شوآف ہینڈز سے سینٹ الیکشن کروانے پر کپتان حکومت کا یوٹرن

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سینٹ کے الیکشن میں خفیہ ووٹنگ کی بجائے شو آف ہینڈ کا طریقہ کار اپنانے کے اعلان پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسے غیر آئینی قرار دے کر شدید تنقید کے بعد اب کپتان حکومت نے حسب معمول اس معاملے پر بھی یوٹرن لے لیا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اب یہ کہا ہے کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ انتخابات ممکن نہیں اسلیے حکومت سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ کی جگہ اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانا چاہتی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ ‘حکومت نے سینیٹ انتخابات کا انعقاد شو آف ہینڈ سے کرانے کا کبھی نہیں کہا، حکومت سینیٹ انتخابات سیکرٹ بیلٹ کی جگہ اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانا چاہتی ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ کا انتخاب ممکن نہیں، ہم نے تجویز دی ہے کہ بیلٹ پیپر اوپن ہونا چاہیے تاکہ بعد میں دیکھا جاسکے’۔
واضح رہے کہ حکومتی وزرا یہاں تک کہ وزیر اعظم عمران خان بھی کئی مواقع پر مارچ میں شیڈول سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کے ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور رشوت چلتی ہے، ہم نے دو چیزوں کا فیصلہ کیا ہے، پہلا یہ کہ سینیٹ الیکشن جلدی کرائیں گے، دوسرا ہم سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز کی طرف جارہے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ اٹارنی جنرل کی سفارش پر وزیراعظم عمران خان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے اور اسکی رہنمائی لے تاکہ سینٹ کا الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے فروری کے مہینے میں کروایا جا سکے۔
قبل ازیں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اگر سینیٹ میں سپریم کورٹ نے شو آف ہینڈز کے حق میں فیصلہ دے دیا تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور یہ ایک انقلابی فیصلہ ہوگا۔ قبل ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران شبلی فراز نے کہا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے شو آف ہینڈز کے ذریعے ہم سینیٹرز کا انتخاب کروانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی قیادت نے وزیراعظم کے شو اینڈ کے فارمولے کو مسترد کر دیا تھا۔ سب سے پہلے بلاول بھٹو نے اس تجویز کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کیا تھا جس کے بعد مولانا فضل الرحمن اور پھر مریم نواز نے بھی ایک پریس کانفرنس میں شو آف۔ہینڈ کی تجویز کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حسب معمول وزیراعظم کو کابینہ کے اجلاس میں ایک بھونڈا اور ناقابل عمل مشورہ دیا گیا جسکو انہوں نے سوچے سمجھے بغیر مان لیا اور پھر وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کی تشہیر بھی کردی۔ بعد میں جب حکومت کو اندازہ ہوا کہ یہ تجویز تو آئین اور قانون کے منافی ہے تو اٹارنی جنرل کے ذریعے اس سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ کپتان حکومت کو فروری میں وقت سے پہلے سینیٹ کے الیکشن کروانے کی تجویز سے بھی پیچھے ہٹنا پڑے گا کیونکہ آیئن اور قانون اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار عمار مسعود کے خیال میں عمران حکومت اس وقت عجلت اور غفلت دونوں کا شکار ہے اور اسی وجہ سے پہلے غلط فیصلوں کا اعلان کرتی ہے اور پھر ان پر یوٹرن لے لیتی ہے۔ انکے خیال میں کپتانی عجلت کی ایک جھلک سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز کی قدغن لگانے کے اعلان سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے موقع پر گزشتہ برس خفیہ رائے دہی کا طریقہ اپنایا گیا تھا جس نے سنجرانی کو بچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اس وقت کسی کو شو آف ہینڈز کا طریقہ یاد نہیں آیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اب جبکہ سینٹ الیکشن قریب ہیں اور اپوزیشن تحریک زوروں پر ہے تو حکومت کو یہ ڈر پڑ گیا ہے کہ اس کے ممبران اسمبلی ایوان بالا کے الیکشن میں اپنی وفاداریاں بدل کر دوسری جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دے سکتے ہیں چناچہ شو آف ہینڈ کی غیر قانونی اور غیر آئینی تجویز پیش کی گئی۔
