شہباز شریف ہائبرڈ نظام کی وکالت کیوں کر رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ مئی 2023ء میں پروجیکٹ عمران ختم ہو گیا لیکن کاروبارِ شب نگاراں بدستور جاری ہے۔ ہماری تاریخ عمران خان سے شروع ہوئی اور نہ ان پر ختم ہوسکتی ہے۔ طوفان اپنے پیچھے ملبہ چھوڑ گیا ہے. شہباز شریف ہائبرڈ ماڈل کی وکالت کرنا چاہتے ہیں مگر وکالت نامہ ان کے پاس نہیں۔ اختیار کا سرچشمہ عوام کو منتقل نہیں ہوا پارلیمنٹ کو بے معنی اور ذرائع ابلاغ کو گنگ کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ کی ساکھ پر سوال ہیں . وجاہت مسعود اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ہماری پارلیمنٹ نے مسلسل تیسری بار اپنی میعاد مکمل کر لی۔ 2008 ء میں منتخب ہونیوالی پارلیمنٹ کے خدوخال لیاقت باغ پنڈی کے باہر بینظیر بھٹو کے لہو سے مرتب ہوئے تھے۔ ورنہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کے مطابق ایک بار پھر قاف لیگ کو کامیابی دلائی جانا تھی۔ پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آکر بہت سے گناہ کئے۔ بنیادی فرد جرم میں اٹھارہویں آئینی ترمیم، کیری لوگر بل اور قومی اسمبلی کے فلور پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایک جملہ تھا۔ ’ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں کی جائے گی‘۔ اس جملے سے 30 اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان پر تحریک انصاف کا جلسہ ہوا۔ 2013ءکی انتخابی مہم شروع ہوئی تو پنجاب میں پیپلز پارٹی کو امیدوار ہی نہیں میسر تھے۔ اے این پی کے سینکڑوں کارکن اور رہنما طالبان کے ہاتھوں شہید کئے گئے۔ ایم کیو ایم کو بھی ایسی ہی مشکلات درپیش تھیں۔ اسکے باوجود مئی 2013 میں حسب خواہش نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ جہانگیر ترین نے مدت بعد نشان دہی کی کہ تحریک انصاف کے بیشتر امیدوار تو کہیں چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے تھے۔ تاہم چابکدست ہاتھوں میں تشکیل پانے والا کچی مٹی کا گھڑا بدستور موجزن رہا . وجاہت مسعود کا کہناہے کہ ستمبر 2013ء میں سپریم کورٹ کے ایک حکم کی تعمیل کی پاداش میں لندن میں ملاقات ہوئی۔ 126 روزہ دھرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ چار حلقے کھولنے کا مطالبہ ہوا۔ یہ مطالبہ پورا ہنہیں ہو سکتا تھا ۔ بات نہیں بن سکی ۔ پانامہ پیپرز کے436 نامزد افراد سے ایک نام منتخب ہوا۔ لغو قرار دی گئی درخواست کو جھاڑ پونچھ کر اٹھایا گیا اور پاناما سے اقامہ برآمد ہو گیا۔ سیرل المیڈا کی ایک خبر کی آڑ میں پرویز رشید کو قربان کیا گیا۔ 2018ء میں ہماری تاریخ کی سب سے غیر شفاف انتخابی مشق ہوئی۔ درجنوں کٹھ پتلیوں نے ترنگا طوق پہنا۔ آر ٹی ایس بیٹھ گیا۔ مویشی منڈی کی رونق جہازوں میں بھر کے اسلام آباد پہنچائی گئی۔ میڈیا فتح کرنے والوں نے قرآنی آیات ٹویٹ کر کے مفتوحہ رعایا کو کھلے پیغام دیے لیکن ایک صفحے کے دوغلے گھوڑے نے قدم اٹھانے سے پہلے ہی دانت نکال دیے۔ وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ اپریل 2019 ء میں اسد عمر کو وزارت خزانہ سے فارغ خطی ملنا پہلا اشارہ تھا۔ کووڈ نے ایک برس کی مہلت بہم پہنچائی۔ 2022ءمیں قوم کو فروری 2021 میں ہونے والے ایک فیصلے سے مطلع کیا گیا۔ قوم لیکن جانتی ہے کہ معاشی، سیاسی اور سفارتی ناکامیوں کے باوجود دستور سے انحراف کا ’ون پیج‘ محلاتی سازشوں کے نتیجے میں چاک ہوا۔ مئی 2023ء میں پروجیکٹ عمران ختم ہو گیا لیکن کاروبارِ شب نگاراں بدستور جاری ہے۔ ہماری تاریخ عمران خان سے شروع ہوئی اور نہ ان پر ختم ہوسکتی ہے۔ طوفان اپنے پیچھے ملبہ چھوڑ گیا ہے۔ شہباز شریف ہائبرڈ ماڈل کی وکالت کرنا چاہتے ہیں مگر وکالت نامہ ان کے پاس نہیں۔ یہ دستاویز پاکستان کے عوام کی ملکیت ہے ۔ 1977ءمیں زیر تعلیم بچے اب فیصلہ ساز مناصب کو پہنچ چکے۔ اس نسل کا سیاسی شعور مفلوج ہے۔ انکا اجتماعی ذہن کارپوریٹ فارمنگ کو اپنی سیاسی تاریخ اور معاشی مستقبل سے جوڑ کر دیکھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ پارلیمنٹ کو بے معنی اور ذرائع ابلاغ کو گنگ کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ کی ساکھ پر سوال ہیں۔ خیمہ بدلنے والی مخلوق نے ترنگا طوق اتار کے وابستگی کی سرگوشی اوڑھ لی ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کیا بھاڑ جھونکے گا۔ اختیار کا سرچشمہ عوام کو منتقل نہیں ہوا اور اس کا مطالبہ کرنے والے بھی باقی نہیں رہے۔ قافلہ حجاز میں حسین ؓکی تلاش کیا کیجئے، کوئی حسین ؓکا ہم نوا بھی باقی نہیں۔ ہم تھوڑے تھے، اب مفقود ہو چکے ہیں۔

Back to top button