پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کئی روز تک جاری رکھنے کا فیصلہ

تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ایک ہی روز میں ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے کئی دنوں تک جاری رکھا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق ملک بھر سے نکلنے والے احتجاجی قافلوں کو اپنا اپنا سفر مکمل کرنے کے بعد ایک ہی روز اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکے۔
اسکے علاوہ خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کے لیے بھی مرحلہ وار پیش قدمی کا نیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تمام قافلے پہلے صوابی پہنچیں گے اور بعد ازاں زمینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف خیبر پختونخوا چیپٹر نے حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت صوبے سے نکلنے والے قافلے پہلے ہی دن براہ راست اسلام آباد کا رخ نہیں کریں گے بلکہ موٹر وے کے ذریعے صوابی تک جائیں گے، جہاں پہنچنے کے بعد زمینی حالات کا جائزہ لے کر اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مارچ کی پیش رفت کو مرحلہ وار رکھنا ہے تاکہ احتجاج کئی روز تک جاری رکھا جا سکے اور حکومت کو دباؤ میں لایا جا سکے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے قافلے موٹر وے کے ذریعے صوابی تک جائیں گے اور اگر راستہ کلیئر اور حالات سازگار ہوئے تو انہیں صوابی سے ہری پور کی جانب روانہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد 28 ستمبر کو اسلا۔ آباد کی جانب راستوں کی دستیابی، انتظامی صورتحال اور مجموعی حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ قافلوں کو اسلام آباد کی طرف آگے بڑھایا جائے یا مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے کوئی دوسری حکمت عملی اختیار کی جائے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے چلنے والے قافلوں کی حکمت عملی میں یہ تبدیلی اسلیے کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کو ایک ہی دن میں اسلام آباد پہنچانے کے بجائے اس کی سرگرمیوں کو کئی دن تک جاری رکھا جائے۔ اس مرحلہ وار منصوبے کے تحت پارٹی قیادت کو راستے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینے اور اس کے مطابق اگلا قدم اٹھانے کی گنجائش حاصل رہے گی۔ پارٹی قیادت کی جانب سے صوابی اور ہری پور کو ابتدائی مراحل میں اہم مقامات قرار دیا گیا ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سیاسی اور انتظامی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ تحریک انصاف ایک طرف کارکنوں اور قافلوں کو منظم کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ دوسری جانب انتظامیہ کی سطح پر امن و امان، ٹریفک اور راستوں کی صورتحال کے حوالے سے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ پنجاب کی قیادت کو لانگ مارچ میں خصوصا بھرپور حصہ ڈالنے اور زیادہ سے زیادہ لوگ لے کر اسلام اباد پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک پارلیمنٹیرینز کے مطابق پنجاب سے پارٹی قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو مارچ کے حجم اور اسکی کامیابی کے حوالے سے اہم سمجھا جارہا ہے۔
اس سے پہلے تحریک انصاف کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کے طور پر منظم کیا جائے گا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو احتجاجی پروگرام میں شرکت کے لیے متحرک کیا جارہا ہے جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ یوں پارٹی ملک کے مختلف حصوں سے کارکنوں اور قافلوں کو احتجاجی پروگرام کا حصہ بنانے کی تیاری کررہی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا مطالبہ تسلیم کرلیا جاتا ہے تو لانگ مارچ ختم کردیا جائے گا۔ اس طرح تحریک انصاف نے احتجاجی سرگرمی کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ان کے مقدمات کی عدالتی کارروائی سے متعلق مطالبے سے بھی جوڑ دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اس معاملے کو احتجاجی پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
اسلام آباد پر کرینوں اور پٹرول بموں سے یلغار کا منصوبہ
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق 27 اور 28 ستمبر کو لانگ مارچ کی عملی سمت کا انحصار متعدد عوامل پر ہوگا جن میں قافلوں کی تعداد، کارکنوں کی شرکت، راستوں کی دستیابی، انتظامیہ کے اقدامات اور پارٹی قیادت کی موقع پر فیصلہ سازی شامل ہے۔ بالخصوص صوابی کے بعد ہری پور کی جانب پیش قدمی اور پھر اسلام آباد کی طرف جانے کا فیصلہ زمینی صورتحال کو دیکھ کر کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ احتجاج کے دوران انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی آمدورفت معمول پر رکھنے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے انتظامات کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اسکا احتجاج سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے کیا جارہا ہے اور کارکنوں کو اس میں شرکت کے لیے متحرک کیا جارہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کی کئی ناکام احتجاجی کالز کی طرح کیا 27 ستمبر کی لانگ مارچ کی کال بھی ایک بار ہھر ناکامی کا شکار ہوتی ہے یا کامیاب ہوتی ہے؟