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پچھلے برس سے اب تک حکومت کی ناکامی ثابت ہو کر سامنے آچکی ہے اور اب حکومت کے اتحادی نھیبخاموش ہیں اور اسکا دفاع نہیں کرتے۔ ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی دل برداشتہ ہیں۔ عمار مسعود کے مطابق پنچھی پھر اڑان بھرنے کو تیار ہیں۔ ق لیگ، جی ڈے اے اور ایم کیو ایم جیسی کمزور بنیادوں پر کھڑی یہ حکومت لرزہ براندام ہے۔ اس وقت حکومت کو جتنی ضرورت اپنے اتحادیوں کی تھی پہلے کبھی نہیں تھی۔
لیکن اس کڑے وقت میں تمام اتحادی منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ اور سینیٹ الیکشن میں بھی اسی ردعمل کی توقع ہے۔ انکے خیال میں اپوزیشن اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ اب ’انتقام کا بدلہ‘ لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ کوئی جماعت مذاکرات کی حکومتی پیشکش قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اب معاملات بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ اب اپوزیشن کے ہدف کا تعین ہو چکا ہے۔ تیر کمان سے نکل چکے ہیں۔ اب صرف اس حکومت کے گرنے کا تماشا دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں اپوزیشن لانگ مارچ کرنے پر مصر ہے اور جنوری تک استعفے دے دیے جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید اس کے بعد سینیٹ الیکشن کی نوبت ہی نہ آئے۔
حکومت کو گرانے کا پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن بڑی تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے جس کے بعد حکومت کے پاس نئے الیکشن کروانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ بچے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے، اتحادی خاموش رہیں اور حکومت گر جائے۔ ایک تیسرا امکان فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ اگر اس کیس کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آ جاتا ہے تو صرف وزیرِاعظم ہی نہیں بلکہ انکی جماعت پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب تک کپتان حکومت کو سہارا دے کر کھڑا رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ بھی حکومت کی ناکامی ترین پرفارمنس کے باعث اب اپنے ہاتھ کھڑے کئے ہوئے ہے۔ لیکن حکومت کو احساس نہیں کہ اس کے ’خیر خواہ‘ خود مشکل کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے نام لے کر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بات اب ڈرائنگ روموں سے نکل کر گلی محلے تک پہنچ گئی ہے۔ آپ کسی چھابڑی والے سے بھی پوچھ لیں کہ حکومت کیسے معرض وجود میں آئے وہ اپ کو درست جواب دے گا۔
جلسوں کی ایسی تقاریر اگرچہ ٹی وی پر میوٹ کر دی جاتی ہیں مگر سوشل میڈیا پر قدغن نہیں لگ سکتی۔ نواز شریف نے اپنی ہر تقریر میں یہ بات کہی ہے کہ وہ فوج کے ادارے کا احترام کرتے ہیں۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی کی عزت کرتے ہیں۔ ان کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں۔ ان کا مسئلہ ادارے کے ساتھ ہے بھی نہیں وہ کرداروں کی بات کرتے ہیں۔ اب گفتگو صرف علامانہ اور جمہوری فلسفے کی نہیں رہی۔ اب نام لیے جا رہے ہیں۔ مریم نواز نے عمران خان کے2011 کے جلسے کی کامیابی کا سہرا ایک جلسے میں جنرل پاشا اور جرنل ظہیر الاسلام کے سر باندھا۔ ججوں کے نام بھی سرعام لیے گئے۔ بات اب سب تک پہنچ گئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ چاہے کتنی بھی پردہ پوشی کرے اب کوئی پردہ بچا نہیں ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ ایک نااہل کپتان کو حکومت کی باگ دوڑ سونپ کر انکی جان عذاب میں ڈالنے والی قوتیں اور چہرے کونسے ہیں؟
