شعیب اختر کا سرجری سے گھٹنا تبدیل کروانے کا فیصلہ

اپنی تیزرفتار بولنگ کے لیے مشہور 45 سالہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے گھٹنوں کا مسئلہ حل نہیں ہو پایا چنانچہ ڈاکٹر نے ان کو گھٹنا تبدیل کروانے کا مشورہ دیا ہے اور وہ ایسا کرنے پر مان گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 2019 میں انہوں نے بیرون ملک سے اپنے گھٹنوں کا آپریشن کروایا تھا لیکن اب دو برس بعد وہی مسئلہ ایک مرتبہ پھر کھڑا ہوگیا ہے اور انہیں بھاگنے کے دوران شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹرز نے انہیں گھٹنا مکمل طور پر تبدیل کروانے کا مشورہ دیا ہے۔
شعیب اختر نے چند روز پہلے جب سوشل میڈیا پر علاج کی خاطر بیرون ملک جانے اور آئندہ کبھی دوڑ نہ سکنے کے خدشے کا اظہار کیا تو انکے پرستاروں کی جانب سے جذباتی ردعمل کے ساتھ ساتھ ان کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔ اس سے پہلے شعیب اختر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغام میں کہا تھا کہ ’میرے دوڑنے کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ لہذا میں جلد ہی اہنے گھٹنے کی مکمل تبدیلی کے لیے میلبورن جا رہا ہوں۔
شعیب اختر کی ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والے صارفین نے ان کی مختلف تصاویر شیئر کیں، کسی نے ان کے کیریئر کے دوران کی یادیں تازہ کیں تو توقع ظاہر کی کہ وہ جلد صحتیاب ہوں۔ شعیب اختر کی جانب سے دی گئی اطلاع کی جذباتی نوعیت کی وجہ سے پاکستانی شائقین ہی نہیں بلکہ انڈیا میں کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے بھی متاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکے۔
پاکستانی کرکٹر کے کیریئر کا ذکر کرتے ہوئے ایک انڈین صارف نے ان کی جلد صحتیابی کی امید ظاہر کی تو لکھا کہ جب شعیب اختر بولنگ کرتے تھے تو وہ تب انڈین پلیئرز کی خیریت کے لیے تشویش کا شکار رہا کرتے تھے۔
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں شہرت پانے والے مختلف ناموں کے ساتھ شعیب اختر کو شامل کرنے والے شنکر چٹرجی نامی ٹویپ نے لکھا ’آپ پاکستان کے سب سے بہترین چار بولرز میں ایک ہیں۔ عمران، اکرم، وقار اور آپ ایسے چار ہیں جنہیں کھیلا نہیں جا سکتا۔‘ علاج کی غرض سے شعیب اختر کے آسٹریلوی شہر میلبورن پہنچنے کا ذکر ہوا تو وہاں مقیم ایک پاکستانی صارف نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے خواہش ظاہر کی انہیں میزبانی کا موقع دیا جائے۔ فاطمہ خالد نامی ٹویپ نے علاج میں آسانی کی امید اور جلد صحتیابی کی توقع ظاہر کی تو لکھا کہ ’اس گھٹنے نے قوم کی بھرپور خدمت کی ہے۔‘
شعیب اختر کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ صارفین نے پاکستان میں بھی ایسے مختلف طبی ماہرین اور مراکز صحت سے متعلق معلومات شیئر کیں جہاں ہڈیوں سے متعلق امراض کا علاج اور گھٹنوں کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ تاہم شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ اسی ڈاکٹر کے پاس گھٹنا تبدیل کروانے جارہے ہیں جس نے پہلے ان کی سرجری کی تھی۔
یاد رہے کہ اپنی برق رفتاری کی وجہ سے ’راولپنڈی ایکسپرپس‘ کا خطاب پانے والے شعیب اختر نے دسمبر 1997 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے کرکٹ کیرئر کا آغاز کیا تھا اور ٹیسٹ کیرئر میں انہوں نے 46 ٹیسٹ میچوں میں69ء25 کی اوسط سے 178 وکٹیں حاصل کیں تاہم کیرئیر کے آخری سالوں میں فٹنس مسائل نے انہیں محدود اوورز کی کرکٹ تک محدود کردیا تھا۔ وہ اپنا آخری ٹیسٹ دسمبر2007 میں بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلے تھے۔
شعیب اختر نے 163 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 97ء24 کی اوسط سے247 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 19 رہی۔
شعیب کا کیرئر ابتدائی برسوں میں ہی امپائرز کی جانب سے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراضات کے سبب ختم ہوتا ہوا دکھائی دینے لگا تھا تاہم وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کے بازو میں قدرتی طور پر ایک غیر معمولی خم کی وجہ سے ان کا بولنگ ایکشن دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ اپنے کیرئر میں فٹنس مسائل سے بھی دوچار رہے اور بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی مکمل سیریز کھیل پائے۔
شعیب کا کیرئر خاصا ہنگامہ خیز بھی رہا۔ 2003 میں سری لنکا میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوران بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے اور انہیں دو میچوں کی پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2006 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل وہ ڈوپنگ کی زد میں بھی آئے تاہم قوانین میں سقم کی وجہ سے ان کا کیرئر بچ گیا۔
فٹنس مسائل کے علاوہ ساتھ شعیب اختر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات کے ضمن میں بھی شہ سرخیوں میں رہے اور انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے پابندی اور جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2007 میں پہلے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی سے قبل شعیب اختر کو تب سزا کے طور پر وطن واپس بھیج دیا گیا جب انہوں نے اپنے ساتھی بولر محمد آصف کی بیٹ سے پٹائی کی تھی۔ 2008 میں کرکٹ بورڈ نے ان پر پانچ سالہ پابندی عائد کر دی کیونکہ انہوں نے سینٹرل کنٹریکٹ کے بارے میں کرکٹ بورڈ کی پالیسی پر تنقید کی تھی۔ تقہم پابندی کی یہ سزا بعد میں ستر لاکھ روپے جرمانے میں تبدیل کردی گئی۔
