کیس کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ 20 دسمبر 2018 کو شراب لائسنس کے معاملے کا آغاز ہوتا ہے۔ شراب لائسنس کیلئے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے منظوری دی ہے، سیکرٹری ایکسائز شیرعالم نے لائسنس منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو خط لکھا۔ ڈی جی ایکسائز معاملے کو اختیارات کے مطابق دیکھیں۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی جی ایکسائز نے جلد بازی میں لائسنس جاری کیا، میسرزیونیکارن کو 6 ماہ کیلئے شراب لائسنس جاری کیا گیا، 9 جنوری 2019 کو ڈی جی ایکسائز نے میسرزیونیکارن کو شراب لائسنس جاری کیا،22 جنوری 2019 کو سیکرٹری ریگولیشنز نے کہا چیف سیکرٹری کی ہدایت پرعمل کیا جائے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب نے پیشی کے دوران نیب کو اپنے جواب میں کہا کہ شراب لائسنس جاری کرنا ڈی جی ایکسائز کی ذمہ داری ہے،چیف سیکرٹری نے بھی کہا کہ لائسنس کا اجرا متعلقہ افسر کا کام ہے۔ 8 جنوری 2019ء کو ڈی جی ایکسائز نے مجھے دوسری بار سمری بھیجی،اس وقت تک لائسنس کا اجرا ہو چکا تھالیکن چیف سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز نے معاملے کو چھپا لیا، بعد میں چیف سیکرٹری نے سمری پر لکھا کہ لائسنس کے اجرا ء میں احتیاط کی جائے۔عثمان بزدار کی جانب سے نیب کو دئیے گئے جواب میں کہا گیا کہ ڈی جی سے پوچھا جائے کہ انہوں نے بار بار وزیراعلیٰ کو سمری کیوں بھجوائی؟ قواعد وضوابط کے مطابق وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری کا بھی شراب لائسنس کے اجرا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ تاہم اب سابق ڈی جی ایکسائز اشرف گوندل کو گرفتار کر لیا گیا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button