شہباز شریف نے بیرون ملک جانے سے روکنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

لاہور ہائیکورٹ کی اجازت کے باوجود بیرون ملک سفر کرنے سے روکنے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی۔
شہباز شریف نے اپنے وکیل امجد پرویز کی وساطت سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے علاج کے لیے ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی، عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ 8 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت ہے تاہم عدالتی حکم کے باوجود ائیر پورٹ پر روک دیا گیا۔ان کا مؤقف تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔اس کے علاوہ شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے متفرق درخواست بھی دائر کی۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی طور پر ایئر پورٹ پر روک لیا گیا، عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کروانے کے لیے احکامات جاری کرے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد 8 مئی کو فلائٹ کے لیے لاہور ایئرپورٹ پر بورڈنگ پاس جاری کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ انسپیکٹر امیگریشن نے بتایا پی این آئی ایل میں نام کی وجہ سے وہ بیرون ملک نہیں جا سکتے لیکن ایئرپورٹ حکام نے تحریری طور پر کچھ نہیں دیا۔درخواست میں کہا گیا کہ 7 مئی کو عدالت عالیہ نے سرکاری وکیل کی موجودگی میں بیرون ملک جانے کی اجازت کا حکم جاری کیا، عدالت عالیہ کا حکم ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن کو بھی دکھایا گیا، عدالت کا حکم نہ ماننا توہین عدالت ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالتی حکم نہ ماننے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ 7 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو 8 مئی سے 3 جولائی تک کے لیے علاج کی غرض سے لندن جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔جس کے بعد وہ اگلے روز براستہ دوحہ لندن جانے کے لیے قطر ایئرویز کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے۔تاہم ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں بتایا کہ چونکہ ان کا نام پروویژنل نیشلن آئڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں ہے اس لیے وہ پرواز پر سوار نہیں ہوسکتے۔خیال رہے کہ پی این آئی ایل، ایف آئی اے کی مرتب کردہ فہرست ہے جس میں وزارت داخلہ سے عارضی پابندی کا شکار افراد کے نام درج ہوتے ہیں۔ایف آئی اے نے شہباز شریف کو بتایا کہ انہیں عدالتی حکم کے ذریعے اپنا نام اس فہرست سے نکلوانے کے لیے اس کے ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کرنا ہوگا۔
دوسری جانب حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تصدیق کی۔ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں نام ای سی ایل میں ڈالنے کی وجوہات بھی درج کی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ نیب ریفرنس کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے، اس پر احتساب عدالت میں جرح جاری ہے، شہبازشریف کو ملک سے باہر بھیجنے سے ٹرائل تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے، ان پر منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات کا 7 ارب روپے کا کیس ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیاہےکہ آئین کےآرٹیکل 25 کے تحت مقدمے میں ایک ملزم کےساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوسکتا، حکومت کے پاس ایسی کوئی دستاویزات نہیں جس سے ثابت ہو کہ شہباز شریف کو میڈیکل علاج کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل ٹوئٹر پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی اطلاع دی۔ فواد چوہدری نےکہا کہ ‏کابینہ کی منظوری اور قانونی ضابطے مکمل ہونے پر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اور اس حوالے سے ریکارڈ بھی اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے۔ واضح رہےکہ شہباز شریف نے بلیک لسٹ میں نام موجود ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم گزشتہ ہفتے بیرون ملک روانگی کے لیے جب شہباز شریف لاہور ائیرپورٹ پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جس پر اپوزیشن لیڈر واپس گھر روانہ ہوگئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button