شہزاد اکبر عرف شرلاک ہومز کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا


کپتان حکومت کے شرلاک ہومز مرزا شہزاد اکبر اور ان کے ایسٹ ریکوری یونٹ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست کے ذریعے ایسٹ ریکوری یونٹ کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کپتان حکومت کے سیف الرحمان قرار دیئے جانے والے بیرسٹر شہزاد اکبر کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججوں کی غیر قانونی طور پر جاسوسی کرنے پر ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران داخل کروائی گئی ایک درخواست میں جسٹس عیسی نے موقف اختیار کیا کہ میرے اور میرے خاندان بارے معلومات شہزاد اکبر کے ایسٹ ریکوری یونٹ نے غیر قانونی طریقے سے بذریعہ جاسوسی اکٹھی کی ہیں۔ جسٹس عیسی نے استدعا کی کہ ایسٹ ریکوری یونٹ اور اس کا چیئرمین دونوں غیر قانونی طریقے سے بنائے گئے لہذا غیر قانونی طریقے سے سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کے خاندان کی غیر قانونی جاسوسی پر شہزاد اکبر اور ان کے ایسٹ ریکوری یونٹ کو فوری طور پر غیر قانونی قرار دے کر ختم کرنے کا حکم جاری کرے۔
وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے اپوزیشن مخالف احتسابی بیانیے کو نواز شریف دور کے بدنام زمانہ احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمان کی طرح تندہی سے اگے بڑھانے والا بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر دراصل خود ایک مشکوک کردار ہے جس کے حسب نسب کے بارے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں تو چہ مگوئیاں جاری تھی ہی لیکن اب عدالتی حلقوں میں بھی اس شخص کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا سربراہ مقرر کرتے وقت مرزا شہزاد اکبر کے ذمہ بنیادی ٹاسک بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانا تھا لیکن حکومتی دستاویزات کے مطابق وہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ کے طور پر پچھلے دو برسوں میں خزانے سے پانچ کروڑ روپے سے زائد خرچ کر چکے ہیں لیکن باہر سے لوٹ ہوا ایک روپیہ بھی واپس نہیں لا سکے۔ تاہم شہزاد اکبر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی خزانے سے پچھلے دو برسوں میں جو بھی رقم خرچ کی ہے وہ پاکستان کا پیسہ لوٹنے والوں کے حوالے سے بیرون ملک سے معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں خرچ ہوئی ہے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں کے حوالے سے انفارمیشن اکٹھی کرنے کے علاوہ شہزاد اکبر سپریم کورٹ کے ججوں اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے بھی بیرون ملک سے معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹاسک ان کو حکومت پاکستان نے نہیں بلکہ ان خفیہ اداروں نے دیا تھا جو سپریم کورٹ کے کچھ باکردار اور باضمیر ججوں کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں جن میں جسٹس قاضی فائز عیسی سرفہرست ہیں۔ جسٹس عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں بھی شہزاد اکبر کی جمع کردہ معلومات کی بناید پر ہی کارروائی ہو رہی ہے تاہم اب جسٹس عیسی نے ایک درخواست میں ایسٹ ریکوری یونٹ کی تشکیل اور اس کے سربراہ کے طور پر شہزاد اکبر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ادارے کو ختم کرنے اور شہزاد اکبر کو گھر بھجوانے کی استدعا کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور ان کے فیملی ممبران کے اثاثوں بارے معلومات جمع کرنے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو بہروپیہ قرار دے چکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں صدر پاکستان کی طرف سے اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے حوالے سے شہزاد اکبر کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے انکی تقرری، اختیارات، شہریت اور اثاثوں سے متعلق 15 سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مرزا شہزاد اکبر کے پاس غیرمعمولی اختیارات ہیں جو ان کو خودمختار قانونی اداروں جیسے کہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور نادرا سے معلومات کے حصول میں مددگار ہیں۔انہوں نے شہزاد اکبر کے تقرر، ان کے اختیارات پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ معاون خصوصی کا حکومت چلانے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور سپریم کورٹ اس حوالے سے اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کی پوسٹ آئینی نہیں اور ان کو وزیرمملکت کے برابر درجہ دینا صرف مراعات کے لیے ہے۔ فائز عیسی نے مرزا شہزاد اکبر شہریت کے بارے میں بھی سوال اُٹھایا ہے اور کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ شہزاد اکبر کی شہریت کیا ہے اور کیا وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی اور کیا وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button