ڈیانا کی موت سے شہزادہ چارلس کی کونسی لاٹری نکلی؟

لیڈی ڈیانا کی ایک افسوس ناک کار حادثے میں موت کے تیس برس بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان کے سابق شوہر شہزادہ چارلس ان کی موت کے فوراً بعد اس قدر خوش و خرم دکھائی دے رہے تھے جیسے ان کی کوئی بہت بڑی لاٹری نکل آئی ہو۔ شہزادی لیڈی ڈیانا کے بھائی چارلس سپینسر نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’سوان سونگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ پیرس میں ڈیانا کی المناک کار حادثے میں موت کے چند گھنٹوں بعد جب شہزادہ چارلس نے ان سے فون پر بات کی تو انکا لہجہ دوسرے لوگوں کے برعکس غیر معمولی طور پر خوشگوار اور پُرجوش تھا اور انہیں اپنی اہلیہ کے بچھڑنے کا بظاہر کوئی غم نہیں تھا۔
ارل سپینسر کے مطابق ڈیانا کی موت کی خبر کے بعد ان کا فون مسلسل بج رہا تھا اور بیشتر افراد صدمے میں تھے، لیکن شہزادہ چارلس کی آواز انہیں بے حد خوش و خرم، جیسے کوئی لاٹری جیتنے والا شخص محسوس ہوئی۔ سپینسر کا کہنا ہے کہ تب بھی انہوں نے چارلس کے انداز کو غیر معمولی گردانا تھا جبکہ تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی وہ اس گفتگو کو اسی طرح یاد کرتے ہیں۔ تاہم یہ دعویٰ سپینسر کی ذاتی یادداشت اور ان کے نقطۂ نظر پر مبنی ہے، جسے بکنگھم پیلس نے براہ راست تسلیم نہیں کیا۔
سپینسر نے اپنی کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ شہزادہ چارلس نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کو صبح سویرے ان کے بیڈروم میں ان کی والدہ کی موت کی اطلاع دی تھی، تاہم سپینسر کے بقول اس گفتگو کا انداز اس سانحے کی شدت کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر رسمی اور بے تاثر محسوس ہوا۔ کتاب میں سپینسر نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ شہزادہ چارلس کے ذہن میں اس وقت ڈیانا کی موت کے صدمے کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آیا ہو گا کہ اب وہ اس خاتون سے شادی کر سکیں گے جس سے وہ محبت کرتے تھے۔
چارلس نے بعدازاں کیمیلا پارکر باؤلز سے 2005 میں شادی کی۔ سپینسر نے ڈیانا اور چارلس کی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی کئی نئے دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق 1981 میں شادی سے قبل ڈیانا نے منگنی ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم شاہی خاندان کے دباؤ کے باعث وہ ایسا نہ کر سکیں۔ سپینسر کا کہنا ہے کہ ڈیانا کو ایک موقع پر ایسا نیکلیس بھی ملا جو چارلس نے کیمیلا کے لیے خریدا تھا، جسکے بعد وہ شدید پریشان ہو گئی تھیں۔
سپینسر کے مطابق اس واقعے کے بعد ڈیانا نے منگنی ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن ان کے والد نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ شادی سے ایک روز قبل شہزادہ چارلس نے ڈیانا سے کہا تھا کہ وہ ان سے شادی تو کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ ان سے محبت نہیں کرتے۔
کتاب میں ڈیانا کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہی محل میں ایک تقریب کے دوران چارلس نے ان میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، جبکہ ایک اور موقع پر انہوں نے ڈیانا کے وزن سے متعلق ایسا تبصرہ کیا جس سے وہ مزید عدم تحفظ کا شکار ہوئیں۔ سپینسر کے مطابق ڈیانا کو کھانے سے متعلق شدید مشکلات کا سامنا تھا اور منگنی کے بعد ان کی یہ کیفیت مزید خراب ہوئی۔
سپینسر نے ڈیانا کی موت کے بعد ہونے والے جنازے کے انتظامات کے بارے میں بھی شاہی خاندان پر تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق شاہی خاندان نے جنازے کے معاملات میں ’تکبر کا مظاہرہ کیا جبکہ ڈیانا کے خاندان کی جانب سے سوگوار میوزک چلانے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔
سپینسر کے سب سے سنگین دعوؤں میں سے ایک شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے اپنی والدہ کے جنازے کے جلوس میں تابوت کے پیچھے پیدل چلنے سے متعلق ہے۔ سپینسر کے مطابق وہ اس فیصلے کے مخالف تھے کیونکہ ان کے خیال میں ڈیانا اپنے کم عمر بیٹوں کو اس تکلیف دہ عمل سے نہیں گزارنا چاہتی تھیں۔ اس معاملے پر ان کی شہزادہ چارلس سے فون پر شدید بحث بھی ہوئی۔ سپینسر کا دعویٰ ہے کہ اسی تلخ گفتگو کے دوران چارلس نے ان سے کہا کہ ’’یقین رکھیں، ہم سب جلد ہی ڈیانا کو بھول جائیں گے۔‘‘ سپینسر کے مطابق وہ اس جملے پر حیران رہ گئے اور انہوں نے فون بند کر دیا۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد بکنگھم پیلس نے غیر معمولی طور پر سخت ردعمل دیا ہے۔ محل کے ترجمان نے کہا کہ اصولی طور پر شاہی خاندان کتابوں پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم بادشاہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ قریبی عزیز کی موت کا غم انسان کی سوچ، فیصلے اور یادداشت کو اس انداز میں متاثر کر سکتا ہے جسے کئی برس بعد دوسرے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔ شاہی امور کی ماہر اور ’میجسٹی‘ میگزین کی چیف ایڈیٹر انگرڈ نے بکنگھم پیلس کے اس ردعمل کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق شاہی محل کی جانب سے اس نوعیت کا جواب اس لیے سامنے آیا ہو گا کہ بادشاہ ان الزامات سے پریشان ہوئے اور اپنے بیٹوں سمیت خاندان کے حوالے سے صورتحال کی وضاحت کرنا چاہتے تھے۔
52 سالہ جمائمہ نے 62 سالہ کیمرون سے دوسری شادی کیوں کی؟
ارل سپینسر کی کتاب رواں ماہ 22 ستمبر کو مارکیٹ ہونے والی ہے لیکن اس کے مختلف حصے برطانوی میڈیا میں پہلے ہی شائع کیے جا رہے ہیں۔ کتاب میں سپینسر نے اپنی بہن کی زندگی، شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات اور ان کی موت کے بعد پیش آنے والے واقعات کو اپنے ذاتی مشاہدات اور یادداشتوں کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔
یاد رہے کہ شہزادی ڈیانا اگست 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں 36 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ ان کی موت کے تقریباً 30 برس بعد سامنے آنے والی یہ یادداشتیں ایک مرتبہ پھر ڈیانا اور اس وقت کے شہزادہ چارلس کے پیچیدہ ازدواجی تعلق، شاہی خاندان کے اندرونی معاملات اور ان کی موت کے بعد ہونے والے فیصلوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہی ہیں۔
