کیا وزیر اعظم اورالیکشن کمشنر مل کر کھیل رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ کے الیکشن آئندہ برس مارچ کے بجائے فروری میں کروانے کے اعلان کے فوری بعد الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 8 نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سینٹ کے الیکٹورل کالج کو مکمل کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے یوں لگتا ہے جیسے چیف الیکشن کمشنر وزیراعظم عمران خان سے ہدایات لے کر چل رہے ہیں کیونکہ پہلے انہوں نے خود کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث یہ الیکشن 31۔جنوری تک ملتوی کئے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کا یہ موقف تھا کہ ضمنی الیکشن کرونا وبا کے خاتمے کے بعد ہی کروائے جائیں گے۔
اس ضمن میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ خود وزیر اعظم عمران خان روزانہ ڈھول پیٹتے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وبا کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، اچانک الیکشن کمیشنر کو ضمنی الیکشن کروانے کا خیال کیسے آ گیا۔ یوں لگتا ہے کہ چیف لیکشن کمیشنر کے اس فیصلے میں وزیر اعظم کی مرضی شامل ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ تاثر بھی پختہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آزادانہ کام کرنے کی بجائے حکومت کی مرضی سے چل رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے خلاف پچھلے کئی برسوں سے تعطل کا شکار فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی نہیں آ سکا۔ اس کیس کا فیصلہ آنے کی صورت میں وزیراعظم اور ان کی جماعت دونوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ضمنی انتخاب کروانے کا فیصلہ سینیٹ کے الیکشن کے لیے الیکٹورل کالج کی تکمیل کی راہ ہموار کرے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسبملی کی 2 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 6 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ان میں سندھ میں صوبائی اسمبلی کے 3 حلقے جبکہ دیگر تینوں صوبوں میں ایک ایک اور خیبرپختونخوا اور پنجاب میں قومی اسمبلی کا ایک ایک حلقہ شامل ہے۔قومی اسمبلی کی جن 2 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہونا ہے اس میں این اے-75 سیالکوٹ اور این اے-45 کرم ایجنسی شامل ہے۔صوبائی اسبملیوں کی جن نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا ان میں سندھ کے حلقے پی ایس-52 عمر کوٹ، پی ایس-88 ملیر اور پی ایس-43 سانگھڑ جبکہ پی پی-51 گوجرانوالہ، خیبر پختونخوا میں پی کے-63 نوشہرہ اور بلوچستان میں پی بی-20 پشین شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے یکم دسمبر کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ 31 جنوری 2021 تک کوئی بھی زیر التوا ضمنی انتخاب نہیں کروایا جائے گا۔ حکومت کا خیال ہے کہ ان نشستوں پر ضمنی الیکشن کی صورت میں فائدہ تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں ہی اٹھائیں گی۔ تاہم اپوزیشن حلقوں کو امید ہے کہ حکومت مخالف تحریک کے دوران قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی الیکشن کے نتیجے میں فائدہ حکومت سے زیادہ اپوزیشن کو ہو گا۔
