سہیل وڑائچ کا شہباز حکومت کے دن پورے ہونے کا دعوی

جیو نیوز کے معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ان کی پیش گوئی کے عین مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا دورِ عروج ختم ہو چکا ہے اور جولائی سے ان کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ ان کے بقول وہ تمام مسائل جو پٹاری میں بند تھے، ایک ایک کر کے کھل رہے ہیں۔ وزیر اعظم جتنا بھی جھک جائیں، جتنے بھی مٹ جائیں یا جتنے بھی بدل جائیں، انہیں تیزی سے گھیرنے والے مسائل بہت بڑے ہیں، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان مسائل سے بری الذمہ ہو پاتے ہیں یا نہیں۔
سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں اور ان کے دورِ حکومت کے دوران وفاقی حکومت کے فیصلے نہ کرنے، واضح سیاسی بیانیہ تشکیل نہ دینے اور معیشت کو مطلوبہ رفتار نہ دینے پر وہ خود متعدد بار اختلاف کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ان کی تنقید اور اختلاف کے باوجود ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ ملاقات کی اور براہِ راست ہونے والی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی مصروفیات دوسرے کرسی نشین سیاستدانوں سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم ملاقاتیں کرتے، اتحادیوں سے رابطے رکھتے، بیرون ملک دورے کرتے اور اقتدار کے مختلف مراکز سے رابطہ برقرار رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت کو درپیش سیاسی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ صورتحال میں محض مصروف رہنا حکومت کے بنیادی مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کی کارکردگی اور سیاسی ہم آہنگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کابینہ ایک ٹیم ہوتی ہے جسے کہ اجتماعی فیصلوں کے ذریعے ملک چلانا ہوتا ہے، مگر موجودہ وفاقی حکومت میں وزرا کے درمیان مختلف معاملات پر واضح اختلافات دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی نئے صوبوں کا حامی ہے تو کوئی مخالف، کوئی خاموش ہے جبکہ کوئی مسلسل اظہارِ خیال کر رہا ہے، جس سے حکومت کے اندر پالیسی اور سیاسی ترجیحات کے حوالے سے یکسوئی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو انتظامی صلاحیت رکھنے والا حکمران قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی حکومت اور کابینہ میں زیادہ نظم و ضبط پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے وزرا اور حکومتی ذمہ داران کو دی جانے والی زیادہ آزادی اب حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے اور کابینہ کو اجتماعی حکومتی پالیسی کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔
سہیل وڑائچ نے سیاسی حکمرانی میں ترجیحات کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں اگر بہت زیادہ معاملات بیک وقت اپنے ذمے لے لیں تو ان پر مؤثر توجہ دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق حکمرانوں کو محدود تعداد میں اہم سیاسی اور انتظامی معاملات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ فیصلوں پر عمل درآمد، نگرانی اور نتائج کا جائزہ مؤثر انداز میں لیا جا سکے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے اپنے سیاسی اور حکومتی مفادات کو ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیا ہے اور یہ تصور کرلیا ہے کہ موجودہ انتظام اس کی سیاسی پوزیشن اور اقتدار کو محفوظ رکھے گا، تاہم سیاسی حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور عوام اور منتخب نمائندوں کا ردعمل بھی حکومتی سیاست پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سیاسی و حکومتی رابطوں کے مسئلے کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ماضی میں شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حکام کو عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کا پابند بنانے کے لیے موبائل فون پر خود رابطہ کرنے کی پریکٹس شروع کی تھی، لیکن اب حکومتی عہدیداروں، صحافیوں، عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان رابطے کی وہ کیفیت برقرار نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل وزرا اور سیاسی عہدیداروں کا عوام، صحافیوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ رابطہ برقرار رہنا سیاسی جواب دہی کے لیے ضروری ہے۔ سہیل وڑائچ نے خبردار کیا کہ اگر حکومتی عہدیدار مسلسل عوامی اور سیاسی رابطے سے دور رہیں اور ہر تنقید یا سوال کا جواب ’مصروفیت‘ کو بنائیں تو اس کے سیاسی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت کو عوامی رابطے، سیاسی جواب دہی اور اندرونی نظم و ضبط پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کئی روز تک جاری رکھنے کا فیصلہ
سہیل وڑائچ نے وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی مستقبل کو درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جون میں لکھا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورِ عروج ختم ہوچکا اور جولائی سے زوال شروع ہوگا، ان کے مطابق اب حالات اسی سمت میں آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے گرد موجود مسائل ایک ایک کرکے سامنے آ رہے ہیں اور آنے والے عرصے میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ شہباز شریف اپنی حکومت کو ان بڑھتے ہوئے سیاسی مسائل سے کس طرح نکالتے ہیں۔
